30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْــٴَـلُوْنَ(۲۳) (پ۱۷،الانبیاء: ۲۳ )
ترجَمۂ کنز الایمان:اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہو گا۔
ہزاروں اینٹوں کی تقسیم کی بہترین مثال
زید نے روپے کی ہزار اینٹیں خریدیں ، پانسو(500)مسجد میں لگائیں ، پانسو پاخانہ کی زمین اور قَدَمچوں (یعنیw.c.یاکُھڈی کے پائے جس پر پاؤں رکھ کر قضائے حاجت کے لئے بیٹھتے ہیں)میں۔ کیا اس سے کوئی اُلجھ سکتا ہے کہ ایک ہاتھ کی بنائی ہوئی ، ایک مِٹّی سے بنی ہوئی ، ایک آوے (بَھٹّی)سے پکی ہوئی ، ایک روپے کی مول لی(خریدی) ہوئی ہزار اینٹیں تھیں ، اُن پانسو میں کیا خوبی تھی کہ مسجِد میں صَرف(استِعمال) کیں؟ اوران میں کیاعیب تھا کہ جائے نَجاست(نَجاست خانے) میں رکھیں۔ اگر کوئی احمق اس(اپنے پلے سے اینٹیں خرید کرلگانے والے)سے پوچھے تو وہ یہی کہے گا کہ میری ملک تھیں میں نے جو چاہا کیا۔
بادشاہ سے الجھنے والے فقیر کو کوئی عقلمند نہیں کہتا
جب مَجازی(غیر حقیقی)جھوٹی ملک کا یہ حال ہے تو حقیقی سچی ملک کا کیا پوچھنا!ہمارا اور ہماری جان و مال اور تمام جہاں کا وہ ایک اکیلا پاک نرالا سچّا مالک ہے۔ اس کے کام ، اس کے احکام میں کسی کو مجالِ دَم زَدَن (دم مارنے کی جرأت) کیامعنی! کیا کوئی اس کا ہَمسر (ہم پلہ) یا اس پر افسر ہے جو اس سے’’ کیوں اور کیا‘‘کہے!مالک علَی الاِطلاق (یعنی مالکِمطلق ، ہر کام کا مالک و مختار)ہے ، بے اِشتِراک (ىعنى شرکت سے پاک) ہے ، جو چاہا کیا اور جو چاہے کرے گا ۔ ذلیل فقیر ، بے حیثیت حقیراگر بادشاہِ جبّار سے اُلجھے تو اس کا سر کھجایا ہے ، شامت نے گھیرا ہے۔ اس بادشاہ سے الجھنے والے سے ہر عاقل(یعنی عقلمند) یہی کہے گا : اَو بد عقل بے ادب !اپنی حد پر رہ۔ جب یقیناً معلوم ہے کہ بادشاہ کمالِ عادِل اور جمیع کمالِ صِفات میں یکتا و کامل ہے تو تجھے اس کے احکام میں دَخل دینے کی کیا مجال۔ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعیفی زمانہ ایمان کی حفاظت کا ذِہن کافی کم ہو گیا ہے ، زبانیں بے لگام ہوچکی ہیں ، اکثریت کاحال یہ ہے کہ بس جو منہ میں آتا ہے بکے چلے جاتے ہیں اورربّ تعالیٰ کی رضاپرراضی رہنے کےبجائے بےجا اعتراضات کرتے نظر آتے ہیں جس کے سبب اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں آیئے ایمان کی حفاظت کے پیشِ نظر مصیبت کے موقع پر بولے جانے والے کفریہ جملوں کی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے اور ان سے بچنے کا ذہن بنا لیجئے۔
مصیبت کے موقع پر بولے جانے والے کفریات کی مثالیں
1۔ جس شخص نے مصىبتىں پہنچنے پر كہا : اے اللہ !تو نے مال لے لىا فُلاں چىز لے لى اب كىا كرے گا؟اب کیا چاہتا ہے؟ىا اب كىا باقى رہ گىا؟ ىہ قول كفر ہے۔
2۔ كسى مسكىن نے اپنى محتاجى دىكھ كر ىہ كہا : اے خدا !فُلاں بھى تىرا بندہ ہے اسے تو نے كتنى نعمتىں دے ركھى ہىں مىں بھى تىرا بندہ ہوں مجھے كس قدر رنج و تكلىفدىتا ہے آخر ىہ كىا انصاف ہے؟ اىسا كہنا كفر ہے۔
3۔ آپ كےاللہ نے اس ظالم شخص كو كچھ نہ دكھاىا ، ىہ كلمہ كفر ہے۔
4۔ اگر كسى نے بىمارى ، بے روزگارى ، غربت ىا كسى مصىبت كى وجہ سےاللہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتراض كرتے ہوئے كہا : اے مىرے ربّ! تو مجھ پر كىوں ظلم كرتا ہے؟ حالانكہ مىں نے تو كوئى گناہ كىا ہى نہىں۔ تو وہ كافر ہے۔
5۔ اللہ نے ہمیشہ بُرے لوگوں کا ساتھ دیا ہے۔ ىہ كلمہ كفر ہے۔
6۔ اللہ نے مجبوروں كو اور پرىشان كىا ہے۔ ىہ كلمہ كفر ہے۔ ([2])
مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کے جذبے کے پیشِ نظر شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارقادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس نازُک موضوع پر قلم اُٹھایا اور محنتِ شاقہ کے بعد کثیر کتابوں کے مواد کو پیشِ نظر رکھ کر اپنی عادتِ مُبارَکہ کے مُطابق نہایت آسان اَلفاظ و انداز میں ’’ کُفریہ کَلِمات کے بارے میں سُوال جَواب‘‘کے نام سے ایک بے نظیرکتاب تالیف فرمائی ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فَضْل و کَرم سے اس کتاب کو اَمیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکا تُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس قَدر جانفشانی (جان توڑ محنت)اور اِحْتِیاط کے ساتھ تَحریر فرمایا ہے کہ بِلامُبالَغہ اُردوزبان میں کفریہ کلمات کی نشاندہی کے بارے میں اس سے زیادہ جامع ، مُفید اور اَہم کتاب آج تک دیکھنے میں نہیں آئی لہٰذا ضَرورت اس باتکی ہے کہ ہم میں سے ہرایک اسلامی بھائی بارباراس کتاب کا بَغور مُطالَعہ کرتا رہے اور اس میں بیان کردَہ اَحکامات کی روشنی میں زبان کو نہ صرف کُفریہ بلکہ فُضُول باتوں سے بھی بچائے اور زِیادہ سے زِیادہ ذِکر و دُرُود میں مگن رہنے کی عادت بنائے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دسمُحَرَّمُ الْحَرَام۱۴۳۱ھ کوبابُ المدىنہ (كراچى )كے اىك انتہائى اہم اور كاروبارى مركز مىں آتَشْزدَگی کےدل خراش حادثے میں کئى لوگوں كے مال و اسباب جل کر خاکستر ہوگئےاور وہ بے چارے بڑى مصیبت وآزمائش میں مبتلا ہوگئے ، شىخِ طرىقت ، امىر اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان كی تسلى اور دلجوئى كیلئےمصیبت پر صبر کے حوالے سے نصىحتوں اور نىكى كى دعوت پر مشتمل ایک مكتوب روانہ کیا۔ آئیے امىراہلسُنَّت كاوہ مكتوب مُلاحظہ کیجئے اس کی برکت سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمىں بھى مصىبتوں پر صبر کرنے كے حوالے سے بہت كچھ سىكھنے کا موقع ملے گا نیز یہ بھی معلوم ہوگا كہ دل جوئى كىسے كى جاتى۔ چنانچہ شیخِ طریقت ، امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ تحریر فرماتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع