30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دورركھتا اور اس كے لىے دنىا كُشادہ كردىتا ہے ، (آخر اس مىں كىا حكمت ہے؟) اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان كى طرف وحى فرمائى : بندے بھى مىرے ہىں اور مصىبت بھى مىرے اختىار مىں ہے اور سب مىرى حمد كے ساتھ مىرى تسبىح كرتے ہىں ، مومن كے ذمہ گناہ ہوتے ہىں تو مىں اس سے دنىا كو دُور كركے اس كو آزمائش مىں ڈالتا ہوں تو ىہ (آزمائش و مصىبت )اس كے گناہوں كا كفارہ بن جاتى ہے حتى كہ وہ مجھ سے مُلاقات كرے گا تو مىں اسے نىكىوں كا بدلہ دوں گا اور كافر كى (دنىاوى اعتبار سے)كچھ نىكىاں ہوتى ہىں تو مىں اس كے لىے رزق كُشادہ كرتا اور مصىبت کو اس سے دُور ركھتا ہوں تو یوں اس كى نىكىوں كا بدلہ دنىا مىں ہى دے دىتا ہوں حتى كہ جب وہ مجھ سے ملاقات كرے گا تو مىں اس كے گناہوں كى اس كو سزا دوں گا۔ ([1])
اسی طرح منقول ہےکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب مىں كسى بندے پر رحم فرمانا چاہتا ہوں تو اس كى بُر ائى كا بدلہ دنىا ہى مىں دىتا ہوں ، كبھى بىمارى سے ، كبھى گھر والوں مىں مصىبت ڈال كر ، كبھى تنگىِ مَعاش سے پھر بھى اگر كچھ بچتا ہے تو مرتے وقت اس پر سختى كرتا ہوں حتى كہ جب وہ مجھ سے ملاقات كرتا ہے تو گناہوں سےاىسا پاك ہوتا ہے جىسا كہ اس دن تھا جس دن کہ اس كى ماں نے اسے جنا تھا ، اور مجھے اپنى عزت و جلال كى قسم مىں جس بندے كو عذاب دىنے كاارادہ ركھتا ہوں اس كو اس كى ہر نىكى كا بدلہ دنىا ہى مىں دىتا ہوں ، كبھى جسم كى صحت سے ، كبھى فراخیِ رز ق سے ، كبھى اہل و عىال كى خوشحالى سے پھر بھى اگر كچھ رہ جاتا ہے تو مرتے وقت اس پر آسانى كردى جاتى ہے حتى كہ جب مجھ سے ملتا ہے تو اس كى نىكىوں مىں سے كچھ بھى نہىں رہتا کہ وہ نارِ جہنم سے بچ سكے۔ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ گاڑى ، بنگلہ ، دولت ، صحت اور طرح طرح کی نعمتوں کی کثرت دىكھ كرپھولنا نہیں چاہئے بلکہ ڈر جانا چاہىے كہ كہىں ایسا تو نہیں کہ مجھے دنىا ہی مىں میری اچھائیوں کا صلہ دیا جارہا ہو اور گناہوں کے سبب آخرت میں میرے لئے دردناک عذاب تیار ہو۔ اسی طرح بیماری ، غربت یا جان ، مال اور اولاد پر آنے والی آفت و مصیبت پر یہ سوچ کر صبرکرنا چاہئے كہ ہوسكتا ہےیہی مصیبت آخرت کی راحت سامانی کا پیش خیمہ ہو۔ ہم مصیبتوں پر واویلا مچاتے اور آسائشوں میں یاد الٰہی اور فکرِ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں جبکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندے رنج وغم ملنے پر صبر وشکر کرتے ہوئے راضی برضائے الٰہی رہتے ہیں اور اگر ان کے پاس دنیوی نعمتوں کی کثرت ہوجائے تو وہ غمگین ہوجاتےہیں کہ کہیں ربّ تعالیٰ ہم سے ناراض تو نہیں ہے۔ چنانچہ ،
حضرت سیدنا ابن یسار مسلم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ المُنْعِم فرماتے ہیں : ’’ایک مرتبہ میں تجارت کی غرض سے بحرین کی طر ف گیا ، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک گھر کی طرف بہت سے لوگوں کاآناجاناہے ، میں بھی اس طرف چل دیا۔ وہاں جاکردیکھاکہ ایک عورت نہایت ا فسردہ اورغمگین پھٹے پرانے کپڑے پہنے مصلے پر بیٹھی ہے اور اس کے اردگرد غلاموں اورلونڈیوں کی کثرت ہے ، اس کے کئی بیٹے اور بیٹیاں ہیں ، تجارت کا بہت سارا سازو سامان اس کی ملکیت میں ہے ، خریداروں کا ہجوم لگاہوا ہے ، وہ عورت ہر طر ح کی نعمتوں کے باوجود نہایت ہی غمگین تھی نہ کسی سے بات کرتی ، نہ ہی ہنستی۔
میں وہاں سے واپس لوٹ آیا اور اپنے کاموں سے فا رغ ہونے کے بعد دوبارہ اسی گھر کی طر ف چل دیا۔ وہاں جاکر میں نے اس عورت کو سلام کیا۔ اس نے جواب دیا اور کہنے لگی ، اگر کبھی دوبارہ یہاں آنا ہواور کوئی کام ہو تو ہمارے پاس ضرور آنا ، پھر میں واپس اپنے شہر چلا آیا۔ کچھ عرصہ بعد مجھے دوبارہ کسی کام کے لئے اسی عورت کے شہر میں جانا پڑا۔ جب میں اس کے گھر گیا تو دیکھاکہ وہاں کسی طر ح کی چہل پہل نہ تھی۔ نہ تو تجارتی سامان تھا ، نہ خدّام ولونڈیا ں نظر آرہی تھیں اور نہ ہی اس عورت کے لڑکے دکھائی دے رہے تھے ، ہر طر ف ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ میں بڑا حیران ہوا اور میں نے دروازہ کھٹکھٹایاتو اند رسے کسی کے ہنسنے اور باتیں کرنے کی آواز آنے لگی۔ جب دروازہ کھولا گیااورمیں اندر داخل ہواتو دیکھا کہ وہی عورت اب نہایت قیمتی اور خوش رنگ لباس میں ملبوس بڑی خوش وخُرّم نظر آرہی تھی اور اس کے ساتھ صرف ایک عورت گھر میں موجودتھی۔ اس کے علاوہ کوئی اور نہ تھا ۔ مجھے بڑا تَعَجُّب ہوا اور میں نے اس عورت سے پوچھا : جب میں پچھلی مرتبہ تمہارے پاس آیا تھاتو تم کثیر نعمتوں کے باوجود غمگین اور نہایت اَفْسُردہ تھیں لیکن اب خادموں ، لونڈیوں اور دو لت کی عدم موجودگی میں بھی بہت خوش اور مطمئن نظر آرہی ہو ، اس میں کیا راز ہے ؟۔ تو وہ عورت کہنے لگی : تم تعجب نہ کرو ، بات در اصل یہ ہے کہ جب پچھلی مرتبہ تم مجھ سے ملے تو میرے پاس دنیاوی نعمتوں کی بہتات تھی ، میرے پاس مال ودولت اور اولاد کی کثرت تھی ، اس حالت میں مجھے یہ خوف ہوا کہ شاید!میرا رب عَزَّ وَجَلَّ مجھ سے ناراض ہے ، اس وجہ سے مجھے کوئی مصیبت اور غم نہیں پہنچتا ورنہ اس کے پسندیدہ بندے تو آزمائشوں اورمصیبتوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس وقت یہی سوچ کر میں پریشان وغمگین تھی اور میں نے اپنی حالت ایسی بنائی ہوئی تھی ۔ اس کے بعد میرے مال واولاد پر مُسلسل مصیبتیں ٹو ٹتی رہیں ، میرا سارا اَثَاثہ ضائع ہوگیا ، میرے تمام بیٹوں اوربیٹیوں کاانتقال ہوگیا ، خدّام ولونڈیاں سب جاتے رہے اورمیری تمام دنیاوی نعمتیں مجھ سے چھن گئیں۔ اب میں بہت خوش ہوں کہ میرا رب عَزَّ وَجَلَّ مجھ سے خوش ہے اسی وجہ سے تو اس نے مجھے آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ پس میں اس حالت میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھ رہی ہوں ، اسی لئے میں نے اچھا لباس پہنا ہوا ہے ۔ اس کے برعکس بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب ان پر کوئی مصىبت یا پرىشانی آتى ہے تو وہ آپے سے باہر ہوجاتے اورشكوہ شكاىت پر اُتر آتے ہیں۔ حتی کہ مَعاذَاللہ ثُمّ مَعاذَ اللہ ، اللہ تعالىٰ پر اعتراض كرتے ہىں ، ایسوں کو ڈرجانا چاہئے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اعتراض کرنا کُفر ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں شیخِ طريقت ، اميرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ كی مایہ ناز كتاب ’’ كفرىہ كلمات كے بارے مىں سوال جواب ‘‘سے چند انتہائی اہم مدنی پھول پیش خدمت ہیں۔
سوال : اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اعتراض كرنا كىسا ؟
جواب : قطعى كفر ہے اورمعترض (ىعنى اعتراض كرنے والا) كافر و مرتد ہے۔
سوال : ىہ بھى وضاحت كردىجئے كہ آخر اعتراض كرنا كىوں كفر ہے؟
جواب : اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اعتِراض سے بچنے کا شریعت میں حکم ہے اور ہر مسلمان کا حکم ِشریعت کے آگے سرِتسلیم خم ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ خالق و مالک ہے ، اُسی کے پیدا کردہ بندے کا اُس پر اعتِراض کرنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع