30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظاہر ہے اُول فُول بکنے سے نہ تو چوٹ صحیح ہوگی نہ ہی ثواب ملے گا بلکہ نقصان ہی نقصان ہوگا۔ راہ چلتے کسی کا دھکّا لگ گیا ، بجائے اُس سے اُلجھنے کے صبر کرلیا جائے ، کسی گاڑی سے ٹکرا گئے ، گاڑی چلانے والے نے کوئی بات اُلٹی سیدھی کہہ دی ، ہم کہیں جارہے تھے کہ سڑک پر ’’ٹریفک جام ‘‘ہوگیا ، سخت گرمی بھی ہے ، ہارن کی آوازوں سے کان پھٹے جارہے ہیں ایسے وقت لوگ بہت بڑبڑاتے اورگالیاں بکتے ہیں ، حالانکہ ایسا کرنے سے ٹریفک بحال نہیں ہوجاتا کاش ! ذرا خاموش رہتے تو صَبر کرنے کا ثواب تو مل جاتا۔ کسی نے آواز کَس دی ، کنکر مار دیا ، طعنہ کشی کی ، گھر میں بھائی بہنوں نے مذاق اُڑایا ، پڑوسی نے حُسنِ سُلوک نہیں کیا یا کوئی زِیادتی کی ، مسجد میں جُوتے چوری ہوگئے ، جیب کٹ گئی ، کسی نے اُوپر سے کُوڑا ڈال دیا ، کسی نے بات کاٹ دی ، آپ نے سُنّتوں پر بیان کیاتو کسی نے بے جا تنقید کردی یا آواز و انداز کی ہنسی اُڑائی ، کسی کے یہاں مہمان ہوئے اور اُس نے چائے پانی کا نہیں پوچھا ، سُنَّت کے مطابق کھا پی رہے تھے تو کسی نے طنز کردیا ، کبھی گھر میں بجلی چلی گئی ، پانی بند ہوگیا ، مالک مکان یا کِرایہ دار نے ظُلم کیا ، بس وغیرہ میں بِھیڑ کے سبب کسی نے آپ کے پاؤں پر اپنا پاؤں رکھ دیا ، کوئی سگریٹ پی رہا ہے یا کسی قسم کی بدبو سے جب بھی تکلیف پہنچی ، اپنی گاڑی وغیرہ میں کوئی نقصان ہوگیا ، کوئی پُرزہ ٹوٹ گیا ، پنکچر ہوگیا ، راستے میں کیچڑ کی وجہ سے پریشان ہوگئے ، کھانے وغیرہ میں نمک مِرچ کم و بیش ہوگیا ، کوئی کڑوی چیز مُنہ میں آگئی جیسے بادام کی گِری وغیرہ ، کھانا گرم نہیں تھا اور طبیعت گرم کھانا چاہتی تھی ، ٹھنڈے پانی کی خواہش تھی مگر سَادہ پانی مِلا ، چائے یا پان وغیرہ کی خواہش تھی مگر میسّر نہیں آیا جس سے طبیعت میں کچھ پریشانی ہوئی ، کسی نے گالی دے دی یاکوئی ایسی بات کہہ دی جو ناگوار گُزری ، خرید و فروخت کے مواقع پر ناگوارمعاملہ پیش آگیا ، کاروبار کم ہوا ، کسی نےدھوکا دے دیا ، سیٹھ بدمزاج ہے یا نوکر بَداَخلاق ہے ، کسی نے تُھوک پھینکا اور آپکے اوپر آپڑا ، کسی وجہ سے پاؤں پھسل گیا یا گر گئے تو لوگ ہنسے یا خود چوٹ کھائی ، کسی نے غلط فہمی میں کچھ تلخ باتیں سنا دیں ، وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے معاملات عموماً روزمرّہ پیش آتے رہتے ہیں ، ایسے مواقع پر صبر کر لیجئے اور اَجر کمائیے ، اِن مواقع پر عُموماً بے صبرے لوگ بڑبڑاتے ، گالیاں تک بکتے سُنے جاتے ہیں ، اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ بےجا بے صبری کا مظاہرہ کرنے سے تکلیف یا پریشانی تو دُور نہیں ہوتی ، پھر صبر کر کے اَجر کا خزانہ کیوں نہ حاصل کیا جائے۔
یاد رہے کہ کامل صبر اُسی حالت میں کہلائے گا جب آپ صدمہ پہنچتے ہی اسے ضَبْط کرنے کی کوشش کریں ، بعض لوگ اپنے دل کی ساری بھڑاس نکالنے کے بعد کہتے ہیں “میں نے صبر کیا “حالانکہ جَزع وفَزع کے بعد کِیا جانے والا صبر وہ نہیں کہ جس پر اجرو ثواب کی امید کی جاسکے ۔ چنانچہ ،
حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم ایک عورت کے قریب سے گزرے جو ایک قبر کے پاس رورہی تھی ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : خدا سے ڈر اور صبر کر۔ (وہ آپ کو نہ پہچان سکی اور) کہا : آپ تشریف لے جائیں اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں آپ کو کیا معلوم کہ مجھے کیا مصیبت پہنچی ہے۔ جب اسے بتایا گیا کہ وہ تو نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم ہیں تو وہ درِ اقدس پر حاضر ہوئی۔ دربانوں کو نہ پاکر اس نے(معذرت خواہانہ انداز میں) عرض کی : میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا (اب میں صبر کرتی ہوں)۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : “صبر تو صدمہ کی ابتدا کے وقت ہوتا ہے ۔ “([1])
مطلب یہ ہے کہ حقیقی صبر وہی ہوتا ہے جو صدمے کے آغاز میں کیا جائے ورنہ مصیبت کا وقت گزر جانےکے بعد سکون آجانا صبرنہیں بلکہ غم کو بھول جانا ہے ۔ جبکہ مصیبت کی ابتدا میں دل کو اچانک ایسا دھچکا لگتا ہے کہ اس وقت پُرسکون رہنا اور تقدیر پر راضی رہنا حقیقی صبر ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اجر مصیبت پرنہیں ملتا کیونکہ وہ انسان کی اختیار کردہ نہیں ہوتی البتہ اجر وثواب اچھی نیت اور مصیبت پرصبرِجَمیل کی بدولت ملتاہے۔ ([2])
حضرت سَيِّدُناعلی المرتضیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حضرت سَيِّدُنا اَشْعَث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمايا : اگر تم صبر کرنا چاہو تو ايمان اور اَجر کی اميد پر صبر کرلو ورنہ جانوروں کی طرح صبر آ ہی جائے گا۔ ([3])
صبراللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے ہے
یہ بھی یاد رہے کہ صبر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی توفیق سے ہی ملتا ہے لہٰذا کوئی شخص اپنے صبر و ضَبْط کو ہرگز ہرگز اپنا کمال نہ سمجھے بلکہ اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سمجھ کر اُس پر شکرِ الٰہی ادا کرے کہ اُس نے میری بہتری کے لئے مجھ پر آزمائش ڈالی اور پھر صبر کی توفیق بھی بخشی۔ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے کہ ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام کتنے عرصہ تک بَلا (یعنی مصیبت )میں مبتلا رہے اور صبر بھی کیسا جمیل فرمایا! جب اس سے نجات ملی عرض کیا : ’’الٰہی (عَزَّ وَجَلَّ) !میں نے کیسا صبر کیا؟ ارشاد ہوا : ’’ اور توفیق کس گھر سے لایا۔ ‘‘ایوب عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے سر پر خاک اڑائی عرض کیا : بے شک اگر تو توفیق نہ عطا فرماتا تو میں صبر کہاں سے کرتا!۔ ([4])
بعض اوقات مُسلمان اپنی خَسْتہ حالی اور کافروں کی پُر تَعَیُّش (عیش و عشرت سے بھرپور) زندگی دیکھ کر وسوسوں کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کے ذہن میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہوتے ہیں حالانکہ اس میں بھی اللہ رَبُّ العالمین جَلَّ جَلالُہ کی بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ چنانچہ ،
حضرتِ سَىِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرماىاکہ اىك نبى عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے پروردگارعَزَّ وَجَلَّ كے دربار مىں عرض كى : اے مىرے ربّ!مومن بندہ تىرى اطاعت كرتا اور تىرى مَعْصِىَّت (نافرمانى) سے بچتا ہے (لىكن) تو اس کے لیے دنىاتنگ فرماکر اس كو آزمائشوں مىں ڈالتا ہے اور كافر تىرى اطاعت نہىں كرتا بلكہ تجھ پر اور تىرى مَعْصِىَّت (نافرمانى) پر جرأت كرتا ہے لىكن تواس سے مصىبت كو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع