مصائب میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حکمتیں
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ya Waqt bhi Guzar jay Ga | یہ وقت بھی گزر جائے گا

book_icon
یہ وقت بھی گزر جائے گا

صَدْرُ الْافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سید محمد نعیمُ الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اس آیتِ  مُبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : حضرت علیُّ المرتضٰی رَضِیَ اللّٰہُ  تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا سوائے صبر کرنے والوں کے کہ انہیں بے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اصحابِ مصیبت و بَلا حاضر کئے جائیں گے نہ ا ن کے لئے میزان قائم کی جائے ، نہ ان کے لئے دفتر کھولے جائیں ان پر اجرو ثواب کی بے حساب بارش ہوگی یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے انہیں دیکھ کر آرزو کریں گے کہ کاش وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے کہ آج یہ صبر کا اجرپاتے ۔

مصائب میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حکمتیں

میٹھے میٹھے اسلامى بھائىو!ربُّ الاَنام عَزَّوَجَلَّ كے ہر كام مىں ہزارہا حکمتیں پوشیدہ ہوتى ہىں جو ہماری عقل میں نہیں آتیں ، کبھی کبھار تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مصیبتیں نازل فرماکر اپنے بندوں کو آزماتابھی ہے اور جب وہ صبر کرتے ہیں تو اُن کے  گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند فرماتا ہے۔ لہٰذا ہم پر جوبھی مصیبتیں آتی ہیں ہمارے ہی بھلے اور بہتری کے لئے آتی ہیں گرچہ ہمیں اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ چنانچہ ،

حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریر ہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : ’’ اللہعَزَّ  وَجَلَّ  جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرمادیتا ہے ۔ ‘‘ ([1])

حضرتِ سَیِّدُنا صہیب رُومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حُضورِ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنےارشادفرمایا’’مومن کے معاملے پر تعجّب ہے کہ اس کا سارامعا ملہ بھلائی پرمشتمل ہے اور یہ صرف اُسی مومن کے لئے ہے جسے خوشحالی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتاہے کیونکہ اسکے حق میں یہی بہتر ہے اور اگر تنگدستی پہنچتی ہے توصبرکرتاہےتویہ بھی اس کےحق میں بہترہے۔ ([2])

مصائب ترقیِ درجات کا ذریعہ ہیں

مَحبوبِ رَبُّ العزت ، محسنِ انسانیتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : جب بندے کااللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ہاں کوئی مرتبہ مقرر ہو اور وہ اس مرتبے تک کسی عمل سے نہ پہنچ سکے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسے جسم ، مال يا اولاد کی آزمائش ميں مبتلا فرماتا ہے پھر اُسے اِن تکاليف پر صبر کی توفيق عطافرماتاہے  يہاں تک کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے ہاں اپنے مقرردرجے تک پہنچ جاتا ہے۔ ([3])

مصیبتوں سے گُناہ جھڑتے ہیں

دوجہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : مومن اورمومنہ كو اپنى جان ، اولاد اور مال كے ذرىعے آزماىا جاتا رہے گا ىہاں تك كہ وہ اللہعَزَّ  وَجَلَّسے اس حال مىں ملے گا كہ اس کے ذمے كوئى گناہ نہ ہوگا۔ ([4])  

نبیوں کے سُلطان ، رحمتِ عالمیانصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’جس کسی مسلمان کو کوئی کانٹا چبھے یا اس سے بھی معمولی مصیبت پہنچے تو اس کے لئے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ ‘‘([5])

مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیمُ الاُمَّت ، حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اپنى دلپذىر تقرىر مىں فرماتے ہىں : حضرت سَیِّدُنا باىزىد بسطامى قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی كسى جگہ سے گزر رہے تھے ، مُلاحظہ فرماىا اىك بچہ كىچڑ مىں گر گىا ہے اور اس كے كپڑے و جسم کیچڑ میں لتھڑ گئے ہىں۔ لوگ دىكھتے ہوئے گزر جاتے ہىں لیکن كوئى بھی اس کی پروا نہىں كرتا۔ کہیں دور سے ماں نے دىكھا ، دوڑتى ہوئى آئى دو تھپڑ بچے کے لگائے ، كپڑے اتار کر دھوئے ، اسے غسل دىا۔ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ كو یہ دىكھ كر وجد آگىا اور فرماىا : ىہی حال ہمارا اور رحمتِ الٰہى (عَزَّ  وَجَلَّ) كا ہے۔ ہم گناہوں كی دلدل مىں لتھڑ جاتے ہىں ، کسی کو کیا پرواہ! مگر رحمتِ الٰہى(عَزَّ  وَجَلَّ) كا درىا جوش مىں آتا ہے ، ہم كو مصىبتوں كے ذرىعے دُرُست کیا جاتا ہے اور توبہ وعبادات كے پانى سے غسل دے كر صاف فرماتا ہے۔ مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان یہ حکایت نقل كرنے كے بعد ارشاد فرماتےہىں : جب مہربان ماں كچھ سزا دے كر تنبىہ كرسكتى ہے تو خالق و مالك اس سے كہىں زىادہ مہربان ہے بعض اوقات سزا دے كر اصلاح فرماتا ہے۔ ([6])

لہٰذا مصائب و آلام پر شکوے شکایات کرنے ، ہروقت لوگوں کے سامنے اپنی پریشانیوں کارونا  رونے اور اپنی زبان سے کفریات بکنے کے بجائے ان آزمائشوں اور تکلیفوں کا سامنا کرتے ہوئے صبر وتحمل سے کام لینا چاہئے۔ یاد رکھئے !جس طرح گردشِ ایام سے خوشیوں کے رنگ پھیکے پڑجاتے ہیں اسی طرح وقت کامرہم گہرے سے گہرا زخم بھی بھر دیتا ہے اور وقت کی رفتار ہر غم کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ بس مصیبت کے ماروں کو وقت گزرنے کا انتظار کرنا چاہئے آج غم کے بادل چھائے ہوئے ہیں تو کل اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ خوشیوں کی بارش بھی ہوگی ، آج مشکلات نے گھیرا ہے تو کل اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آسانیوں کاڈیرا بھی ہوگا ، جیسے خوشیوں کا وقت آکر گزر گیا ایسے ہی یہ وقت بھی گزر جائےگا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے۔

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ(۶) ۳۰،الانشراح:۶)

 



[1]    بخاری ،  کتاب المرضی  ،  باب  ماجاء کفارة المرض ، ۴ / ۴ ، حدیث : ۵۶۴۵

[2]    مسلم ،  کتاب الزھد والرقائق  ، باب المومن امرہ کله خیر ، ص ۱۵۹۸ ، حدیث : ۲۹۹۹

[3]    ابو داؤد  ، کتاب الجنائز  ،  باب الامراض المکفرة     الخ ، ۳ / ۲۴۶ ، حدیث : ۳۰۹۰

[4]    ترمذی ،  کتاب الزهد ،  باب ما جا ء فی الصبر علی البلاء ، ۴ / ۱۷۹ ، حديث : ۲۴۰۷

[5]    مسلم ،  کتاب البروالصلة  ،  باب ثواب المؤمن فیما   الخ ، ص۱۳۹۱ ، حدیث : ۲۵۷۲

[6]    کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ، ص۱۲۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن