دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ameer e Ahl e Sunnat Say Wuzu Kay Baray Mein Sawal Jawab | امیرِ اہلِ سنّت سے وضو کےبارے میں سوال جواب

Wuzu Ke Baghair Azaan

book_icon
امیرِ اہلِ سنّت سے وضو کےبارے میں سوال جواب

سُوال : کیاوضو کے بغیر اذان دے سکتے ہیں؟

جواب :  بہتر ىہى ہے کہ وضو  کرکےاذان دى جائے۔( ) (ملفوظات امیرِاہلِ سنت ،قسط نمبر 182، ص 5)
سُوال : اگر کوئی شخص نہانے کے بعد وضو  کرنے والے کو دیکھ کر کہے ”یہ جہالت کى نشانی ہے “ تو اس کا ایسا کہنا کیسا؟
جواب : پورا غسل کرلینے سے وضو بھی ہوجاتا ہے دوبارہ وضو کرنا ضرورى نہىں ، (مراٰ ۃ المناجیح، 2/256)لہٰذا جس نے غسل کرنے کے بعد یہ سوچ کر وضو  کیا کہ غسل کرنے سے وضو نہیں ہوتا تو یہ معلومات کى کمى کا نتیجہ ہے اور اس طور پر اس کے عمل کو ’’جہالت “کہنا دُرُست ہے ، لىکن مطلقاً کسی کو ایسا کہنے سے اس کا دل دُکھے گا ، لہٰذا  کسی مسلمان کو اس 
طرح نہیں کہنا چاہیے ، بلکہ  اچھے انداز سے  دُرُست مسئلہ بتانا چاہیئے مثلاً جب آپ نے پورا غسل کرلىا ہے تو غسل کے ساتھ ساتھ آپ کا وُضو بھی ہوچکا ہے ، لہٰذا  آپ کو غسل کے بعد وضو کرنے کى حاجت نہىں۔ (ملفوظات امیرِاہلِ سنت ،قسط نمبر178، ص 8)
سُوال :  کیا جُوئیں مارنے سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے؟ (سوشل میڈیا کے ذریعے سُوال)
جواب : جُوئیں مارنے ، یوں ہی بکرا ذبح کرنے سے وُضو نہیں ٹوٹتا۔نَعُوْذُ باللہ اگر کوئی باوضو کسی بندے کو قتل کردے تو اس سے بھی وضو نہیں ٹوٹے گا۔ کسی کو مارنے پیٹنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔(ملفوظات امیرِاہلِ سنت ،قسط نمبر248، ص 24)
سُوال : تسبیح کے دانوں پر لفظ ”اللہ “ اور ”محمّد“ لکھا ہوتو کیا اس کو بے وُضو یا ناپاکی کی حالت میں چُھو سکتے ہیں؟
جواب : ایسی تسبیح کو بے وضو چھونا جائز ہے ، لیکن اس کے جیب میں ہوتے ہوئے واش روم بھی جانا پڑ سکتا ہے یا میلے ہاتھ اس پر لگ سکتے ہیں۔ تو بہتر یہی ہے کہ ایسی تسبیح نہ رکھی جائے ، اگر ہے تو اس کو گھر میں کسی کیل پر لٹکا دیں اور جب گھر میں ہوں تو اس پر وظیفہ وغیرہ پڑھ لیں ،  تاکہ کسی قسم کی بے ادبی نہ ہو۔ لیکن پھر بھی جب اس کے دانوں پر بار بار انگلی لگے گی تو اس کی لکھائی کا اثر ہاتھ پر آتا رہے گا اور جب آپ ہاتھ دھوئیں گے تو وہ روشنائی کہاں کہاں جائے گی آپ سمجھ سکتے ہیں۔لہٰذا ایسی تسبیح کی پروڈیکشن ہی نہ کی جائے،  لیکن ہمارے لئے اس کو روکنا مشکل ہے ، لہٰذا ہم اس کو خریدنا ہی چھوڑدیں ۔  ہاں اگر  تحفے میں ملی ہو تو اس کو ضائع تونہ کیا جائے ، بلکہ احتیاط کے ساتھ استعمال کرلیا جائے ، باادب بانصیب۔(ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 5/364)
سُوال : گنج پن کا شکار کچھ لوگ  مصنوعی وِگ لگاتے ہیں ، کیا اس سے وضو اور نماز ہوجاتی ہے؟  (وسیم  رضا عطاری۔ ٹوبہ دار السلام)
جواب : اگر”وِگ“ ایسی ہے کہ اُسے اُتار کر وضو میں مسح کرسکتے ہیں تو پھر اُتارنا ضروری ہے۔ البتہ اگر ایسی ”وِگ “ ہے جو چِپْکی ہوئی ہے اور اسے اتارنا ممکن نہیں ہے تو ایسی صورت میں وضو کے دوران اوپر ہی سے مسح کرلیا جائے اور  غسل میں بھی اوپر سے ہی دھو لیا جائے۔( ) (ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 5/266)
سُوال : کىا وُضو کرتے ہى نماز پڑھ لىنا تحیۃُ الْوُضُو کے قائم مقام ہوجائےگا؟ نیز  اس سے نفل کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
جواب : اگر مکروہ وقت نہ ہو تو ” تحیۃُ الوُضُو“پڑھ لے کىونکہ تحیۃُ الوُضُو مىں افضل یہ ہے کہ اس وقت پڑھے جائیں  جب وضو کى ترى باقى ہو۔(  فتاویٰ ہندیۃ، 1/8) ( ) 
(ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 6/227)
سُوال : سنتىں پڑھنے کے بعد اگر وضو ٹوٹ جائے تو وضو کرنے کے بعد دوبارہ وہ سنتىں  پڑھنى ہوں گى یا وہی سنتىں کافى ہىں؟(سائل : خالد محمود عطاری ، قصور پنجاب)
جواب : وہ سنتیں کافی ہیں۔(ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 6/218)
سُوال:کیا وُضو کرتے ہوئے بھی پانی ضائع ہوسکتا ہے؟
جواب:جی ہاں!اگر کوئی شخص نفل نماز کے لیے وُضو کر رہا ہے یا  ویسے ہی باوضو رہنے کے لیے وُضو کر رہا ہے اگرچہ یہ ایک مُسْتَحَب کام ہے اس پر ثواب ملے گا اور نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ، لیکن اگر یہ وُضو کرنے کے لیے بیٹھے اور پہلے نل کھولے پھر آستینیں چڑھائے اس کے بعد مِسواک منہ میں ہلکی سی مَسْ  کرکے نل کے نیچے دھوتا رہے اور اس دَوران مسلسل پانی بھی بہتا رہے تو اس کو پانی کا ضیاع ہی کہا جائے گا۔ میں نے کئی لوگوں کو دَورانِ وُضو بے تحاشا پانی بہاتے ہوئے دیکھا ہے ، بعض لوگ  تو ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو پانی کے ضائع ہونے کا اِحساس تک نہیں ہوتا ، اگر انہیں سمجھایاجائے کہ جناب!دَورانِ وُضو نل تھوڑا کھولیں تو شاید ان کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ تھوڑا نل کھولنا کسے بولتے ہیں اور زیادہ کھولنا کس کو! ہاں انہیں پیسوں کا ضَرور پتا ہوگا کہ تھوڑے کس کو بولتے ہیں اور زیادہ کس کو! حالانکہ پانی پیسوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ پانی کی قیمت سمجھنی ہے تو یوں تصور کیجیے کہ آپ کسی ویرانے میں ہیں اور آپ کے پاس ایک سونے کی اینٹ بھی ہے لیکن پانی نہیں ہے اور آپ کو شِدّت کی پیاس لگ رہی ہے جس کی وجہ سے آپ کی جان پر بن گئی ہے۔ اب  آپ جان بچانے کے لیے سونے کی اینٹ دے کر بھی پانی لینے کی کوشش کریں گے کہ  کوئی یہ اینٹ لے لے اور بدلے میں ایک گلاس بلکہ  آدھا  گلاس پانی پلادے تاکہ میں اپنی جان بچالوں۔(ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 5/17) 
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رحمۃُ اللہِ علیہ  کے پاس کچھ لوگ حاضر تھے کسی نے پانی پینے کے لیے لیا اور پی کر آدھا  گلاس پھینک دیا۔ اس کا مطلب ہے پانی بچاکر پھینکنے کی بیماری کافی پہلے کی ہے ، آج کل بھی لوگ  تھوڑا سا پانی پی کر پھینک دیتے ہیں۔ بہرحال اس کے پانی پھینکنے پر اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ  نے مَدَنی پھول  دیتے ہوئے سمجھایا اور ایک واقعہ بیان فرمایا : ہارو ن رشید کی خدمت میں عُلَمائے کِرام موجود  ہوتے تھے ، ایک دِن ہارون رشید کو پیاس لگی ، پینے کے واسطے پانی منگایا ، پینا چاہتے تھے کہ ایک عالِم صاحب نے فرمایا : ٹھہرئیے! پہلے یہ بتائیے کہ اگر آپ کسی لَق و دَق صحرا (یعنی چَٹْیَل میدان) یا کسی جنگل و بیابان میں ہوں اور ایسی پیاس لگے جیسی اس وقت لگ رہی ہے لیکن پینے کے لیے  پانی نہ مل رہا ہو اور آپ کی جان پر بن جائے تو یہ پانی آپ کتنی قیمت دے کر خریدیں گے؟ہارون رشید نےکہا : آدھی سلطنت یعنی آدھی حکومت دے کر پانی لوں گااور اپنی جان بچاؤں گا۔ جواب سن کر اُن عالِم صاحِب نے کہا پانی پی لیجیے۔ جب ہارون رشید نے پانی پی لیاتو عالم صاحب نے پھر فرمایا : جو پانی ابھی آپ نے پیا ہے اگر اندر ہی رہ جائے اور پیشاب کے ذَریعے باہر نہ نکلے اور اب آپ کی جان پر بن جائے تو اس کے علاج پر کتنا خرچ کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟ ہارون رشید نے جواب دیا : مجھے اپنی  پوری سلطنت بھی دینی پڑ جائے تو میں دے دوں  اور اپنی جان بچاؤں۔ اُن عالِم صاحب  نے فرمایا : بادشاہ سلامت! آپ اپنی اس حکومت پر جتنا چاہیں ناز کرلیں اس کی قیمت یہ ہے کہ ایک بار پانی کے گلاس پر آدھی بِک جائے اور دوسری بار علاج پر پوری بِک جائے۔(  ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ،ص 375-376۔ تاریخ الخلفاء، ص 293 ملخصاً)
واقعی پانی کی قدر وہاں ہوتی ہے جہاں  پانی کی تنگی ہو ، ہمیں اللہ پاک  کی نعمتوں کی قدر نہیں ہے۔ پانی کے ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہے لہٰذا جب بھی وُضو کرنے لگیں تو نل اتنا کھولیں جتنی ضَرورت ہے ، زیادہ کھولنا اور پانی ضائع کرتے رہنا خطرناک ہے اور پھر مسجد یا مدرسے کا پانی جو وقف کا ہوتا ہے اسے  ضائع کرنا اور بھی زیادہ سخت ہے ، اس کے مَسائل بھی بہت  ہیں ، ہوسکتا ہے لوگ اپنے گھرمیں پانی کم خرچ کرتے ہوں مسجد میں زیادہ کرتے ہوں۔ گھر میں بھی جب نہاتے ہوں گے تو شاور کے ذَریعے کتنا کتنا پانی ضائع کر دیتے ہوں کسی کو کیا پتا! (ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 5/18)
سُوال : کن ہستیوں کا نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا؟ نیز اگر ہم وضو کر کے سوئیں تو فجر میں اُٹھنے تک ہمارا وضو باقی رہے گا؟
جواب: اَنبیائے کِرام  علیہمُ السّلام  کا وُضو سونے سے نہیں ٹوٹتا کیونکہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں دِل جاگتے ہیں ۔(بخاری، 1/297، حدیث: 857ماخوذاً) باقی عام لوگوں کا سونے سے وضو ٹوٹ  جاتا ہے مگر نیند سے وُضو ٹوٹنے کی شرائط ہیں جیسے کس طرح سویا؟ غافل تھا یا نہیں؟ سرین زمین پر اچھی طرح جمے ہوئے تھے  یا نہیں؟اگر سرین زمین پر جمے ہوئے ہوں اور آنکھ لگ گئی  جیسے کرسی پر بیٹھے بیٹھے نیند آگئی تو وضو نہیں ٹوٹے گا اور سرین جمے ہوئے نہیں تو وضو ٹوٹ جائے گا۔اس کی مکمل  تفصیل ”نماز کے اَحکام “ کتاب میں موجود”وضو کا طریقہ“نامی رسالے میں ہے۔(امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ  کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا :) اگر کوئی  ایسی ہیئت پر سویا جو نیند آنے میں رُکاوٹ ہے جیسے کھڑے کھڑے سو گیا اس میں اگرچہ سُرین نہیں جمے ہوئے پھر بھی وضو نہیں ٹوٹے گا۔
( فتاویٰ رضویہ، 1/488، جز: الف  ماخوذاً۔  ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 1/478)
سُوال:میرا  شوبز سے تعلق ہے۔ہم اَلحمدُ لِلّٰہ پانچ وقت کى نماز پڑھتے ہىں۔ اگر وُضو کی حالت میں اىکٹنگ کی تو کیا اُسى وُضو سے ہم نماز پڑھ سکتے ہىں؟دوسرا سُوال یہ ہے کہ لوگ چلتے پھرتے گالىاں دىتے ہىں، بُرے اَلفاظ اور جھوٹ بولتے ہىں، اَلحمدُ لِلّٰہ  ہوتے تو مسلمان ہىں لىکن ان کو ىہ خىال نہىں ہوتا کہ ىہ کتنا بڑا گناہ ہے ۔آپ اس  بارے مىں کچھ اِرشاد فرما دیجئے۔ (عالمی  مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ کراچی  آئے ہوئے ایک فلمی ایکٹر کا سوال) 
جواب:یہ اچھی بات ہے کہ اىکٹنگ کو بُرا سمجھ رہے ہىں کہ ىہ کہیں وُضو تو نہیں توڑ دىتى ؟تو ہمت کر کے  اىکٹنگ کے بُرے کام کو ہى چھوڑ دىں تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسرى۔ بہرحال اىکٹنگ سے وُضو نہیں ٹوٹتا ۔ رہی بات جھوٹ بولنے اور گالیاں دینے کی تو ىہ باتیں بَدقسمتی سے ہمارے مُعاشرے کا  اب حصہ بن چکی ہیں حالانکہ ىہ گناہ کے کام ہىں لہٰذا مسلمانوں کو جھوٹ نہىں بولنا چاہىے، گالى نہىں نکالنى چاہىے  اور غىبت نہىں کرنى چاہىے۔ اِسی طرح بدگمانى، وعدہ خلافى جیسے گناہوں سے بھی مسلمانوں کو بچنا چاہىے۔( ) 
( ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 6/84)
سُوال: اگر ٹینک میں مینڈک گر جائے تو کیا اس کا پانی وضو کرنے کے لئے استعمال کرنا جائز ہوگا؟ (SMS کے ذریعے سُوال)
جواب: ’’فتاویٰ امجدیہ‘‘ جلد اوّل صفحہ نمبر 20 پر ہے : پانی کا مینڈک بلکہ خشکی کا بھی ، جبکہ بہت بڑا نہ ہو جس میں خونِ سائل (یعنی بہتا خون)ہوتا ہے ، اگر کنویں میں مرجائے یا مرا ہوا گِر جائے بلکہ پھول پھٹ جائے تو بھی پانی پاک ہے اور اُس سے وضو وغسل جائز۔ مگر جب ریزہ ریزہ (یعنی باریک باریک) ہو کر اس کے اجزاء (یعنی ٹکڑے) پانی میں مِل جائیں  تو اُس پانی کا پینا حرام ہے۔ اور اگر خشکی کا بڑا مینڈک جس میں خونِ سائل (یعنی بہتا خون)ہو ، پانی میں مَر جائے تو نجس (یعنی ناپاک) ہوجائے گا۔ (ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 4/342)
سُوال:کیا بغیر وضو دُرُود ِپاک پڑھ سکتے ہیں ؟

  …بے وضو کی اذان صحیح ہے ، (درمختار، 2/75) مگر بے وضو  اذان کہنا مکروہ ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 199) فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے : بے وضو اذان جائز ہے اس معنیٰ میں کہ  اذان ہوجائے گی مگر چاہیے نہیں ، حدیث میں اس سے مُمانَعَت آئی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 5/373)
  …انسانی بالوں کی ”وِگ “ استعمال کرنا یا ان بالوں کی پیوند کاری کروانا حرام ہے۔ البتہ  اگر مصنوعی بال ہوں یا کسی ایسے جانور کے بال ہوں کہ وہ نجس العین نہ ہوتو ان بالوں کا لگوانا جائز ہے ۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اَہلِ سُنّت) 
  … سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   نے ارشاد فرمایا : جو شخص وضو کرے اور اچھا وضو کرے اور ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہو کر دو رکعت پڑھے ، اس کے ليے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ (مسلم، ص 118، حدیث: 553) بہار شریعت جلد اَوَّل صفحہ نمبر 675 پر ہے :  وضو کے بعد اعضا خشک ہونے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے۔ (تنوير الابصار مع درمختار، 2/563)  وضو کے بعد فرض وغیرہ پڑھے تو قائم مقام تحیۃُ الوضو کے ہوجائیں گے۔ (ردالمحتار، 2/563)
  …جھوٹ، غیبت، قہقہہ،(لغو)شعر،اونٹ کا گوشت کھانے اور ہر گناہ کے بعد وضو کر لینا مستحب ہے۔  (درمختار، 1/206)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن