دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ameer e Ahl e Sunnat Say Wuzu Kay Baray Mein Sawal Jawab | امیرِ اہلِ سنّت سے وضو کےبارے میں سوال جواب

Baghair Wuzu Durood Pak

book_icon
امیرِ اہلِ سنّت سے وضو کےبارے میں سوال جواب

جواب:بغیر وضو دُرُودِ پاک پڑھ سکتے ہیں ۔ ”قرآن ِپاک کى تلاوت بھى کر سکتے ہیں البتہ بغیر وضو قرآنِ پاک کو  چُھو نہیں سکتے ۔ (ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 2/475)

سُوال: چلتے پھرتے ، چپل پہن کر یا بے وُضو قرآ نِ پاک پڑھنا کیسا ؟ 
جواب: بے وُضو قرآنِ کریم پڑھنا جائز ہے لیکن قرآنِ کَریم کو بے وُضو چُھونا جائز نہیں ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، 1/348) نیز چپل پہن کر قرآنِ کَریم پڑھنے میں حَرَج نہیں۔
(ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 3/511)
سُوال: پیاز کاٹتے  وقت جو آنسو نکلتے ہیں کیا اُن سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے؟ اور یہ آنسو اگر کپڑے پر گرجائیں تو کیا کپڑا بھی ناپاک ہوجاتا ہے؟
جواب: پیاز کاٹتے وقت جو آنسو نکلتے ہیں پاک ہوتے ہیں ، اُن سے وُضو نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی کپڑا ناپاک ہوتا ہے۔(ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 3/463)
سُوال : آج کل جو مہندى لگائی جاتی ہے  وہ اىک دِن مىں  ہاتھوں سے پَپڑی بن کر  اُکھڑنا شروع ہو جاتى ہے تو کىا اسے لگا کر  وُضو اور غسل ہو جاتا ہے ؟
جواب : جس مہندى کی  تہ ہاتھ پاؤں پر جم جاتى ہے اىسی مہندی  نہ لگائىں کیونکہ جب تک وہ  چپکى رہے گی   وُضو نہىں ہو گا  اور  وُضو نہیں ہو گا تو  نماز بھى نہىں ہو گى۔ اِسی طرح اگر فرض غسل کىا تو   غسل بھى نہىں اُترے گالہٰذا اىسى مہندى لگائى جائے جس کی تہ چپکتی  نہ ہو ۔ جو مہندی ہم داڑھی پر  لگاتے ہىں اس کی تہ نہیں جمتی اور جو عورتىں لگاتى ہىں ان  کی تہ جمتی ہے اس لیے داڑھى پر مہندی لگانے والا اسے کبھى نہىں لگائے گا۔
 ( امیرِ اہلِ سنَّت  دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ    کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ) پہلى دَفعہ کى تہ 
تو ہر مہندی کی  جمتى ہے اور وہ اُتر بھی جاتى ہے مگر  کىمىکل والی  بہت سی  کون مہندیاں ایسی ہوتی  ہىں کہ  انہیں لگانے کے بعد جب ہاتھ دھو لیے جائیں تو اس کے بعد کلر نظر آ رہا ہوتا ہے جو بظاہر کلر لگتا ہے مگر خواتین جب  برتن دھوتی ہیں  ىا ویسے ہی ہاتھ دھوتی  رہتی ہیں  تو وہ  پپڑىوں کی صورت میں اُترتا ہے تو اس طرح کی مہندیاں لگانے  سے وُضو کے مَسائل ہوتے ہىں اور ایسی مہندیوں کے بارے میں دار الافتا اہلِ سنَّت کا فتویٰ ”شیطان کے بعض ہتھیار“ نامی رِسالے کے آخری صفحات پر موجود ہے ۔ خواتین کو مہندى لگانے کا شوق ہوتا ہے اور اس کے لیے وہ باقاعدہ اِہتمام کرتی ہیں تو انہیں بغیر  کىمىکل والی ایسی مہندی لگانی چاہیے جس کی  تہ نہ جمے ۔ 
(امیرِ اہلِ سنّت  دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ   نے اِرشاد فرمایا : ) آج کل ترقى زىادہ ہو گئى ہے ورنہ کسى دور مىں بچىاں پتلی مہندی بنا کر  آپس مىں اىک دوسرے کے ہاتھوں پر  تنکے سے  پھول وغیرہ بناتی تھیں اور اس دور میں مہندی کے بھی مَسائل نہیں تھے بس مہندی لگانے کے بعد ہاتھ دھوتیں تو رنگ نکل آتا تھا، مہندی کا رنگ گہرا نکلے اس کے لیے بار بار  اپنی مٹھیاں کھولتی اور بند کرتی تھیں اور بعض تو  رات کو مہندی لگا مٹھی بند کر کے اسے کپڑے سے باندھ دیا کرتی تھیں اور یوں مہندی کا  رنگ گہرا نکلتا تھا ۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے مگر مہندی پر جو  اتنا فالتو خرچ کرتے ہیں ا س کی طرف توجہ نہیں دیتے  جبکہ پہلے مہندی پر اتنا خرچ  کرنے کا تصور ہی نہیں تھا۔ اب بھی نارمل مہندی مل سکتی ہے مگر اسے  بنانے میں اتنی محنت کیسے کریں گی پہلے اس لیے محنت کرتی تھیں کہ اس طرح کی کون مہندیاں نہیں ملتی تھیں اب چونکہ مل جاتی ہیں اور خوفِ خُدا بھی کم ہو گیا ہے تو  اس لیے عورتیں یہ مہندیاں اِستعمال کر لیتی ہیں ۔ بہرحال میں نے مہندی کا  مسئلہ دار الافتا اہلِ سنَّت کے فتوے کی روشنی میں بیان کیا کہ ایسی مہندی نہیں لگانی چاہیے کہ جو پَپْڑی بن کر اُترتی ہے ۔
  (ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 3/47)
سُوال : کىا ڈِرپ  لگوانے سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ 
جواب : اگر ڈِرپ لگوانے  سے اس  مىں خون چڑھا تو  وُضو ٹوٹ جائے گا اور اگر خون نہىں چڑھا تو وُضو نہىں ٹوٹے گا۔ اگر انجکشن لگوانے  مىں اتنا خون  نکل آىا کہ بہہ  جائے گا تو  وُضو ٹوٹ جائے گا ورنہ انجکشن لگانے سے بھی وُضو نہىں ٹوٹے گا البتہ اگر ٹىسٹ کروانے کے  لىے خون نکلواىا تو وُضو ٹوٹ جائے گا۔ شوگر ٹىسٹ کرنے کے لىے انگلی پر  سوئى مارتے ہىں تو خون بہتا نہیں خالی اُبھرتا ہے تو اُبھرنے سے وُضو نہیں ٹوٹے گا البتہ اگر اتنا ہے کہ اُسے نہ پونچھتے تو بہہ جاتا  تو اب  وُضو ٹوٹ جائے گا۔
( امیرِ اہلِ سنَّت  دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ    کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ) اُصول ىہ ہے کہ جہاں سے  خون نکلا ہے اگر اس جگہ سے نکل کر ایسی  جگہ بہہ گىا جس کا  وُضو ىا غسل مىں دھونا فرض ہے تو اس صورت مىں وُضو ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ ہندیہ ، 1/10)
 (اس پر امیرِ اہل ِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ   نے فرمایا : )یہاں اُصول ہى بىان کىا جا سکتا ہے کیونکہ شوگر ٹیسٹ میں کسی کا خون معمولى سا اُبھرتا ہے اور کسی کا اتنا  کہ سوئی ٹچ کرنے سے پھٹ پڑتا ہے ۔ (ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 3/43)
سُوال:کیا واش روم میں ہاتھ دھوتے وقت دُعا یا دُرُودِ پاک پڑھ سکتے ہیں؟  
جواب: اٹیچ باتھ یعنی جہاں حَمّام کے ساتھ ہی W.C نظر آرہا ہوتا ہے اس جگہ کچھ بھی نہیں پڑھ سکتے ۔  وُضو بھی کریں گے تو کچھ نہیں پڑھیں گے لہٰذا وُضو سے پہلے بِسْمِ اللہ شریف یا جو بھی پڑھنا ہے باہر ہی پڑھ لیں پھر اندر جا کر  چُپ چاپ وُضو کریں ۔ 
(ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 3/134)
 (ایک اور مدنی مذاکرے میں فرمایا کہ)آج کل پیسے والے لوگوں کے  گھر وں میں آسائشوں کا پورا اِنتظام ہوتا ہے اور زبردست ڈیکوریشن ہوتی ہے ۔ اِسی طرح مُتَوَسِّط یعنی  دَرمیانے طبقے کے لوگوں اور جو صِرف نام کے غریب ہوتے ہیں ان کے گھروں میں بھی ڈیکوریشن اور سجاوٹیں ہوتی ہیں مگر وُضو خانہ نہیں ہوتا ۔ دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ لوگوں میں سے بھی کسی کسی  کے گھر  وُضُو خانے کا اِہتمام ہوتا ہے  حالانکہ گھروں میں وُضو خانہ بنانے کی بارہا  تَرغیب دِلائی گئی ہے اور راہ نُمائی کے لیے مکتبۃ المدینہ کا شائع کردہ ”وُضو کا طریقہ “ نامی رِسالے  میں وُضو خانے کا  نَقشہ بھی چھاپا گیا ہے ۔ عام طور پر گھروں میں بیسن پر وُضو کیا  جاتا ہے اور بیسن واش روم کے ساتھ بنا ہوتا ہے۔ یاد رَکھیے ! اگر بیسن واش روم  کے ساتھ بنا ہو تو وُضو کرتے ہوئے ” یَا قَادِرُ “اور وُضو کرنے سے پہلے بِسْمِ اللہ  نہیں پڑھ سکتے ۔ چونکہ وُضو سے پہلے ” بِسْمِ اللہ“ پڑھنا مُسْتَحَب ہے اور فقط اللہ پاک  کا نام لینا سُنّتِ مُؤکَّدہ ہے۔(  بحرالرائق، 1/39۔حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 67) اس لیے  واش روم  میں لگے ہوئے بیسن پر وُضو کر نے کے باعِث اگر اِسے  چھوڑنے کی عادت بنائیں گے تو  گناہ گار ہو جائیں گے لہٰذا ایسی صورت میں  ” بِسْمِ اللہ “پڑھنے کے لیے واش روم سے باہر نکلنا ضَروری ہو جائے گا۔ (ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 1/213) 
سُوال:اگر ہمیں یہ پتا نہ ہو  کہ ہمارا  وُضو ہے یا نہیں تو کیا اب ہم نماز کے لیے وُضو کریں گے؟ (SMS کے ذَریعے سُوال) 
جواب:اگر یہ  پتا ہے کہ وُضو کیا تھا اور  اب وُضو ٹوٹنے کا ایسا یقین ہے کہ قسم  کھا کر یہ کہہ  سکے کہ میرا وُضو ٹوٹ گیا ہے تو ایسی صورت میں نماز کے لیے وُضو کرنا پڑے گا۔ اگر اس بات میں شک ہے کہ وُضو کیا تھا یا نہیں کیا تھاتو اب وُضو کرنا پڑے گا۔(درمختار، 1/310) البتہ اگر وُضو کرنا تو یاد ہےمگر یہ وِسْوَسہ آیا کہ وُضو کیے ہوئے   بہت دیر ہو گئی ہے وُضو ٹوٹ گیا ہو گا تو  اس طرح وُضو نہیں ٹوٹتا۔ (بہارِ شریعت، 1/311، حصہ: 2۔ ملفوظات امیرِاہلِ سنت ،3/360)
سُوال: ایک اسلامی بھائی نے آنکھ کا آپریشن کروایا تو اب آپریشن کے بعد ان کی آنکھ سے آنسو یا جو دَوائی ڈالی جاتی ہے وہ  نکلے اور کپڑوں  پر گِر جائے تو کیا کپڑے  ناپاک ہو جائیں گے اور وُضو ٹوٹ جائے گا؟
جواب:اگر پاک دَوائی   آنکھوں میں ڈالی  اور وہ گِر گئی تو وہ پاک ہے۔ دُکھتی  آنکھ کا  آنسو جب تک آنکھ کے دائرے کے اندر ہے پاک ہے اور اس سے وُضو بھی نہیں ٹوٹتا لیکن  جب یہ دائرہ توڑ کر باہر  نکلے گا تب وُضو بھی  ٹوٹ جائے  گا اور یہ آنسو بھی ناپاک ہے  جبکہ مَرض کی وجہ سے نکلا ہو ۔ بہرحال دُکھتی آنکھ سے مَرض کی وجہ سے جو آنسو گِرتا ہے وہ ناپاک ہے  اور وُضو توڑتا ہے ۔(ملفوظات امیرِاہلِ سنت ، 3/360)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن