30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’پیارے نبی‘‘ کے 8 حروف کی نسبت سے مذکورہ حدیثِ پاک کے 8 فوائد
اِمام شَرفُ الدِّین نَوَویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں کئی فوائد ہیں : (۱)دعوت قبول کرنا(۲)درزی کی کمائی جائز ہونا (۳) شوربہ کھانے کا جواز (۴) کدّو شریف کھانے کی فضیلت (۵) کدّو شریف کوپسند کرنا مستحب ہے (۶) اسی طرح ہر اس چیز کو پسند کرنا جسے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پسند فرمایا(۷) اور اس چیز کے حُصُول میں حریص رہنا (۸) اگر میزبان کو ناگوار نہ ہوتو شُرَکاء طَعام کا ایک دوسرے پرایثارکرنا ۔ (شَرْح صَحِیْح مُسْلِم للنَّوَوی ج ۲ص۱۸۰باب المدینہ کراچی)
مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان شرح مشکوٰۃ شریف میں فرماتے ہیں : ’’ سرکارِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پیا لے کے ہر طرف سے کدُّو کے ٹکڑے اٹھا کر تناوُل فرمارہے تھے ۔ معلوم ہوا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کدُّو شریف مرغوب تھا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب مخدوم و خا دم ایک پیالے سے کھائیں تو مخدوم( آقا) ہر طرف سے کھاسکتاہے اوروہ جو حدیث پاک میں فرمایا : کُلْ مِمَّا یَلَیْک یعنی اپنے سا منے سے کھاؤ، وہاں چھوٹوں یا برابر والوں سے خطاب ہے ۔ لہٰذا یہ حدیث پاک اس کے خلا ف نہیں ۔ ’’صاحبِ مرقات‘‘ نے فرمایاکہ جب ایک شریک کے ہر طرف ہاتھ ڈالنے سے دوسرے شرکاء طعام نفرت (گھن) کریں تب یہ حکم ہے مگرحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہا تھ شریف سے چیز لگ کر تَبَرُّک بن جا تی ہے ۔ بعض حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان نے تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پیشاب بلکہ خون بھی تَبَرُّکاً پیا ہے ۔ لہٰذا حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم دوسرا ہے ۔ بہر حال یہ حدیث بہت واضح ہے ۔ بعض رِوایات میں ہے کہ حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی کدُّو شریف کے ٹکڑے تلاش کر کے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے پیش کرنے لگے ۔
اس حدیث پاک سے چند مسئلے معلوم ہو ئے : ایک یہ کہ اپنے خدّام و غلاموں کی دعوت قبول کرنا چاہئے اگرچہ وہ اپنے سے کم درجہ میں ہو ۔ دوسرے یہ کہ خادم کو اپنے سا تھ ایک پیا لے میں کھلانا بہت اچھا ہے ۔ تیسرے یہ کہ کدُّو شریف پسند کرناسنّتِ مبارکہہے ۔ چوتھے یہ کہ ہر سنّت سے محبت کرنا خو اہ سُنَّت ِزائد ہو یا ہُدی (سنَّتِ غیرموکّدہ یا سنَّتِ موکّدہ) ، طریقۂ صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ہے ۔ ؎
فقط اتنی حقیقت ہے ہما رے دین و ایماں کی
کہ اس جان جہاں کے حسن پر دیوانہ ہو جانا
پا نچویں یہ کہ مخدوم(یعنی آقا) اپنے خادِم کے سا تھ تو پیا لے میں سے ہر طرف سے کھا سکتا ہے ، خادِم کو یہ حق نہیں ۔ چھٹییہ کہ خا دِم پیا لہ سے بوٹیاں یا کدّو وغیرہ چُن کر مخدوم کے سا منے رکھ سکتا ہے ۔ ‘‘(ماخوذازمراٰ ۃ المناجیح ج۶ص۱۸ضیاء القرآن مرکز الاولیاء لاہور)
جذ بۂ عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
اسی ضِمْن میں قَاضِی القُضَاۃ اِمام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (شاگرد امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) کی اِیمان اَفروز حکایت سماعت فرمایئے ، چُنانچِہ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سامنے اس روایت کا ذکر آیا کہ’’حضورپُرنور، شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کدُّو شریف پسند فرما تے تھے ‘‘ تو مجلس میں سے ایک شخص نے کہا : ’’لیکن مجھے پسند نہیں ۔ ‘‘یہ سنتے ہی حضرتِ سیِّدُنا امام ابو یو سف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تلوار کھینچ لی اورفرمایا : "جَدِّدِ الْاِسْلَامَ وَاِلَّا قَتَلْتُک" ۔ تجدیدِ اسلام کر(یعنی نئے سِرے سے مسلمان ہوجا)، ورنہ میں تجھے ضَرور قتل کردوں گا ۔ (شرحُ الشِّفا للقاری ج۲ ص ۵۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت )
کدُّو شریف کوناپسندکرناکب کفرہے ؟
اگرمَعَاذَاللہ کسی کواِس حیثیت سے کدّوشریف ناپسند ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کویہ پسند تھا تویہ کفر ہے ۔ صَدْرُالشَّریعہ، بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : کسی کے اس کہنے پر کہ حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کدُّوپسند تھا کوئی یہ کہے : ’’مجھے پسند نہیں ‘‘ تو بعض عُلَماء کے نزدیک
کافر ہے اورحقیقت یہ ہے کہ اگر اس حیثیت سے اُسے نا پسند ہے کہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پسند تھا تو کافِر ہے ۔ (بہارِ شریعت حصہ ۹ ص ۸۶ضیاء القراٰن مرکز الاولیاء لاہور)
ہاں اگر اس طرح کی صورتِ حال نہ ہو اورکسی کا نَفْس کدّوشریف کو پسند نہیں کرتا اِس بِنا پر اگر کوئی کہتا ہے کہ مجھے کدُّو پسند نہیں یا مجھے کدّو نہیں بھاتا تو اُس پر حکمِ کفر نہیں ۔
قراٰن پاک میں کدّ وشریف کا ذ کر
سوال : سناہے کدُّوشریف کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے ، کس مقام پر؟
جواب : جی ہاں !کدُّوشریف کاذکر قرآن مجید میں بھی ہے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پارہ 23 سورۃُ الصّٰفّٰتآیت 146 میں ارشاد فرماتاہے :
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶) (پ۲۳ الصّٰفّٰت ۱۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ہم نے اس پر کدُّوکا پیڑ اُگایا ۔
صدرُالافاضل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع