دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Wudu kay Baray main Waswasay aur in ka Ilaj | وضو کے بارے میں وسوسے اور ان کا علاج

book_icon
وضو کے بارے میں وسوسے اور ان کا علاج

جَمَاعَت میں   شریک ہونے کاطریقہ

سُوال : امام کو رُکوع میں   پائیں   تو جماعت میں   کس طرح شریک ہوں   ؟

جواب : ایسی صورت میں   پہلے سیدھے کھڑے کھڑے تکبیرِتَحریمہ کہہ لیجئے ۔  اگر معلوم ہے کہ اِمام رُکوع میں   دیر کرتاہے اوروہ ثـنایعنی سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ پڑھ کر بھی اِمام کے ساتھ رُکوع میں   شریک ہو جائے گا تو پڑھ کر تکبیرِرُکوع کہتا ہوا جماعت میں   شامل ہو، یہ سُنَّت ہے ۔  ہاں   اگر سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ کہنے کی فرصت نہ ہو یعنی

اِحْتِمال ہوکہ جب تک اِمام رُکوع سے سر اٹھا لے گا تواب ہاتھ نہ باندھے جائیں   ۔ [1]؎ فقط سیدھا کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہے پھر فوراً رُکوع کی تکبیر کہتا ہوا جماعت میں   شامل ہوجائے ۔  (ماخوذ از فتاویٰ رَضَوِیَّہ مُخرَّجہ ج۷ص۲۳۵مرکزالاولیاء لاہور)

امام کے ساتھ اگر رکوع میں   معمولی سی شرکت ہو گئی تو رکعت مل گئی اور اگر آپ کے رکوع میں   داخل ہو نے سے قبل امام کھڑا ہو گیا تو رکعت نہ ملی  ۔

کھانے سے قبل پانی پینے کی وجہ

سوال : اکثر دیکھا ہے کہ آپ کھاناشُروع کرنے سے قَبل پانی پیتے ہیں  ۔ اس کی وجہ؟

جواب :            اَطِبـَّاء نے حِفظانِ صحّت کے چند اُصول بتائے ہیں   جن میں   سے ایک یہ بھی ہے کہ ہرچیز کواس کے مناسِب وقت ہی میں   کھانافائدہ دیتاہے جبکہ اس میں   بے اِحتیاطی مُضِرِّصحّت ہوسکتی ہے ۔ اِسی اُصول کے پیشِ نظر کھانے سے قبل پانی پینے کو مفیدِصحّت بتاتے ہیں  ۔ طبّی نُقطۂ نظر سے پھَل کھانے سے پہلے بھی پانی پینامُفید ہے ۔  اسی طرح چائے سے پہلے پانی پینا بھی فائدہ مند ہے ۔

پھل، کھاناکھانے سے پہلے کھاناچاہئے

سوال :           پھل کھانا کھانے سے پہلے کھانا چاہئے یابعدمیں  ؟

جواب :            اُصولاً پھل  (Fruit) بھی کھانے سے پہلے کھانا چاہئے لیکن ہمارے یہاں  آج کل پھل عُموماً کھانے کے بعد کھایا جاتا ہے ۔

حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں   : ’’اگر پھل ہوں   تو پہلے وہ پیش کئے جائیں   کہ طبّی لحاظ سے ان کا پہلے کھانا زیادہ مُوافِق ہے ، یہ جلدہَضم ہوتے ہیں   لہٰذا ان کومِعدے کے نچلے حصّے میں   ہونا چاہئے اور قراٰنِ پاک سے بھی پھل کے مُقدَّم (یعنی پہلے ) ہونے پر آگاہی حاصِل ہوتی ہے ، چُنانچِہ

قراٰنِ پاک میں   اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے ارشا د فرمایا  :

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ(۲۰)(پ ۲۷ اَلْوَاقِعَہ ۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان  : اور میوے جو پسند کریں   ۔

پھراس کے بعد فرمایا :

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ(۲۱)(پ ۲۷ اَلْوَاقِعَہ ۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان : اور پرندوں   کا گوشت جو چاہیں   ۔

پھر پھلوں   کے بعد کھانے میں   گوشت اور ثرید کومُقَدَّم کرنا افضل ہے ۔ (یعنی پھلوں   کے علاوہ دیگر کھانے ہوں   تو پہلے پھل کھائیں   پھر گوشت و ثرید)(اِحْیَاء عُلُومِ الدِّیْن ج۲ص۲۱ دار صادر بیروت)

میرے آقا اعلیٰ حضرت، مجدّدِدین وملّت مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن روایت نَقل کرتے ہیں  ، ’’ کھانے سے پہلے تربوز کھانا پیٹ کو خوب دھودیتا ہے اور بیماری کوجڑ سے ختم کردیتا ہے ‘‘ ۔ (فتاویٰ رَضَوِیَّہ مُخرَّجہ ج ۵ ص ۴۴۲مرکزُالاولیاء لاھور)

سبزی کھانے میں   حکمت

سوال :           بارہا دیکھاگیاہے کہ آپ کھانے میں   سبزی بالخصوص کدُّوشریف  استعمال فرماتے ہیں   اس میں   کیا حِکمت ہے ؟

جواب :            سبزی کو پسندکرنے میں  ایک حکمت تو یہ ہے کہ جس دسترخوان پر سبزی موجود ہو فرشتے اس دسترخوان پرحاضر ہوتے ہیں   جیساکہ حُجَّـۃُ الْاِسْلام امام محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی ’’اِحیاء ُ عُلُومِ الدّین‘‘ میں   نقل فرماتے ہیں : ’’بے شک اُس دسترخوان پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں   جس پرسبزی موجود ہو ۔ ‘‘(اِحْیاء عُلُومِ الدّین ج۲ ص۲۲دارصادر بیروت)

اورجو چیزمیرے آقاو مولا، ہم بے کسوں   کے حاجت روا، غریبوں   کے آسرا، شاہِ ہردوسرا    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو محبوب ہو، میں   اسے کیوں   محبوب نہ رکھوں  !  محبت کاتقاضا بھی یہی ہے کہ ہم اپنے پیارے آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہرسنّت وادا کومحبوب رکھیں   اورآپ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پسندکواپنی پسند بنائیں  جس طرح کہ صحابۂ کرام و اولیاء عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اپنے محبوب آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری پیاری اداؤں   کوحِِرْزِجانبنالیا، چُنانچِہصَحِیْحَیْن(یعنی بخاری ومسلم) میں  ہے ، حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں   : ’’ایک خَیّاط (درزی ۔  Tailor) نے سرکار نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مَدعُو کیا تو میں   بھی ساتھ چلاگیا، اُس نے جَوشریف کی روٹی اورشوربہ پیش کیا جس میں   کدُّوشریف  اورخُشک گوشت کی بوٹیاں   تھیں  ۔ میں   نے دیکھاکہ سرکارِدوعالم، نورِ مُجسَّم، شاہِ بنی آدم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پیالے کے کِناروں   سے کَدّو شریف ڈھونڈکر تَناوُل فرما رہے تھے ۔  اس دِن کے بعد میں   ہمیشہ کدّو شریف پسند کرنے لگا ۔  (صَحِیْح مسلِم ص۱۱۲۹حدیث ۲۰۴۱ دارابن حزم بیروت )

 



[1]    ہاتھ باندھنااس قیام کی سنّت ہے جس کے لئے قرار ہواوراس میں   ذکرِمسنون ہو لہٰذا حالتِ ثنا، قنوت اورنمازِ جنازہ کی تکبیرات میں   ہاتھ باندھے جائیں   گے جبکہ رُکوع وسُجود کے درمیان قیام یعنی قومہ اورتکبیراتِ عید میں  ہاتھ چھوڑے جائیں   گے ۔  (تنویرالابصار والدّرالمختارج۲ص۲۳۰دارالمعرفۃ بیروت)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن