30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمان رحمت نشان ہے : ’’ وضو کے لئے ایک شیطان ہے جس کانام ’’وَلَہَان‘‘ ہے ۔ لہٰذاتم پانی کے وسوسوں سے بچنے کی کوشش کرو (یعنی پانی کے بارے میں شیطان کے وَساوِس سے بچو جیسے اعضائے وضو وغسل تک پانی پہنچاہے یا نہیں ؟ایک بار دُھلاہے یازیادہ بار؟ وہ پاک ہے یا ناپاک ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ فیض القدیرج۲ص۶۳۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت)(سُنَنِ اِبْنِ مَاجَہ حدیث ۴۲۱ ج۱ ص۲۵۲ دارالمعرفۃ بیروت)
اسی طرح شیطان نماز میں بھی شک پیدا کرتا ہے کہ وضو ٹوٹ گیا اور انسان پیشاب کا قطرہ نکلنے یا ریح خارج ہو نے کاگمان کرتا ہے اور یہ وَسْوَسۂ شیطانی ہو تا ہے ۔
چنانچہ اس ضِمْن میں میرے آقائے نعمت، اعلیٰ حضرت، مجدِّدِ دین وملّت، عاشقِ ماہِ نُبُوَّت ، پروانۂ شمعِ رسالت ، مولیٰنا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن چند احادیث نقل فرمانے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں : ’’ان حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نماز میں دھوکا دینے کے لئے کبھی انسان کی شرمگاہ پر آگے سے تھوک دیتا ہے کہ اُسے قطرہ آنے کا گمان ہوتاہے ۔ کبھی پیچھے پھونکتا ہے یا بال کھینچتا ہے کہ ریح خارج ہونے کا خیال گزرتا ہے ۔ اس پر حکم ہو ا کہ نماز سے نہ پھروجب تک تری یا آواز یا بُو نہ پاؤجب تک وقوعِ حدَث (یعنی وضو ٹوٹنے )پریقین نہ ہو لے ۔ ‘‘ (فَتَاویٰ رَضَوِیَّہ مُخرَّجہ ج۱ ص۷۷۴ مرکز الاولیاء لاھور)
جب تک وضو ٹوٹنے کا ایسا یقین نہ ہو کہ جس پر قسم کھا سکے تو وسوسوں کا اعتبار نہ کرے ، شیطان جب کہے ، تیرا وضو جاتا رہا، توتُو دل میں جواب دے کہ خبیث تُوجھوٹا ہے اور اپنی نماز میں مشغول رہے ، جیسا کہ حضرت سیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روا یت کرتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر وسوسہ ڈالے کہ تیرا وضو جاتا رہا تو فوراً اسے دل میں جواب دے کہ تُو جھوٹا ہے یہاں تک کہ اپنے کانوں سے آواز نہ سن لے یااپنی ناک سے بُو نہ سونگھ لے ۔ ‘‘(الاحسان بترتیب صحیح ابن حِبّان ج۴ص۱۵۳حدیث۲۶۵۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اگر پھر بھی شیطان وسوسہ دلائے کہ تُو نے یہ عمل کامل نہ کیا ۔ اس میں فُلاں نَقص رہ گیا تو اس دشمن شیطان سے کہہ دے کہ اپنی دل سوزی اٹھا رکھے ۔ مجھ سے تو اِتنا ہی ہو سکتا ہے اگر ناقص ہے تو میں خود بھی ناقص ہوں ۔ اپنے لا ئق میں بجالایا ۔ میرا مولا کریم عَزَّوَجَلَّہے ۔ میرے عجزوضعف پر رحم فرما کر اتنا ہی قَبول فرما لے گا ۔
اگر ایسا کرنے سے بھی وسوسہ نہ ٹلے تو کہہ دے کہ اگر تیرے کہنے سے میرا وضو نہ ہوا ۔ میری نماز نہ سہی مگر مجھے تیرے خیال کے مطابق بے وضو یاظہر کی تین رکعت پڑھنا گوارا ہے اور اے ملعون !تیری اطاعت قبول نہیں ۔ جب یوں دل میں ٹھان لی تو وسوسہ کی جڑ کٹ جائے گی ۔ ( فَتَاویٰ رَضَوِیَّہ مُخرَّجہ ج۱ ص۷۸۶، ۷۸۷مُلَخَّصاً مرکزالاولیاء لاھور)
حضرت سیِّدُنااِمام مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کے فرمان کا بھی یہی مطلب ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ مجھے بے وُضو نماز پڑھ لینی اس سے زیادہ پسند ہے کہ شیطان کی اطاعت کروں (یہاں حقیقت میں بے وضو نماز پڑھنا مراد نہیں شیطان کا وسوسہ دفع کرنا مقصود ہے )(الطریقۃ المحمدیہ مع شرحہ الحدیقۃالندیۃ ج۲ص۶۸۸ دارالطباعۃ العامرۃ)
میرے آقائے نعمت ، امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت، اعلیٰ حضرت مولیٰنا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنی تمام بحث کا خلاصہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’(وسوسہ کی)تین حالتیں ہو تی ہیں : ایک تو یہ کہعَدُو (شیطان)کا وسوسہ مان لیا، اس پر عمل کیا یہ تو اس ملعون کی عین مُراد ہے اور جب یہ(آدمی) ماننے لگا تو وہ کیا ایک ہی بار وسوسہ ڈال کر تھک رہے گا ؟ حاشا(ہرگز نہیں ) !وہ ملعون آٹھ پَہَر اس کی تاک میں ہے یہ (آدمی)جتناجتنا مانتا جا ئے گا وہ اس کا سلسلہ بڑھاتا جائے گا یہاں تک کہ نتیجہ وہی ہو گا دودوپہر کامل دریامیں غوطے لگا ئے اور سر نہ دُھلا ۔ دوسرے یہ کہ مانے تو نہیں مگر اس (شیطان)کے ساتھ نزاع و بحث میں مصروف ہو جا ئے یہ بھی اس کے مقصدِ ناپاک کا حصول ہے کہ اس کی غرض تو یہی تھی کہ یہ (آدمی) اپنی عبادت سے غافل ہو کر کسی دوسرے کے جھگڑے میں پڑ جائے اور اس حَیْص بَیْص (یعنی بحث وتکرار) میں ممکن ہے کہ وہی خبیث غالب آئے اور صورتِ ثانیہ صورتِ اُولیٰ کی طرف عَوْدکر (یعنی لَوٹ)جائے ، وَالْعِیَاذُبِاللّٰہِ تَعَالٰی ۔ لہٰذانَجات اس تیسری صورت میں ہے جو ہمارے نبیٔ کریم ، حکیم علیم، رؤف رحیم عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلہٖ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے تعلیم فرمائی کہ فوراً اِتنا کہہ کر الگ ہوجائے کہ تُو جھوٹا ہے ۔ ‘‘(فَتَاویٰ رَضَوِیَّہ مُخرَّجہ ج۱ ص۷۷۹مرکزالاولیاء لاھور)
’’یَارَسُولَ اللّٰہ ‘‘کے 10 حروف کی نسبت سے وسوسوں سے بچنے کے 10وظائف اور تدابیر
سوال : آپ نے وَسوَسوں کے متعلق ارشاد فرمایاان سے بچنے کے لئے چند وظائف و تدابیر بھی ارشاد فرما دیجئے ؟
جواب : وساوِس سے بچنے کے چند وظائف یہ ہیں میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتْ فرماتے ہیں :
1 ۔ اللّٰہ عَزَّّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرے ۔
2 ۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم پڑھے ۔
3 ۔ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَاِلَّا بِاللّٰہِ پڑھے ۔
4 ۔ سُوْرَۃُ النَّاسکی تلاوت کرے ۔
5 ۔ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ کہے ۔
6 ۔ { هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۳)}(پ۲۷الحدید۳) کہے ، ان سے فوراًوسوسہ دفع ہو جاتا ہے ۔
7 ۔ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْخَلَّاقِ ط {اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ(۱۶)وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ(۱۷)}(پ۱۳ ابراہیم آیت۱۹، ۲۰) کی کثرت اسے جڑ سے قطع کر دیتی ہے ۔ (فَتَاویٰ رَضَوِیَّہ مُخرَّجہ ج۱ ص۷۷۰ مرکزالاولیاء لاھور)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع