30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چشمہ کی سفیدی کھلی رہے )، لفظ’’اللّٰہ‘‘ خُو بصورت لکھو اور لفظ ’’الرَّحمٰن‘‘کودراز کرکے اور لفظ ’’الرَّحِیْم‘‘ عُمدہ لکھو ۔ ‘‘(شفاء شریف ص۳۵۷ مرکز اہلسنت برکا ت رضا الہند)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بِـسْـمِ الـلّٰـہِ الرَّحْمٰنِ الـرَّحِـیْـملکھنے کاعظیم ثواب پانے کیلئے ہو سکے توکبھی کبھی باوُضوخوش خَطی کے ساتھ کاغذوغیرہ پربِـسْـمِ الـلّٰـہِ الرَّحْمٰنِ الـرَّحِـیْـم تحریر فرما لیا کریں اورلکھنے میں میم کا دائرہ کھلا رکھیں مثلاً اس طرح م یا م لیکن بے ادَبی کی جگہ ہرگزنہ لکھئے ، دیواروں پربھی آیات و مقدّس کلِمات مت لکھئے کہ آہِستہ آہِستہ لِکھائی کے ذَرّات جھڑ کر زمین پرتشریف لاتے ہیں نیزمساجِدومَدارِس وغیرہ میں بھی اِس ادَب کا خیال رکھئے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اَدب کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ ؎
ازخدا خواہیم توفیقِ ادب
بے ادب مَحروم گَشْت از فضلِ ربّ
( یعنی ہم اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے اَدب کی توفیق کے طلبگار ہیں کہ بے اَدب فضلِ ربّعَزَّوَجَلَّ سے محروم ہو کر در بدر ذلیل و خوار پھرتا ہے )
اَمیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی پسندیدہ شخصیت
سوال : آپ کی پسندیدہ شخصیت کون سی ہے ؟
جواب : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّّوَجَلَّ میری پسندیدہ شخصیت سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ، صاحبِ مُعطَّر پسینہ، باعثِ نُزُوْلِ سکینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ سِتُودَہ صِفات ہے کہ جن کی مثل آج تک کوئی پیدا ہوا ، نہ ہوگا، جو ہر خوبی و کمال سے مُتَّصِف و مُتَحَلّٰی(مُزَیَّن) اورہرنَقص و عیب سے مُنَزَّہ و مُبَرّا(پاک)ہیں ۔
مَدّاحِ ماہِ نُبُوَّت ، ثناخوانِ دربارِرسالت حضرت ِسیِّدُنا حسّان بن ثابِت انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں : ؎
وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنِیْ
وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِالنِّسَآءُ
خُلِـقْتَ مُبَـــرَّءً امِّـنْ کُلِّ عَیْب
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ
(دِیْوَانِِ حَسَّان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ )
(یعنی یارسول اللہعَزَّّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ سے زیادہ خوبصورت کبھی میری آنکھ نے دیکھا ہی نہیں اور نہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بڑھ کر حسین وجمیل کسی ماں نے آج تک جنا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہرعیب سے پاک پیدا کئے گئے گویا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اسی طرح پیدافرمائے گئے جس طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خودچاہا)
حضرتِ سیِّدُنااِمام شرف الدّین بوصیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ، بارگاہِ سَرْوَرِ اِنس وجاں ، مالِکِ کون ومکاں ، سُلطانِ دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں رَطْبُ اللِّسان ہیں :
مُنَزَّہٌ عَنْ شَرِیْکٍ فِیْ مَحَاسِنِــہٖ
فَجَوْھَرُ الْحُسْنِ فِیْہِ غَیْرُمُنْقَسِمٖ
(قصیدۃ بُردۃ )
(یعنی محبوب خدا عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک نہیں ، اس لئے کہ ان میں جو حسن کا جوہرہے وہ قابل تقسیم نہیں )
حضرتِ شمس الدّین محمدحافِظ شیرازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی بارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہیں :
یَاصَاحِبَ الْجَمَالِ وَیَاسَیِّدَ الْبَشَرْ
مِنْ وَّجْھِکَ الْمُنِیْـرِ لَقـَدْ نُوِّرَ الْقـَمَرْ
لَا یُمْکِـنُ الثَّنَــآءُ کَمَـاکَانَ حَقُّــہٗ
بَعْد اَزْخُدَابُزُرْگْ تُوْئِیْ قِصَّہ مُخْتَصَرْ
(یعنی اے حسن و جمال والے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور تمام انسانوں کے سردارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بے شک آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نورانی چہرے کی تابانی سے چاندکوروشن کیاگیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مِدْحَت کا حق ادا کرناممکن ہی نہیں ، المختصر یہ کہ حق تعالیٰ کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کا مرتبہ و مقام ہے )
میرے آقائے نعمت ، عظیم البرکت ، عظیم المرتبت ، عاشقِ ماہ ِ نُبُوَّت پروانۂ شمعِ رِسالت شاہ اِمام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بارگاہِ نُبُوَّت میں مَدْح سراہیں :
لَـمْ یَأتِ نَظِیْـرُکَ فِیْ نَظَـرٍ ، مثلِ تونہ شُد پیدا جانا
جگ راج کوتاج تورے سر سو ، ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا
(یعنی یارسُول اللّٰہ !عَزَّّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ کامثل کسی کو نظر نہ آیا، (کیونکہ) آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مثل کو ئی پیدا ہی نہیں ہوا ، سارے جہاں کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع