30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سونے سے وُضو ٹوٹنے نہ ٹوٹنے کا بیان
نیند سے وُضو ٹوٹنے کی دو شَرطیں ہیں : {1} دونوں سُرِین اچّھی طرح جمے ہوئے نہ ہوں {2} ایسی حالت پر سویا جو غافِل ہوکر سونے میں رُکاوٹ نہ ہو۔ جب دونوں شَرطیں جمع ہوں یعنی سُرِین بھی اچّھی طرح جمے ہوئے نہ ہوں نیز ایسی حالت میں سویا ہو جو غافِل ہوکر سونے میں رُکاوٹ نہ ہو تو ایسی نیندسے وُضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر ایک شَرط پائی جائے اور دوسری نہ پائی جائے تو وُضو نہیں ٹوٹے گا۔
سونے کے وہ دس انداز جن سے وُضو نہیں ٹوٹتا : {1} اس طرح بیٹھنا کہ دونوں سرین زمین پر ہوں اور دونوں پاؤں ایک طرف پھیلائے ہوں ۔ (کُرسی ، ریل اور بس کی سیٹ پر بیٹھنے کا بھی یِہی حکم ہے ) {2} اس طرح بیٹھنا کہ دونوں سُرِین زمین پر ہوں اور پِنڈلیوں کو دونوں ہاتھوں کے حلقے میں لے لے خواہ ہاتھ زمین وغیرہ پر یا سرگُھٹنوں پر رکھ لے {3} چار زانویعنی پالتی( چوکڑی) مارکر بیٹھے خواہ زمین یا تَخت یا چارپائی وغیرہ پر ہو {4} دو زانو سیدھا بیٹھا ہو{5} گھوڑے یا خَچَّر وغیرہ پر زِین رکھ کر سُوار ہو{6} ننگی پیٹھ پر سُوار ہو مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا ہو یا راستہ ہَموار ہو{7} تکیہ سے ٹیک لگاکر اس طرح بیٹھا ہو کہ سُرین جمے ہوئے ہوں اگر چِہ تکیہ ہٹانے سے یہ گر پڑے {8} کھڑا ہو {9}رُکوع کی حالت میں ہو{10} سنّت کے مطابِق جس طرح مرد سجدہ کرتا ہے اِس طرح سجدہ کرے کہ پیٹ رانوں اور بازوپہلوؤں سے جُدا ہوں ۔ مذکورہ صورَتیں نَماز میں واقِع ہوں یا علاوہ نَماز ، وُضو نہیں ٹوٹے گا اورنَماز بھی فاسِد نہ ہوگی اگرچِہ قصداً سوئے ، البتّہ جو رُکن باِلکل سوتے ہوئے ادا کیا اُس کا اِعادہ ( یعنی دوبارہ ادا کرنا)ضَروری ہے اور جاگتے ہوئے شروع کیا پھر نیند آگئی تو جو حصّہ جاگتے اداکیا وہ ادا ہوگیابَقِیّہ ادا کرنا ہوگا۔
سونے کے وہ دس انداز جن سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے : {1} اُکڑوں یعنی پاؤں کے تلووں کے بَل اِس طرح بیٹھا ہو کہ دونوں گُھٹنے کھڑے رہیں {2} چِت یعنی پیٹھ کے بَل لیٹا ہو{3} پَٹ یعنی پیٹ کے بَل لیٹا ہو{4} دائیں یا بائیں کروٹ لیٹا ہو{5} ایک کُہنی پر ٹیک لگاکر سوجائے {6} بیٹھ کر اِس طرح سویا کہ ایک کروَٹ جھکا ہو جس کی وجہ سے ایک یا دونوں سرین اُٹھے ہوئے ہوں {7} ننگی پیٹھ پر سُوار ہو اور جانور پستی(یعنی نچان ) کی جانب اُتر رہا ہو{8} پیٹ رانوں پر رکھ کر دو زانو اِس طرح بیٹھے سَویا کہ دونوں سرین جَمے نہ رہیں {9} چار زانُو یعنی چَوکڑی مارکر اِس طرح بیٹھے کہ سر رانوں یاپِنڈلیوں پر رکھا ہو {10} جس طرح عورَت سَجدہ کرتی ہے اس طرح سَجدہ کے انداز پر سویا کہ پیٹ رانوں اور بازوپہلوؤں سے ملے ہوئے ہوں یا کلائیاں بچھی ہوئی ہوں ۔ مذکورہ صورَتیں نَماز میں واقِع ہوں یا نَما ز کے علاوہ وُضو ٹوٹ جائے گا ۔ پھر اگر ان صورَتوں میں قصدًا سویا تو نَماز فاسِد ہوگئی اور بِلاقَصد سویا تو وُضو ٹوٹ جائے گا مگر نَماز باقی ہے۔ بعدِ وُضو (مخصوص شرائط کے ساتھ ) بقیّہ نماز اسی جگہ سے پڑھ سکتا ہے جہاں نیند آئی تھی ۔ شرائط نہ معلوم ہوں تو نئے سرے سے پڑھ لے ۔ (ماخوذ اَزفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱ص۳۶۵ تا ۳۶۷)
وُضو ئے انبیائے کرام عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اورنیند مبارک
انبیاء عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا وُضو سونے سے نہیں جاتا۔ فائدہ : انبیاء عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی آنکھیں سوتی ہیں دل کبھی نہیں سوتا ٭بعض نَو اقِضِ وُضو (یعنی بعض وضو توڑنے والی چیزیں )انبیاء عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے لیے یُوں ناقِضِ وُضو(وُضوٹوٹنے کا سبب) نہیں کہ ان کا وُقوع(یعنی واقِع ہو نا)ہی اُن سے مُحال(یعنی ناممکن) ہے جیسے جنون (یعنی پاگل پن )یا نَماز میں قَہقَہہ٭غشی (یعنی بے ہوشی) بھی انبیاء عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے جسمِ ظاہِر پرطاری ہو سکتی ہے ، دل مبارَک اِس حالت میں بھی بیدار و خبردار رہتا۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ ج ۴ ص ۷۴۰)
مساجِد کے وُضو خانے
مِسواک کرنے سے بعض اَوقات دانتوں میں خون آجاتا ہے اور تھوک بھی سرخ ہونے کی وجہ سے ناپاک ہو جاتا ہے مگر افسوس کہ احتیاط نہیں کی جاتی ۔ مساجِد کے وُضو خانے بھی اکثر کم گہرے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سُرخ تھوک والی کُلّی کے چھینٹے کپڑوں یا بدن پر پڑتے ہیں ، نیز گھر کے حمام کے پختہ فرش پر وُضو کرتے وقت اِس سے بھی زِیادہ چھینٹے پڑتے ہیں ۔
گھر میں وُضو خانہ بنوائیے
آج کل بَیسِن( ہاتھ دھونے کی کُونڈی ) پر کھڑے کھڑے وُضو کرنے کا رَواج ہے جوکہ خِلافِ مُستحَب ہے۔ افسوس ! لوگ آسائشوں بھری بڑی بڑی کوٹھیاں تو بناتے ہیں مگر اِس میں وُضو خانہ نہیں بنواتے !سُنَّتوں کا دَرد رکھنے والے اسلامی بھائیوں کی خدمتوں میں مَدَنی اِلتِجا ہے کہ ہوسکے تو اپنے مَکان میں کم از کم ایک ٹونٹی کا وُضو خانہ ضَرور بنوائیے۔ اِس میں یہ احتیاط ضَرور رکھئے کہ ٹونٹی کی دھار براہِ راست فرش پر گرنے کے بجائے ڈھلوان پر گرے ورنہ دانتوں میں خون وغیرہ آنے کی صورت میں بدن یا لباس پر چھینٹے اُڑنے کا مسئلہ رہے گا اگر آپ محتاط وضو خانہ بنوانا چاہتے ہیں تو اِسی رسالے کے پیچھے دئیے ہوئے نقشے سےرہنمائی حاصِل کیجئی٭ ڈَبلیو سی(.W.C) میں پانی سے استنجا کرنے کی صورت میں عموماً دونوں پاؤں کے ٹخنوں کی طرف چھینٹے آتے ہیں لہٰذا فراغت کے بعد احتیاطاً پاؤں کے یہ حصّے دھولینے چاہئیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع