30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! وُضُو کے طِبّی فوائد سن کر آپ خوش تو ہوگئے ہوں گے مگر عرض کرتا چلوں کہ سارے کا سارا فَنِّ طِبّ ظَنِّیات پرمَبنی ہے۔ سائنسی تحقیقات بھی حَتْمی (یعنی فائنل) نہیں ہوتیں ، بدلتی رَہتی ہیں۔ ہاں اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَحکامات اٹل ہیں وہ نہیں بدلیں گے۔ ہمیں سنّتوں پر عمل طبّی فوائدپانے کیلئے نہیں صِرْف و صِرْف رِضائے اِلٰہی عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر کرنا چاہئے، لہٰذا اِس لئے وُضُو کرنا کہ میرا بلڈ پریشر نارمل ہوجائے یا میں تازہ دم ہوجاؤں گا یا ڈائٹنگ کیلئے روزہ رکھنا تاکہ بھوک کے فوائِد حاصل ہوں۔ سفرِ مدینہ اس لئے کرنا کہ آب و ہوا بھی تبدیل ہوجائے گی اور گھر اور کاروباری جَھنجَھٹ سے بھی کچھ دن سُکون ملے گا۔ یا دینی مُطالعہ اِس لئے کرنا کہ میرا ٹائم پاس ہوجائے گا۔ اس طرح کی نیّتوں سے اعمال بجالانے والوں کو ثواب نہیں ملے گا۔ اگر ہم عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو خوش کرنے کیلئے کریں گے تو ثواب بھی ملے گا اور ضِمناً اِس کے فوائد بھی حاصل ہوجائیں گے۔ لہٰذا ظاہِری اور باطِنی آداب کو مَلْحُو ظ رکھتے ہوئے وُضُو بھی ہمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا ہی کیلئے کرنا چاہئے ۔
حُجَّۃُ الاسلام امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیفرماتے ہیں : وُضو سے فراغت کے بعد جب آپ نَماز کی طرف مُتَوجّہ ہوں اُس وَقْت یہ تصوُّر کیجئے کہ جن ظاہِری اَعضاء پر لوگوں کی نظر پڑتی ہے و ہ تو بظاہِر طاہِر ( یعنی پاک) ہوچکے مگر دل کو پاک کئے بِغیر بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں مُناجات کرنا حیا کے خِلاف ہے کیوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دلوں کوبھی دیکھنے والاہے ۔ مزید فرماتے ہیں : ظاہِری وُضو کرلینے والے کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دل کی طہارت ( یعنی صفائی) توبہ کرنے اور گناہ کو چھوڑنے اور عمدہ اَخلاق اپنانے سے ہوتی ہے ۔ جو شخص دل کو گناہوں کی آلودَگیوں سے پاک نہیں کرتا فَقَط ظاہِری طہارت ( یعنی صفائی ) اور زَیب و زینت پر اِکتِفا کرتا ہے اُس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو بادشاہ کو مَدعو کرتا ہے اور اپنے گھر کو باہَر سے خوب چمکاتا ہے اور رنگ و روغن کرتا ہے مگر مکان کے اندر ونی حصّے کی صفائی پر کوئی توجُّہ نہیں دیتا ، اب ایسی صورت میں جب بادشاہ اُس کے مکان کے اندر آکر گندگیاں دیکھے گا تو وہ ناراض ہوگا یا راضی یہ ہر ذی شُعُور خود سمجھ سکتا ہے ۔ (اِحْیَاءُ الْعُلوم ج ۱ ص ۱۸۵ مُلَخَّصاً)
سنّت سائنسی تحقیق کی محتاج نہیں
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! یاد رکھئے! میرے آقا عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سنّت سائنسی تَحقیق کی محتاج نہیں اور ہمارا مقصود اِتِّباعِ سائنس نہیں اِتّباعِ سنّت ہے، مجھے کہنے دیجئے کہ جب یورپِیَن ماہِرین برسہا برس کی عَرَق رَیزی کے بعد نتیجے کا دَریچہ کھولتے ہیں تو انہیں سامنے مسکراتی نور برساتی سنّتِ مُصطَفو ی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ہی نظر آتی ہے! دنیا میں لاکھ سیر و سیاحت کیجئے، جتنا چاہے عیش و عشرت کیجئے، مگر آپ کے دل کو حقیقی راحت مُیَسَّر نہیں آئے گی، سُکونِ قَلْب صِرْف و صرْف یادِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں ملے گا۔ دل کا چَین عشقِ سرورِ کونَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ہی میں حاصل ہوگا۔ دنیا و آخِرت کی راحَتیں سائنسی آلات TV. ، VCR اورInternetکے رُوبُرو نہیں اِتّباعِ سنّت میں ہی نصیب ہوں گی۔ اگر آپ واقِعی دونوں جہاں کی بھلائیاں چاہتے ہیں تو نَمازوں اور سنّتوں کو مضبوطی سے تھام لیجئے اور انہیں سیکھنے کیلئے دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں سفر اپنا معمول بنالیجئے۔ ہر اِسلامی بھائی نیّت کرے کہ میں زندَگی میں کم از کم ایک بار یکمُشت12 ماہ، ہر12 ماہ میں 30دن اور ہر ماہ3 دن سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافلے میں سفر کیا کروں گا، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
تِری سنّتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر چلے تُو گلے لگانا مَدَنی مدینے والے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع