30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاؤں سب سے زیادہ دُھول آلود ہوتے ہیں۔ پہلے پہلInfection (یعنی جراثیم) پاؤں کی اُنگلیوں کے درمِیانی حصّے سے شُروع ہوتا ہے۔ وُضُو میں پاؤں دھونے سے گرد و غُبار اور جَراثیم بہ جاتے ہیں اور بچے کُھچے جراثیم پاؤں کی اُنگلیوں کے خِلال سے نکل جاتے ہیں۔ لہٰذا وُضُو میں سنّت کے مطابِق پاؤں دھونے سے نیند کی کمی، دِماغی خشکی، گھبراہٹ اور مایوسی (Depression) جیسے پریشان کُن اَمراض دُور ہوتے ہیں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہفرماتے ہیں : حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وُضو فرما کر بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر نوش فرمایا اور ایک حدیث میں روایت کیا گیا کہ اِس کا پانی70مَرَض سے شفا ہے ( فتاوٰی رضویہ ج ۴ ص ۵۷۵) فقہائے کرام رَحمَہُمُ اللہُ السلامفرماتے ہیں : ’’ کسی برتن یا لوٹے سے وُضُو کیا ہو تو اُس کا بچا ہوا پانی قبلہ رُو کھڑے ہوکر پینا مُستحَب ہے۔ ‘‘ (تَبیِینُ الحقائق ج۱ص۴۴ ) وُضُو کا بچا ہوا پانی پینے کے بارے میں ایک مسلمان ڈاکٹر کا کہنا ہے: {۱} اِس کا پہلا اثر مَثانے پر پڑتا، پیشاب کی رُکاوَٹ دُور ہوتی اور خوب کُھل کر پیشا ب آتا ہے {۲} اِس سے ناجائزشَہْوت سے خَلاصی حا صِل ہوتی ہے {۳} جگر، مِعدہ اورمَثانے کی گرمی دور ہوتی ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! وضُو اور سائنس کا موضُوع چل رہا تھا ، آج کل سائنسی تحقیقات کی طرف بعض لوگوں کا زیادہ رُجحان ( رُجْ۔ حان) ہوتا ہے بلکہ کئی ایسے بھی افراد اِس مُعاشرے میں پائے جاتے ہیں جو اِنگریز مُحَقِّقِین اور سائنسدانوں سے کافی مَرعوب ہوتے ہیں ، ایسوں کی خدمت میں عرض ہے کہ بَہُت سارے حقائق ایسے ہیں جن کی تلاش میں سائنسدان آج سَر ٹکرارہے ہیں اور میرے میٹھے میٹھے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو پہلے ہی بیان فرماچکے ہیں۔ دیکھئے! اپنے دعوے کے مطابِق سائنسدان اب چاند پر پہنچے ہیں مگر میرے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطَفیَّٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ الفاظ لکھتے وَقت (یعنی مُحَرَّمُ الحرام ۱۴۳۴ھ) تقریباً 1434سالپہلے سفرِ معراج میں چاند سے بھی وَراء ُ الوَراء ( یعنی دور سے دور) تشریف لے جاچکے ہیں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہکے عرس شریف کے موقع پر دارُالعلوم امجدیہ عالمگیر روڈ باب المدینہ کراچی میں منعقد ہونے والے ایک مُشاعِرے میں شرکت کا موقع ملاجس میں حدائقِ بخشش شریف سے یہ ’’مِصرعِ طرح‘‘ رکھا گیا تھا:
سَر وُہی سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
حضرتِ صَدرُالشَّریعت، بَدرُالطَّریقت ، مصنِّفِ بہارِ شریعت ، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مولانا مفتی محمداَمجد علی اعظمی صاحِب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکے شہزادے مُفسِّرِ قرآن حضرتِ علّامہ عبدُ المصطفیٰ اَزہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے اس مُشاعِرہ میں اپنا جو کلام پیش کیا تھا اُس کا ایک شِعر مُلاحَظہ ہو:
کہتے ہیں سَطْح پہ چاند کی اِنسان گیا عرشِ اعظم سے وَراء طیبہ کا سلطان گیا
یعنیکہا جارہا ہے کہ اب انسان چاند پر پہنچ گیاہے!سچ پوچھو تو چاند بہت ہی قریب ہے، میرے میٹھے مدینے کے عَظَمت والے سلطان، شَہْنَشاہِ زمین و آسمان، رَحمتِ عالمیان، سردارِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممِعراج کی رات چاند کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عرشِ اعظم سے بھی بَہُت اُوپر تشریف لے گئے ۔
عرش کی عَقْل دَنگ ہے چَرخ میں آسمان ہے جانِ مُراد اب کدھر ہائے ترا مکان ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع