30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاتا ہے، اِس میں اَمراض کامقابلہ کرنے کی قوَّت نہیں رہتی اور مریض گُھل گُھل کر مر جاتا ہے {۲} منہ کے کناروں کا پھٹنا {۳} منہ اور ہونٹوں کی دادقُوبا (Moniliasis) {۴} منہ میں پَھپُھوندی کی بیماریاں اور چھالے وغیرہ۔ نیز روزہ نہ ہو تو کلّی کے ساتھ غَرغرہ کرنا بھی سنّت ہے۔ اور پابندی کے ساتھ غَرغرے کرنے والا کوّے (Tonsil) بڑھنے اور گلے کے بہت سارے اَمراض حتیّٰ کہ گلے کے کینسر سے محفوظ رَہتا ہے۔
پھیپھڑوں کو ایسی ہوا درکار ہوتی ہے جو جراثیم، دُھوئیں اور گَرد و غُبا ر سے پاک ہو اور اس میں 80 فیصد رَطُوبت (یعنی تَری) ہو ایسی ہوا فراہم کرنے کیلئے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمیں ناک کی نعمت سے نوازا ہے۔ ہوا کو مَرطُوب یعنی نَم بنانے کیلئے ناک روزانہ تقریباً چوتھائی گَیلن نَمی پیدا کرتی ہے۔ صَفائی اور دیگر سخت کام نَتھنوں کے بال سر اَنجام دیتے ہیں۔ ناک کے اندر ایک خردبینی (Microscopic) جھاڑو ہے۔ اِس جھاڑو میں غیر مرئی یعنی نظر نہ آنے والے رُوئیں ہوتے ہیں جو ہوا کے ذَرِیعے داخِل ہونے والے جراثیم کوہَلاک کردیتے ہیں۔ نیز ان غیر مَرَئی رُؤوں کے ذِمّے ایک اور دِفاعی نظام بھی ہے جسے اِنگریزی میں lysozyme (لَیْسوزائِم) کہتے ہیں ، ناک اِس کے ذَرِیعے سے آنکھوں کو Infection (یعنی جراثیم) سے محفوظ رکھتی ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! وُضُو کرنے والا ناک میں پانی چڑھاتا ہے جس سے جسم کے اس اَہَم ترین آلے ناک کی صفائی ہوجاتی ہے اور پانی کے اندر کام کرنے والی بَرقی رَو سے ناک کے اندَرُونی غیر مَرَئی رُؤوں کی کارکردَگی کو تقویت ملتی ہے اور مسلمان وُضُو کی بَرَکت سے ناک کے بیشمار پیچیدہ اَمراض سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ دائمی نَزلہ اور ناک کے زخْم کے مریضوں کیلئے ناک کاغسل ( یعنی وُضُو کی طرح ناک میں پانی چڑھانا) بے حد مفید ہے ۔
آج کل فَضاؤں میں دھوئیں وغیرہ کی آلُودَگیاں بڑھتی جارہی ہیں ، مختلف کیمیاوی مادّے سِیسہ وغیرہ مَیل کُچیل کی شکل میں آنکھوں اور چِہرے وغیرہ پر جمتا رَہتا ہے، اگرچِہرہ نہ دھویا جائے توچِہرے اور آنکھیں کئی اَمراض سے دوچار ہوجائیں۔ ایک یورپین ڈاکٹر نے ایک مقالہ لکھا جس کا نام تھا: آنکھ ، پانی، صحّت ( Eye, Water, Health) اس میں اُس نے اس بات پر زور دیا کہ ’’اپنی آنکھوں کو دن میں کئی بار دھوتے رہو ورنہ تمہیں خطرناک بیماریوں سے دوچار ہونا پڑیگا۔ ‘‘چِہرہ دھونے سے منہ پر کِیل نہیں نکلتے یا کم نکلتے ہیں۔ ماہِرینِ حُسن و صحّت اس بات پرمُتَّفق ہیں کہ ہر طرح کے Cream اورLotion وغیرہ چِہرے پر داغ چھوڑتے ہیں ، چِہرے کو خوبصورت بنانے کیلئے چِہرے کو کئی بار دھونا لازِمی ہے۔ ’’امریکن کونسل فاربیوٹی‘‘ کی سرکردہ ممبر ’’بَیچَر‘‘نے کیا خوب
اِنکِشاف کیا ہے کہتی ہے: ’’مسلمانوں کو کسی قسم کے کیمیاوی لوشن کی حاجت نہیں وُضُوسے اِنکا چِہرہ دُھل کر کئی بیماریوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ ‘‘ محکمۂ ماحَولیات کے ماہِرین کا کہنا ہے: ’’ چِہرے کی اِلَرجی سے بچنے کیلئے اِس کو بار بار دھونا چاہئے۔ ‘‘ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! ایسا صِرْف وُضُو کے ذَرِیعے ہی ممکِن ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! وُضُو میں چِہرہ دھونے سے الرجی سے چِہرے کی حفاظت ہوتی ، اِس کا مَساج ہوجاتا، خون کا دَوران چِہرے کی طرف رَواں ہوجاتا، مَیل کُچیل بھی اُتر جاتا اور چِہرے کا حُسن دوبالا ہوجاتا ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! آنکھوں کی ایک بیماری ہے جس میں اس کی رطُوبتِ اَصلِیّہ یعنی اصلی تری کم یا ختم ہوجاتی اور مریض آہستہ آہستہ اندھا ہوجاتا ہے۔ طِبّی اُصول کے مُطابِق اگر بَھنووں کو وقتاً فوقتاً تر کیا جاتا رہے تو اِس خوفناک مَرَض سے تحفُّظ حاصِل ہوسکتا ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! وُضُو کرنے والا منہ دھوتا ہے اور اِس طرح اس کی بَھنویں تر ہوتی رہتی ہیں۔ عاشقانِ رسول کی داڑھی بھی وضو میں دُھلتی ہے اور اس میں بھی خوب حکمتیں ہیں ، ڈاکٹر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع