30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{۲} جب سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نیند سے بیدار ہوتے تو مِسواک کرتے۔ (ابوداوٗدج۱ص۵۴حدیث۵۷)
اَطِبّاء (یعنی ڈاکٹروں ) کا کہنا ہے: ’’بعض اوقات گرمی اور مِعْدے کی تَیزابیَّت سے مُنہ میں چھالے پڑجاتے ہیں اور اِس مَرَض سے خاص قسم کے جراثیم منہ میں پھیل جاتے ہیں ، اس کے علاج کیلئے منہ میں تازہ مِسواک ملیں اور اس کا لُعاب کچھ دیر تک منہ کے اندر پھراتے رہیں۔ اس طرح کئی مریض ٹھیک ہوچکے ہیں۔ ‘‘
ماہِرین کی تحقیق کے مطابق ’’80 فیصد امراض مِعدے (پیٹ) اور دانتوں کی خرابی سے پیدا ہوتے ہیں۔ ‘‘ عُمُوماً دانتوں کی صَفائی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے مَسُوڑھوں میں طرح طرح کے جراثیم پرورِش پاتے پھر مِعدے میں جاتے اور طرح طرح کے اَمراض کا سبب بنتے ہیں۔ یاد رہے! ’’ٹُوتھ بُرَش ‘‘ مِسواک کا نِعْمَ الْبَدل نہیں۔ بلکہ ماہِرین نے اِعتِراف کیا ہے: {۱} جب بُرَش ایک بار اِستعمال کرلیا جاتا ہے تو اُس میں جراثیم کی تہ جم جاتی ہے پانی سے دُھلنے پر بھی وہ جراثیم نہیں جاتے بلکہ وہیں نَشْوْونَما پاتے رَہتے ہیں {۲} بُرَش کے باعِث دانتو ں کی اُوپری قُدرتی چمکیلی تہ اُتر جاتی ہے {۳} بُرَش کے اِستِعمال سے مَسُو ڑ ھے آہِستہ آہِستہ اپنی جگہ چھوڑتے جاتے ہیں جس سے دانتوں اور مَسُوڑ ھو ں کے درمیان خَلا (GAP) پیدا ہوجاتا ہے اور اس میں غذا کے ذرّات پھنستے، سڑتے اور جراثیم اپنا گھر بناتے ہیں اس سے دیگر بیماریوں کے علاوہ آنکھوں کے طرح طرح کے اَمراض بھی جَنَم لیتے ہیں ، اِس سے نظر کمزور ہوجاتی ہے بلکہ بعض اوقات آدَمی اندھا ہوجاتا ہے۔
کیا آپ کو مسواک کرنا آتا ہے ؟
ہوسکتا ہے آپ کے دل میں یہ خیال آئے کہ میں تو برسوں سے مِسواک اِستِعمال کرتا ہوں مگر میرے تو دانت اور پیٹ دونوں ہی خراب ہیں ! میرے بھولے بھالے اِسلامی بھائی! اس میں مِسواک کا نہیں آپ کا اپنا قُصُور ہے۔ میں (سگِ مدینہ عُفی عَنْہُ ) اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آج شاید لاکھوں میں سے کوئی ایک آدھ ہی ایسا ہو جو صحیح اُصولوں کے مطابِق مِسواک اِستِعمال کرتا ہو، ہم لوگ اکثر جلدی جلدی دانتوں پرمِسواک مَل کر وُضُو کرکے چل پڑتے ہیں یعنی یوں کہئے کہ ہم مِسواک نہیں بلکہ ’’رسمِ مِسواک‘‘ ادا کرتے ہیں !
’’مسواک کرنا سُنّتِ مبارکہ ہے ‘‘ کے بیس حُرُوف کی نسبت سے مسواک کے 20 مَدَنی پھول
٭دو فرامینِمصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: دو رَکْعَت مِسواک کر کے پڑھنا بِغیرمِسواک کی 70 رَکْعتوں سے اَفضل ہے (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۱ ص۱۰۲ حدیث ۱۸ ) ٭مِسواک کا اِستعمال اپنے لئے لازِم کر لو کیونکہ یہ منہ کی صفائی اور ربّ تعالیٰ کی رِضا کا سبب ہے (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۲ ص۴۳۸حدیث ۵۸۶۹) ٭حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنھماسے روایت ہے کہ مِسواک میں دس خوبیاں ہیں : منہ صاف کرتی ، مَسُوڑھے کو مضبوط بناتی ہے، بینائی بڑھاتی ، بلغم دُور کرتی ہے ، منہ کی بدبو ختم کرتی ، سنّت کے مُوافِق ہے ، فرشتے خوش ہوتے ہیں ، رب راضی ہوتا ہے، نیکی بڑھاتی اور معدہ دُرُست کرتی ہے (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۵ ص۲۴۹حدیث ۱۴۸۶۷) ٭ سیِّدُنا امام شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : چار چیزیں عَقْل بڑھاتی ہیں : فُضُول باتوں سے پرہیز، مِسواک کا استِعمال، صُلَحا یعنی نیک لوگوں کی صُحبت اور اپنے علم پر عمل کرنا (حیاۃ الحیوان للدمیری ج ۲ ص۱۶۶) ٭ حکایت: حضرتِ سیِّدُنا عبدا لوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورانینَقْل کرتے ہیں : ایک بار حضرت ِسیِّدنا ابو بکر شبلی بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الھادِی کو وُضو کے وَقْت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع