30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک ہارٹ اِسپشلسٹ کا بڑے وُثوق (یعنی اعتماد) کے ساتھ کہنا ہے: ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو وُضُو کرواؤ پھر اس کا بلڈ پریشر چیک کرو لازِماً کم ہوگا۔ ایک مسلمان ماہِرِ نفسیات کا قول ہے: ’’ نفسیاتی اَمْراض کا بہترین عِلاج وُضو ہے۔ ‘‘ مغربی ماہِرِین نفسیاتی مریضوں کو وُضو کی طرح روزانہ کئی بار بدن پر پانی لگواتے ہیں۔
وُضو میں جو ترتیب وار اَعضاء دھو ئے جاتے ہیں یہ بھی حِکمت سے خالی نہیں۔ پہلے ہاتھ پانی میں ڈالنے سے جسم کا اَعصابی نِظام مُطَّلع ہوجاتا ہے اور پھر آہِستہ آہِستہ چِہرے اور دِماغ کی رگوں کی طرف اِس کے اثرات پہنچتے ہیں۔ وُضُو میں پہلے ہاتھ دھونے پھرکُلّی کرنے پھر ناک میں پانی ڈالنے پھر چِہرہ اور دیگر اَعضا ء دھونے کی ترتیب فالج کی روک تھام کیلئے مفید ہے۔ اگرچِہرہ دھونے اور مَسْحْ کرنے سے آغاز کیا جائے تو بدن کئی بیماریوں میں مُبتَلا ہوسکتا ہے!
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! وُضو میں مُتَعدَّدسُنَّتیں ہیں اور ہر سنّت مَخزنِ حکمت ہے۔ مِسواک ہی کو لے لیجئے! بچّہ بچّہ جانتا ہے کہ وُضُو میں مِسواک کرنا سنّت ہے اور اِس سنّت کی بَرَکتوں کا کیا کہنا! ایک بیوپاری کا کہنا ہے: سوئیزرلینڈ میں ایک نو مسلم سے میری ملاقات ہوئی، اس کو میں نے تحفۃً مِسواک پیش کی، اُس نے خوش ہوکر اسے لیا اور چوم کر آنکھوں سے لگایا اور ایک دم اُس کی آنکھوں سے آنسو چَھلک پڑے، اُس نے جیب سے ایک رومال نکالا اس کی تہ کھولی تو اس میں سے تقریباً دو اِنچ کا چھوٹا سا مِسواک کا ٹکڑا برآمد ہوا۔ کہنے لگا میری اِسلام آوَری کے وَقت مسلمانوں نے مجھے یہ تُحفہ دیا تھا۔ میں بَہُت سنبھال سنبھا ل کر اِس کو اِستعمال کررہا تھا یہ خَتْم ہونے کو تھا لہٰذا مجھے تشویش تھی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کرم فرمایا اور آپ نے مجھے مِسواک عنایت فرمادی۔ پھر اُس نے بتایا کہ ایک عرصے سے میں دانتوں اور مَسُوڑھوں کی تکْلیف سے دوچار تھا۔ ہمارے یہاں کے ڈینٹِسٹ سے ان کا علاج بن نہیں پڑرہا تھا۔ میں نے اس مِسواک کا اِستِعمال شروع کیا تھوڑے ہی دِنوں میں مجھے اِفاقہ (فائدہ) ہوگیا۔ میں ڈاکٹر کے پاس گیا تو وہ حیران رہ گیا اور پوچھنے لگا، میری دوا سے اِتنی جلدی تمہارا مَرَض دُور نہیں ہوسکتا ، سوچو کوئی اور وجہ ہوگی۔ میں نے جبذِہْن پر زور دیا تو خیال آیا کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں اور یہ ساری بَرَکت مِسواک ہی کی ہے۔ جب میں نے ڈاکٹر کو مِسواک دکھائی تو وہ حیرت سے دیکھتا ہی رہ گیا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! مِسواک میں بیشمار دینی و دُنیوی فوائد ہیں ۔ اس میں مُتَعدَّد کیمیاوی اَجزاء ہیں جو دانتوں کو ہر طرح کی بیماری سے بچاتے ہیں۔ حاشیہ طَحطاوی میں ہے : ’’مِسواک سے قوّتِ حافِظہ بڑھتی ، دردِ سر دُور ہوتا اور سَرکی رگوں کوسُکون ملتا ہے، اِس سے بلغم دُور، نظر تیز، مِعْدہ دُرُست اور کھانا ہَضْم ہوتا ہے، عَقْل بڑھتی، بچّوں کی پیدائش میں اِضافہ ہوتا، بُڑھا پا دیر میں آتا اور پیٹھ مضبوط ہوتی ہے۔ ‘‘ (حاشیۃُالطَّحطاوی علی مراقی الفلاح ص۶۹)
مِسواک کے بارے میں دو احادیثِ مبارَکہ
{۱} جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے مبارَک گھر میں داخِل ہوتے تو سب سے پہلے مِسواک کرتے (مسلم ص۱۵۲حدیث۲۵۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع