دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Weeran Mehal | ویران محل

book_icon
ویران محل

اُتارتا ہے۔ موت کا تصوُّر اِس طرح کیجئے کہ تنہائی میں دل کو ہر طرح کے دُنیاوی خَیالات سے پاک کرکے اپنے اُن دوستوں اور رشتے داروں کو یاد کیجئے جو وفات پاچکے ہیں ، تصوُّر ہی تصوُّر میں اُن فوت شدَگان میں سے باری باری ہر ایک کا چہرہ سامنے لائیے اور اُن کے حسبِ حال خیال کیجئے کہ وہ کس طرح دنیا میں اپنے اپنے منصب وکام میں مشغول، لمبی لمبی اُمیدیں باندھے دُنیاوی تعلیم کے ذَرِیعے مستقبل کی بہتری کیلئے کوشاں تھے اور ایسے کاموں کی تدبیر میں لگے تھے جوشایدسالہاسال تک مکمَّل نہ ہوسکیں ، دنیاوی کاروبار کیلئے وہ طرح طرح کی تکلیفیں اورمشقتیں برداشت کیا کرتے تھے، وہ صرف اِس دنیا ہی کیلئے کوششوں میں مصروف تھے ، اِسی کی آسائشیں انہیں محبوب اور اِسی کا آرام انہیں مرغوب تھا۔وہ یوں زندگی گزاررہے تھے گویا انہیں کبھی مرنا ہی نہیں ہے، موت سے غافِل، خوشیوں میں بدمست اور کھیل تماشوں میں ہر دم مگن تھے۔ ان کے کفن بازار میں آچکے تھے لیکن وہ اس سے بے خبر دنیا کی رنگینیوں میں گم تھے۔ آہ! اسی بے خبری کے عالم میں یکا یک انہیں موت نے آ لیااور وہ اندھیری قبر وں میں اُتاردئیے گئے ۔ان کے ماں باپ غم سے نڈھال ہو گئے ، ان کی بیوائیں بے حال ہوگئیں ، ان کے بچے بلکتے رہ گئے، مستقبل کے حسین خوابوں کا آئینہ چکنا چور ہوگیا، اُمّیدیں ملیامیٹ ہوگئیں ، ان کے کام اَدھورے رَہ گئے ، دنیا کے لئے ان کی سب محنتیں رائیگاں گئیں ۔ وُرَثا ان کے اموال تقسیم کرکے مزے سے کھا ر ہے ہیں اور ان کو بھول چکے ہیں ۔

دوسروں کی قَبر کا تصور

     اس تصوُّر کے بعد اب ان کی قَبْر کے حالا ت کے بارے میں غورکیجئے کہ ان کے بدن کیسے گل سڑ گئے ہوں گے، آہ! ان کے حسین چہرے کیسے مسخ ہوکر بگڑ چکے ہوں گے، وہ کھلکھلاکر ہنستے تھے تو منہ سے پھول جھڑتے تھے ، مگر آہ ! اب ان کے و ہ چمکیلے خو ب صورت دانت جھڑچکے ہوں گے اور منہ میں پیپ پڑگئی ہوگی، ان کی موٹی موٹی دِلکش آنکھیں اُبل کر رُخساروں پر بہ گئی ہوں گی، سنوار سنوار کر رکھے ہوئے ان کے ریشم جیسے بال جھڑ کرقبر میں بکھر گئے ہوں گے، ان کی باریک اونچی خو ب صورت ناک میں کیڑے گھسے ہوئے ہوں گے ، ان کے گلاب کی پنکھڑیوں کی مانندپتلے پتلے نازُک ہونٹوں کوکیڑے کھار ہے ہوں گے۔وہ ننھے ننھے بچّے جن کی تتلی باتوں سے غمزدہ دل کھل اُٹھتے تھے قبر میں ان کی زَبانوں پر کیڑے چمٹے ہوں گے، نوجوانو ں کے قابل رَشک توانا، ورزِشی جسم خاک میں مل گئے ہوں گے، ان کے تمام جوڑ الگ الگ ہو چکے ہوں گے۔

اپنی سَکَرات، موت، غسل وکفن، جنازہ وقبرکا درد ناک تصوُّر

      یہ ’’ تصوُّر ‘‘  کرنے کے بعد یہ سوچئے کہ آہ! یہی حال عنقریب میرا بھی ہونے والا ہے، مجھ پر بھی نزع  (سکرات ) کی کیفیت طاری ہو گی ، ہائے! نزع کی سختیاں !! موت کا ایک جھٹکا تلوار کے ہزار وار سے سخت ہوگا!!! آنکھیں چھت پر لگی ہوں گی، عزیزو اقارِب جمع ہوں گے ، ماں ’’ میرا لال، میرا لال ‘‘  کہہ رہی ہوگی ، باپ مجھے ’’  بیٹا بیٹا  ‘‘ کہہ کر پکاررہا ہوگا، بہنیں ’’ بھیا بھیا ‘‘  کی صدائیں لگارہی ہوں گی۔ چاہنے والے آہیں اور سسکیاں بھر رہے ہوں گے، پھر اِسی چیخ پکار کے پرہول ماحول میں رُوح قبض کرلی جائے گی۔ عزیزوں میں کہرام مچ جائے گا، کوئی آگے بڑھ کر میری آنکھیں بندکردے گا، مجھ پر کپڑا اُڑھادیا جائے  گا۔پھرغسال کوبلایاجائے گا، مجھے تختے پر لٹا کرغسل دیا جا ئے گا اور کفن پہنا یا جا ئے گا، آہ وفغاں کے شور میں گھر سے میرا جنازہ روانہ ہوگا، میں نے جس گھر کے اندر ساری عمر بسر کی ، کل تک جنہوں نے ناز اٹھائے، آج وُہی میرا جنازہ اٹھا کر قبرستان کی طرف چل پڑیں گے ، پھر مجھے قَبْر میں اُتارکر اپنے ہاتھوں سے مجھ پر مٹّی ڈالیں گے، آہ! پھر قَبْر کی تاریکیوں میں مجھے تنہا چھوڑ کر سب کے سب پلٹ جائیں گے، میرا دل بہلانے کیلئے کوئی بھی وہاں نہ ٹھہرے گا۔ہائے!ہائے ! پھر قَبْر میں میراجسم گلنا سڑنا شروع ہوجائے گا، اسے کیڑے کھانا شروع کر دیں گے ، وہ کیڑے پتا نہیں میری سیدھی آنکھ پہلے کھائیں گے یا کہ اُلٹی آنکھ، میری زَبان پہلے کھائیں گے یا میرے ہونٹ، ہائے ! ہائے ! میرے بدن پرکس قَدَر آزادی کے ساتھ کیڑے رِینگ رہے ہوں گے، ناک، کان اور آنکھوں وغیرہ میں گُھس رہے ہوں گے ۔یوں اپنی موت اور قَبْر کے حالات کا باری باری تصوُّر باندھئے ، قَبْرکے دبانے منکر نکیر کی آمد، ان کے سُوالات اورقَبْر کے عذابات کے خیالات دل میں لائیے اور اپنے آپ کو ان پیش آنے والے معاملات سے ڈرائیے۔ اِس طرح موت کا تصوُّرکرنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ دل میں موت کا اِحساس پیدا ہوگا، نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کا ذِہْن بنے گا، موت کو یاد کرنے کیلئے مہینے میں کم ازکم ایک بار اندھیرا کرکے یا تنہائی میں اِسی وِیران محل نامی بیان کا کیسٹ سننا نیز یہ اشعارپڑھنا اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بے حد مفید رہے گا۔

موت کی یاد دِلانے والے اَشعار

قبر روزانہ یہ کرتی ہے پکار             مجھ میں ہیں کیڑے مکوڑے بے شُمار

یاد رکھ میں ہوں اندھیری کوٹھڑی                                تجھ کو ہوگی مجھ میں سُن وَحشت بڑی

میرے اندر تُو اکیلا آئے گا                           ہاں مگر اَعمال لیتا آئے گا

نَرْم بستر گھر پہ ہی رَہ جائیں گے                      تجھ کو فرشِ خا ک پر دفنائیں گے

گھپ اندھیری قبر میں جب جائے گا                      بے عمل!بے انتِہا گھبرائے گا

کام مال و زر نہیں کچھ آئے گا                         غافِل انساں یاد رکھ پچھتائے گا

جب ترے ساتھی تجھے چھوڑ آئیں گے   قبر میں کیڑے تجھے کھا جائیں گے

قبر میں تیرا کفن پھٹ جائے گا                      یاد رکھ نازُک بدن پھٹ جائے گا

تیرا اِک اِک بال تک جَھڑ جائے گا                               خوبصورت جسم سب سڑ جائے گا

آہ! اُبَل کر آنکھ بھی بہ جائے گی                    کھال اُدھڑ کر قبر میں رہ جائے گی

سانپ بچھو قبر میں گر آگئے!                         کیا کرے گا بے عمل گر چھاگئے!

  (وسائل بخشش (مرمَّم ) ص۷۱۱ ۔۷۱۲ )      

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن