دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ Parhnay Ki Barkatein | یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ پڑھنے کی بَرَکتیں

Kutub Ka Mutala

book_icon
یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ پڑھنے کی بَرَکتیں

طالبِ علم کون سی کتب کا مطالعہ کرے؟

سُوال : میں درسِ نظامی کے درجۂ سادسہ کا طالب علم ہوں۔ ہم رات کے مختصر وقت میں درسِ نظامی کرتے ہیں ، آپ اس بارے میں راہ نمائی فرمائیں کہ وہ کون سی کتب ہیں جن کا مطالعہ کرنا طالبِ علم کے لئے مفید اور ضروری ہے؟ (سعد احمد۔ جامعہ نور القرآن ، کراچی)
جواب : مطالعے کے لئے ذوق بنانا پڑے گا۔ ہمارے ہاں فقہی مسائل سمجھنے اور ان کا مطالعہ کرنے کا ذوق کم ہوتا ہے ، فرض علوم میں فقہی مسائل ہوتے ہیں ، جیسے کسی پر نماز فرض ہو تو اسے نماز کے مسائل سیکھنا فرض ہیں کہ نماز کیسے درست ہوتی ہے؟ اور کیسے فاسِد ہوتی ہے؟ وغیرہ ۔ اگر کوئی تِجارت کرنا چاہے تو اس  کے لئے تِجارت کے مسائل سیکھنا فرض ہوں گے۔ نوکری کرنی ہے تو نوکری کرنے کے مسائل اور نوکر  رکھنا ہے تو نوکر رکھنے کے مسائل سیکھنا فرض ہوں گے۔ ( ) ان سب مسائل کو جاننے کے لئے مُطالعہ کرنا ضروری ہے۔ مُطالعہ کرنے کے لئے مشورہ یہی ہے کہ اگر سمجھ پڑتی ہو تو اوّل تا آخر “ بہارِ شریعت “ کا مطالعہ کرلیں ، اگر اللہ پاک توفیق دے تو “ فتاویٰ رضویہ “ کا مُطالعہ بھی کرلیں۔ ان سب علوم میں سب سے پہلےعقائد کا علم ہونا ضروری ہے ، عقائد سے مراد یہ ہے اللہ پاک کی ذات وصفات اور ضروریاتِ دین وغیرہ کے بارے میں عقائد کی معلومات حاصل ہو۔ اسی طرح آج کل بہت زیادہ کفریات بکے جارہے ہوتے ہیں ، ان کی معلومات ہونا 
بھی ضروری ہےاور عقائد کی معلومات کےلئے “ بہارِ شریعت “ کا پہلا حصّہ بہت مفید ہے ، اس میں عقائد کا بہت پیارا بیان ہے۔ اس کے ساتھ اگر ہوسکے تو مکتبۃ المدینہ کی  کتاب “ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب “ کا مُطالعہ بھی کرلیں ، بلکہ یہ کتاب تو ہر ایک کو گھول کر پی لینی چاہیےکیونکہ ایمان کی حفاظت کے لئے یہ کتاب بہت زیادہ مفید ہے۔ جب آپ مُطالعہ کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ  علمِ دین کا بہت ساراخزانہ ہاتھ آجائےگا۔ آپ نے سوال میں بتایاکہ رات کے مختصر وقت میں درسِ نظامی پڑھتے ہیں ، تو جو آپ پڑھتے ہیں وہ آپ ہی سمجھتے ہوں گے کہ کیا پڑھتے ہیں!! “ بہارِ شریعت “ میں صدرُ الشریعہ نے 16 سالہ درسِ نظامی کے بارے میں لکھا ہےکہ “ یہ پڑھ بھی لیا تو  یہ ضروری نہیں ہے کہ عالمِ دین بن ہی گیا ،  ابھی مزید پڑ ھنا ہے۔ “ ( ) آگے جتنا مطالعہ کرتے رہیں گے علم میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ پھر اس علم کو باقی رکھنے کے لئے تدریس کا سلسلہ بھی رکھیں ، یا تخصص فی الفقہ کرلیں۔ البتہ تخصص فی الفقہ کرنے میں یہ ذہن نہ رکھیں کہ اب میں مفتی ہی بنوں گا۔ تخصص فی الفقہ کرنے والوں میں یہی خرابی ہوتی ہے کہ وہ اپنا ذہن یہ بنا لیتے ہیں کہ اب میں مفتی ہی بنوں گا اور جب مفتی نہیں بن پاتے تو صدمے میں آکر گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ تخصص فی الفقہ کرنے میں یہ ذہن رکھیں کہ اس سے میری عبادتیں درست ہوجائیں گی ، بہت سے مسائل سیکھ جاؤں گا ، کئی مسائل کے اصول سکھائے جائیں گے ، کئی کتب کا مطالعہ ہوجائے گا۔ اب اگر آپ کے ساتھ مفتی کا ٹائٹل نہیں لگا تب بھی بہت سارا علم کا خزانہ آپ کے سینے میں سماجائے گا۔ اس لئے اللہ پاک کی رضا اور ثواب کی نیت سے درسِ نظامی اور تخصص فی الفقہ کریں اِنْ شَآءَ اللّٰہ  بیڑا پار ہوجائے گا۔ 

پان والے کے سُوالات

سُوال : میں تقریباً 20سال سے پان کا کام کر رہا ہوں میرے والد صاحب  بھی یہی کام کرتے تھے۔ میرے چند سُوالات ہیں : (1) جس طرح پیاز اور لہسن کھانے سے منہ میں بدبو ہوجاتی ہے اسی طرح تمباکو سے بھی بدبو ہوجاتی ہے لیکن  خوشبو والی پتی بھی  ہوتی ہے ، کیا خوشبو والی پتی کھا کر نماز پڑھنے سے نماز ہوجائے گی؟ (2)ہم لوگ پتی والا پان بیچتے ہیں جس کے لوگ عادی ہوجاتے ہیں ، کیا ہم انہیں پان بیچنے کی وجہ سے قصور وار ہوں گے؟ (3)کیا کسی بزرگ ہستی نے پان کھایا ہے؟ 
(4)آج کل پان میں کئی طرح کے فیشن آگئے ہیں ، لوگ پان میں آگ بھی لگاتے ہیں اور اسے فائر پان کا نام دیتےہیں ، جس میں کیمیکل ہوتا ہے ، کیا ایسا پان کھانا جائز ہے؟
جواب : اللہ پاک آپ کو عافیت نصیب فرمائے۔ (1)پیاز اور لہسن کھانے کی وجہ سے منہ میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے اور عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ اس طرح نماز نہیں ہوتی حالانکہ اگر منہ میں پیاز لہسن یا کوئی بدبودار تمباکو ہو اور تلفظ صحیح ادا ہورہے ہوں تو نماز ہوجائے گی ، لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز منہ میں ہو اور کوئی ذرّہ حلق میں چلا گیا تو  اس صورت میں نماز ٹوٹنے کے الگ مسائل ہوں گے۔ ( ) پان کے پتے کے فوائد ہیں اور تمباکو کھانا بھی حرام نہیں ہے۔ البتہ بدبُودار تمباکو کھانے کے بعد منہ سے بدبُو آرہی ہو تو مسجد میں داخل ہوناحرام ہے۔ ( ) اسی طرح سگریٹ یا بیڑی پینے کے بعد منہ سے بدبو آرہی ہو تو بھی مسجد میں داخل نہیں ہوسکتے۔ اگر منہ سے بدبو آرہی ہو تو نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ ( ) البتہ خوشبودار تمباکو استعمال کرنے میں ممانعت نہیں ہے۔ چھالیہ یا خوشبودار تمباکو یا اس طرح کی کوئی بھی چیز اگر دانتوں میں پھنسی ہوئی ہے تو وضو کرتے ہوئے اچھی طرح کلی کی جائے کیونکہ وضو میں سنتِ مؤکّدہ یہ ہے کہ منہ میں جتنے بھی کھانچے اور گیپس ہیں ہر جگہ پانی بہہ جائے۔ ( ) جبکہ غُسل میں اس طرح کلّی کرنا فرض ہے۔ ( ) غسل کرتے ہوئے منہ میں پان یا تمباکو کے ذرّات پھنسے ہوئے ہوں تو انہیں صاف کئے بغیرغسل نہیں ہوگا۔ پان کھانے کے بعدشاید ہی کوئی اپنے منہ کی ایسی خدمت کرتا ہوگا! البتہ اگر کوئی ایسی چیز منہ میں لگ گئی ہےجس کا چھوٹنا ناممکن ہے تو اس کے لئے یہ حکم نہیں ہوگا کہ اسے چھڑانے کے لئے اپنے دانتوں کو زخمی کردیا جائے ، لیکن ان چیزوں کو نکالنے کے لئے بھرپور کوشش کرنی ہوگی۔ 
پان کھانے سے ایک نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ ذرّات منہ میں رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے غسل اور وضو میں پریشانی کا سامنا ہوتاہے اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب منہ میں پان ہوتا ہے تو منہ بند رہتا ہے جس کی وجہ سے ذکر و درودنہیں کیا جاسکتا۔ 

پان چھالیہ بیچنا کیسا؟

(2) پان بیچنے میں اگر کوئی ناپاک چیز نہ ہو اور کسی قسم کا دھوکا نہ ہو تو پان چھالیہ وغیرہ بیچنا جائز ہے۔ البتہ کتھے کا مسئلہ رہے گا کیونکہ میری چند سال پُرانی معلومات کے مطابق ہمارے پاکستان میں کتھے کی پیداوار نہیں تھی۔ پاکستان میں چمڑے کا رنگ مٹی میں ڈال کر کتھا بنایا جاتا تھا اور اس چمڑے کے رنگ والی مٹی کو کتھا کہہ کر پان پر لگایا جاتا ہے اور گٹکے میں ملاکر بیچا جاتاتھا جو کہ نقلی کتھاہے ، اس طرح بیچنا دھوکا ہے۔ اب اگر ہمارے ملک میں کوئی جِدَّت آگئی ہو اور کتھے کی پیداوار شروع ہوگئی ہو یا کسی ملک سے اصلی کتھا آتا ہو تو الگ بات ہے۔ 

کیا بزرگوں سے پان کھانا ثابت ہے؟

(3) بزرگوں سے پان کھانا ثابت ہے یا نہیں؟ میں اس بارے میں بیان کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ ہمارے ہاں یوں ہوتا ہے کہ بزرگوں کے بارے میں جو عبادت کرنے کے تذکرے ملتے ہیں جیسے ساری رات عبادت کرنا ، پورے سال روزے رکھنا ، ایک رات میں قرآن پاک ختم کرنا ، نوافل پڑھنا اور کبھی تہجد نہ چھوڑنا وغیرہ ، ان سب عبادتوں میں کوئی نقل نہیں کرتا اور جیسے ہی کسی بزرگ کے بارے میں پتا چلا کہ وہ پان کھاتے ہیں یا فلاں بزرگ نے آئسکریم کھائی ہے تو ہم لوگ بھی یوں کہتے ہوئے ملتے ہیں کہ “ پان کھانا فلاں کی سنت ہے ، فلاں بزرگ آئسکریم کھاتےہیں۔ “ اس لئے اس طرح بزرگوں کا تذکرہ کرنا مجھے  پسند نہیں ہے  ورنہ لوگ اپنے نفس کو پھنسانے کے لئے بزرگوں کو کیش کرواتےہیں۔ اگر کسی بزرگ نے پان کھایابھی ہے توایک حلال چیز کھائی ہے کیونکہ پان کھانا  حلال ہےلیکن ان کی نقّالی کرنا سمجھ نہیں آتا ، کیونکہ وہ بزرگ تھے اگر وہ پان کھاتے ہوں گے تو اس کے ناز بھی اٹھاتے ہوں گے اور اپنے دانتوں کو صاف  رکھنے میں احتیاطیں بھی کرتے ہوں گے لیکن ہمیں بغیر کسی احتیاط کے صرف پان کھاکر لذتیں حاصل کرنی ہوتی ہیں۔ 

فائر پان کھانا کیسا؟

(4)فائر پان میں آگ  کی صورت میں کیمیکل ہوتا ہے۔ کیمیکل تو کئی کھانے کی چیزوں میں ہوتا ہے ، ہم جو دوائیاں کھاتے ہیں ان میں بھی کیمیکل ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں پان کی بہت سی قسمیں آگئی ہیں۔ کراچی کے ایک مشہور علاقے میں سب سے مہنگے پان کی دکان ہے کیونکہ وہ مال داروں کا علاقہ ہے۔ محاورہ بھی بولا جاتا ہے کہ “ جس کی لاٹھی اس کی بھینس “ دنیا تو جھکتی ہے بس اِسے جھکانے والا چاہیے ، ہمارے ہاں مہنگی چیز کو اچھا سمجھا جاتا ہے اگر کوئی اچھی چیز سستے داموں مل رہی ہو تو وہ بھی رَف لگتی ہے۔ اب اس فائر پان کے بارے میں اللہ بہتر جانے! میری تو دوسرے پان کی عادت بھی نہیں ہے بلکہ مجھے تو سگریٹ پینے کا طریقہ بھی معلوم نہیں ہے۔ کئی سالوں پہلے پان کھانے کی ترکیب ہوئی تھی ، لیکن مجھے احساس ہوا کہ اگر منہ میں پان ہو تو دُرود شریف نہیں پڑھ سکتاتو سوچاکہ پان کھاؤں یا دُرود شریف پڑھوں تو میں نے دُرود شریف پڑھنے کو ترجیح دی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پان کھانا چھوڑ دیا۔ برسوں ہوگئے پان نہیں کھایا ، پان کھانے میں میری رغبت بھی نہیں ہے بلکہ پان کھانے سے مجھے چڑ آتی ہے کیونکہ اس سے منہ بند ہوجاتا ہے اور اللہ و رسول کانام نہیں لے سکتے۔ جو پان کھاتے ہیں وہ بھی غور کرلیں کہ پان کھانے کی وجہ سےزبان سے ذکر اللہنہیں کرسکیں گے ، پھر پان کھانے کی وجہ سے ہونٹ اور زبان لال ہوجاتی  ہے اور دانت کالے پڑجاتے ہیں ، زیادہ استعمال سے گردےکی پتھری کا امکان رہتا ہے ، پھر جو لوگ پان گٹکے کےکچھ زیادہ ہی عادی ہوتے ہیں وہ منہ میں ایک جگہ رکھ کر سوجاتے ہیں اور جس جگہ رکھتے ہیں  وہاں گال کے حصے میں چھالہ بن جاتا ہے اور آخر کار وہی چھالہ بڑھتے بڑھتے پھٹ کر نکلتا ہے اور کینسر کا روپ دھار لیتا ہے۔ جنہیں منہ کا کینسر ہوجاتا ہے پھر وہ اپنا منہ کسی کو دِکھا نہیں پاتے کیونکہ اس سے سامنے والے کو گھن آتی ہے اور آخر کار سخت تکلیف میں زندگی گزارتے ہوئے بہت جلد موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لئے پان گٹکا اچھی چیز نہیں ہے ہر ایک کو اس سے بچنا چاہیے۔ اللہ پاک خیر فرمائےا ور ہر ایک کو عافیت نصیب فرمائے ، ہمیں جہنم کی آگ سے بچائے اور جنت کے باغات  میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین 
باغ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
         کیا مدینے پہ فدا ہو کے بہار آئی ہے (ذوقِ نعت)

اگر کسٹمر آرڈر لینے لیٹ آیا تو کیا ریٹ بڑھا سکتے ہیں؟

 سُوال : میں گولڈ کا کام کرتا ہوں۔ ہم پانچ لاکھ کا آرڈر لیتے ہیں اور اس میں سے ایک لاکھ روپے کسٹمر سے لے لیتے ہیں اور آرڈر لینے کے لئے 15 دن کا ٹائم دیتے ہیں۔ اب کسی وجہ سے کسٹمر دو ماہ بعد اپنا آرڈر لینے آتا ہے ، جبکہ ان دومہینوں میں سونے کا بھاؤ کافی بڑھ چکا ہوتا ہے جس کی وجہ سے تقریباً50 ہزار کا فرق آتا ہے۔ اب جتنی رقم بڑھی ہے کیا اتنی رقم کسٹمر سے لے سکتے ہیں؟ 
جواب : اگر سونے کا بھاؤکم ہوجاتا تو جتنی رقم کم ہوتی تو واپس کرتے ہیں کیا!!آرڈر دیتے وقت جو رقم طے ہوئی تھی وہی لینی ہوگی۔ اگر کسٹمر لیٹ آیا تو اس سے لیٹ فیس لینا جائز نہیں ہے۔ 

جنّت میں کیسے مکانات ہوں گے؟

سُوال : دنیا میں سیمنٹ ، بجری اور بلاک کے مکانات ہوتے ہیں ، جنّت میں کیسے مکانات ہوں گے؟
جواب : جنّت میں سونے ، یاقوت ، لعل و جواہیر کے محلّات ہوں گے۔ دنیا کی طرح وہاں آرکیٹیکٹ (Architect) اور انجینئر نہیں ہوں گے۔ جنّت کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا ، جب جنّت میں جائیں گے اِنْ شَآءَ اللّٰہ تب  ہی معلوم ہوگا۔ احادیثِ مبارکہ میں جس طرح کا بیان آیا ہے وہ ہمیں سمجھانے کے لئے آیا ہے۔ ( )
سنگِ در حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے
سُوال :  

سنگِ در حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے

           جانا ہے سر کو جا چکے دل کو قرار آئے کیوں؟ (حدائقِ  بخشش)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنے کئی اشعار میں سر رکھنا اور سر سے چلنا وغیرہ الفاظ کیوں استعمال فرماتے ہیں؟
جواب : سر جھکانا  اپنی جگہ ہے لیکن اس بارگاہ میں دل جھکنا چاہیے ، اگر دل نہیں جھکا تو سر جھکانا کس کام کا!! بارگاہ رسالت میں ادب یہی ہے کہ دل عشق رسول سے لبریز رہے۔ “ سنگ در حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے “ یعنی ہم نے اگر چہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی چوکھٹ پرسر جھکا دیا لیکن کاش! یہ کافی نہ ہواور نہ ہی دل پر سکون رہے۔ مولانا حسن رضا خان شعر لکھتے ہیں : 
مرے دل کو دردِ اُلفت وہ سُکون دے الٰہی
         میری بے قراریوں کو نہ کبھی قرار آئے (ذوقِ نعت)
(مفتی حسان صاحب نے عرض کی : ) دوسرے مصرعے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان جب مدینے شریف سے واپس آرہے تھے ، اس وقت کی جدائی کی کیفیت کا بیان ہے کہ “ جانا ہے سر کو جاچکے “ یعنی ہم مدینے سے سر اور جسم تو لے آئے  ہیں لیکن دل کو قرار کیوں آئے! دل وہیں مدینے شریف میں حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی چوکھٹ پر رہے گا۔ 
(امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : ) اگر یہ اس وقت کا شعر ہے تو یہ بھی ممکن ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے : 
چھوڑ آیا ہوں دل و جان یہ کہہ کے اعظم
آرہا ہوں میرا سامان مدینے میں رہے
سُبْحٰنَ اللّٰہ! یعنی صرف میرا جسم جارہا ہے لیکن حقیقت میں یادِ مدینہ میری روح میں سرائیت کی ہوئی ہے۔ 

اسلامی سال ، مہینا اور تاریخ کیسے یاد کریں؟

سُوال : آج کل ہر ایک کو عیسوی تاریخ ، مہینا اور سال تو معلوم ہوتا ہے لیکن اسلامی تاریخ ، مہینا تو دُور اسلامی سال کے مہینوں کے نام بھی صحیح سے نہیں لے پاتے ، یہ ارشاد فرمائیں کہ اسلامی تاریخ کو کس طرح یاد رکھ سکتے ہیں؟
جواب : 
درسِ قرآن ہم نے نہ بھلایا ہوتا
یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا
آج ہمیں ہر چیز کے بارے میں معلومات ہوتی ہے ، لیکن اسلام کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی۔ صرف اسلامی تاریخ اور سال  یاد ہونے میں ایسی لاپرواہی نہیں ہے بلکہ دوسال پہلے معتکفین بزرگوں کے ساتھ میرا اور حاجی عمران کا ایک سلسلہ تھااس میں یہ سوال ہوا کہ عید کے کتنے دن ہوتے ہیں؟ تو بزرگ حضرات میں سے کوئی بولتا عید کے پانچ دن ہوتے ہیں ، کوئی کہتا قربانی کے سات دن ہوتے ہیں ، حالانکہ قربانی کے تین دن ہوتے ہیں یہ بچوں کو بھی پتا ہوتاہے کیونکہ روڈوں پر جانور کٹتے ہیں۔ بہر حال لوگوں کی بہت بری حالت ہے ، معلومات کی بہت زیادہ کمی ہے ، اسلامی مہینے یاد ہونے چاہیے کیونکہ بچہ اسلامی سال کے حساب سے بالغ ہوگا ، اسی طرح رمضان شریف  اسلامی سال کے حساب سے آتا ہے ، بلکہ رمضان خود ایک اسلامی مہینہ ہے ، حج اسلامی  تاریخ پر ہوتا ہے ، بقرعید اور میٹھی عید بھی اسلامی  تاریخ سے ہی ہوتی ہے ، 12ربیع الاوّل شریف بھی اسلامی سال کے حساب سے منایا جاتا ہے ، نیز گیارھویں شریف ، شبِ برات ، شبِ معراج یہ سارے اسلامی تہوار ہیں اور یہ سب اسلامی سال کے حساب سے ہی آتے ہیں ، پھر بھی ہم کو یاد نہیں رہتا۔ سب کو نوٹ گننا آتا ہے ،  کھانا آتا ہے ، پیسے جمع کرنا آتا ہے ، لیکن اسلامی سال معلوم نہیں ہوتے ، حالانکہ انگریزی سال کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ کون سا سن ہے؟ کون سا مہینہ ہے؟ کون سی تاریخ ہے؟ لیکن اسلامی تاریخ  کون سی ہے یہ بہت کم کو پتا ہوتا ہے۔ میں برسوں سے اپنے دستخط میں اسلامی تاریخ  لکھتا ہوں ، لیکن اب اسلامی تاریخ کے ساتھ انگلش تاریخ بھی لکھنی شروع کی ہے ، کیونکہ اب عوام سمجھتی نہیں ہے۔ بہرحال اسلامی سال سب کو پتا ہونا چاہیے ، ہجری سن کی بھی معلومات ہونی چاہیے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! مکتبۃ المدینہ نے کلینڈر  شائع کیا ہے جس میں ہجری ، عیسوی دونوں کے مہینے اور تاریخیں موجود ہیں ، اس کو دیکھ کر یاد کرلیں۔ نیز مکتبۃ المدینہ نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام “ اسلامی مہینوں کے فضائل “ ہے۔ یہ بہت پیاری کتاب ہے ، جس کے پاس نہیں ہے وہ ضرور اس کو مکتبۃ المدینہ سے حاصل کریں۔ 

دعوتِ اسلامی کا اجتماع کب اور کیسے شروع ہوا؟

سُوال : میرے پاس آج سے تقریباً 31 سال پہلے یعنی 1990 کے سالانہ اجتماع کا اسٹیکر ہے یہ ارشاد فرمائیں  کہ دعوتِ اسلامی کا سالانہ اجتماع آپ نے کب اور کیسے شروع فرمایا؟  (حاجی مقبول کا سُوال)
جواب : دعوتِ اسلامی کا باقاعدہ سالانہ اجتماع کا سلسلہ غالباً 1982 ، 1402 سن ہجری میں شروع ہوا  تھا جو کہ  دو یا تین دن کا تھا۔ اب اَلْحَمْدُ لِلّٰہ بڑھتے بڑھتے دنیا میں نہ جانے کہاں کہاں دعوتِ اسلامی پہنچ گئی ہے ، حالانکہ اُس وقت کوئی تصور نہیں تھا  کہ دعوتِ اسلامی اس طر ح ترقی کرے گی! بہر حال کام کو کام سکھاتا ہے اور میں یہی کہوں گاکہ جب سے دعوتِ اسلامی بنی ہے ایک سیکنڈ کے لئے بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ اللہ پاک کے فضل و کرم سے نئی نئی جگہوں پر اس کے کام شروع ہوجاتے ہیں۔ 

اپنی نیتوں کو پورا نہ کرنا کیسا؟

سُوال : اکثر لوگ کہتے ہیں کہ “ کام مل جائے تو میں ایک تنخواہ مدرسہ یا مسجد میں دوں گا “ یا کسی کام کی نیت کی کہ “ اگر وہ کام ہوجائے تو میں  فلاں مزار شریف پر  جاؤں گا “ پھرجب  کام ہوجاتا ہے تو وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کرتے تو کیا وہ گناہ گار ہوں گے۔ (حاجی امین کا سُوال)
جواب : دل میں کسی نیک کام کی  نیت کی کہ کام مل جائے تو اپنی تنخواہ دعوتِ اسلامی کو دے دوں گا بعد میں اس کی نیت بدل گئی تووہ گناہ گار نہیں ہوگا لیکن اس کے لئے بہتر یہی تھا کہ دے دیتا۔ اسی طرح اس نے نیت کی کہ مزار شریف پرجاؤں گا پھر وہ نہیں گیا تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا ، البتہ ایسی نیتوں کو پورا کرنا چاہیے کہ اس سے برکت ملے گی اِنْ شَآءَ اللّٰہ ، ورنہ بے برکتی کا اندیشہ ہے۔ 

امیرِ اہلِ سنّت اور علمائے اہلِ سنّت

سُوال : میں بہت شکر گزار ہوں آپ کی طرف سے اور اپنے ادارہ کی انتظامیہ کی طرف سے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ آج ہمیں مدنی مذاکرے میں شامل کرنے کے لئے مقامی  ذمہ داران تشریف لائے اور  ہمارے لئے یہ بہت سعادت کی بات ہے  کہ ہمارے شیخ کریم نائبِ محدث اعظم پاکستان حضرت ابو محمد ، محمد عبدالرشید رضوی قادری سمندری شریف والے  جو ہمارے استادِ گرامی بھی ہیں ، وہ ہمیں دعوت  اسلامی سے محبت کا بہت درس دیا کرتے تھے اور آپ کا یہ جملہ  کئی مرتبہ ہم نے سنا کہ دعو تِ اسلامی سے پیار کرو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  دعوت اسلامی نے سرکار دوعالم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی سنتیں گھر گھر 
پہنچائی ہیں اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا فیضان عام کیا ہے۔ ایک مرتبہ آپ سے کسی نے پوچھا : حضرت! آپ نائبِ محدثِ اعظم ہیں ، محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے خلیفہ ہیں اور آپ لوگوں کو دعوتِ اسلامی کی محبت کا درس دیتے ہیں ، حالانکہ آپ کے اپنے مریدین ہیں اور آپ کا اپنا ایک مشن ہے ، تو اس طرح کرنے سے آپ کے مریدین کم ہوجائیں گے؟ اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا : “ فقیر بھی اعلیٰ حضر ت کا غلام بناتا ہے۔ “ (مہتمم ادارہ خدمتِ دین مصطفیٰ ، سید محمد طاہر شاہ صاحب۔ فیصل آباد)
جواب : مَاشَآءَ اللہ! حضرت قبلہ  علامہ  مولانا عبدالر شید سمندری والا  رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی زیارت سے مشرف ہوں اور  میں نے ان کو بہت باعمل پایا ، نیز دعوتِ اسلامی سے ان کی محبت  بھی دیکھی ہے۔ اللہ کریم ان کو غریقِ  رحمت کرے  اور ان کے مزار فیض الانوار پر انوار و تجلیات  کی بارش نازل فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے ہمیں بھی مالا مال فرمائے۔ سید محمد طاہر شاہ صاحب نے ابھی بڑی پیار ی باتیں حضرت کے بارے میں بتائیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ علمائے  اہلِ سنّت کی محبت اور  ان کی شفقتیں ہیں کہ دعوت اسلامی آگے کوچ کئے جارہی ہے۔ اللہ پاک آپ کے ادارے کو مزید ترقی دے اور خوب علمائے اہلِ سنّت یہاں سے  تیار ہو کر نکلیں اور دنیا بھر میں مسلکِ اعلیٰ حضر ت کا ڈنکا بجائیں۔ 
***

ماخَذ ومَراجع

کتاب کا نام  مصنف / مؤلف / متوفیٰ  مطبوعات
ترمذی   امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی ، متوفی۲۷۹ھ دار الفکربیروت۱۴۱۴ھ
نسائی  ابو عبد الرحمن  احمد بن شعیب بن علی خراسانی النسائی ، متوفی۳۰۳ھ  دار الکتب العلمية بیروت
مسندامام احمد  امام احمد بن حنبل ، متوفی ۲۴۱ھ  دارالفکربیروت۱۴۱۴ھ
شعب الایمان  ابو بکر احمد بن حسین بن علی  بیہقی ، متوفی ۴۵۸ھ  دارالکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ
القول البدیع  حافظ محمد بن عبد الرحمن سخاوی ، متوفی۹۰۲ھ  مؤسسة الریان
درمختار  علاء الدین محمد بن علی حصکفی ، متوفی۱۰۸۸ھ  دارالمعرفة بیروت۱۴۲۰ھ
رد المحتار  علامہ محمد امین ابن عابدین شامی ، متوفی۱۲۵۲ھ  دارالمعرفة بیروت۱۴۲۰ھ
فتاویٰ رضویہ  اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان ، متوفی۱۳۴۰ھ  رضا فاؤنڈیشن لاہور۱۴۲۷ھ
بہارِشریعت  مفتی محمد امجد علی اعظمی ، متوفی۱۳۶۷ھ  مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ
***

 …… فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۶۲۳۔
 …… بہار شریعت، ۳/۱۹۹- ۲۰۰، حصّہ:۱۵ ملخصاً۔
 …… نماز کے اندر کھانا پینا مطلقاً نماز کو فاسد کر دیتا ہے، قصداً ہو یا بھول کر، تھوڑا ہو یا زیادہ، یہاں تک کہ اگر تل بغير چبائے نگل لیا یا کوئی قطرہ اُس کے منہ میں گرا اور اس نے نگل لیا، نماز جاتی رہی۔ (اسی طرح) دانتوں کے اندر کھانے کی کوئی چیز رہ گئی تھی اس کو نگل گیا،  اگر چنے سے کم ہے نماز فاسد نہ ہوئی مکروہ ہوئی اور چنے برابر ہے تو فاسد ہوگئی۔ (بہار شریعت، ۱/۶۱۰، حصّہ:۳)
 …… فتاویٰ رضویہ، ۶/۳۳۲۔
 …… فتاویٰ رضویہ، ۶/۳۳۲۔ 
 …… در مختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، مطلب فی منافع السواک، ۱/۲۵۳۔
 …… بہار شریعت، ۱/۳۱۶، حصّہ:۲۔
 …… بہار شریعت، ۱/۱۵۲، حصّہ:۱۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن