30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غوطے لگا میں گنتا جاؤں گا اور تجھے بتاؤں گاکہ پانی تیرے سارے سَر کو پہنچایا نہیں ۔ وہ اُترا اور غوطے لگانا شُروع کیے ، اور یہ(یعنی جو باہَر ہے وہ) کہہ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی سی جگہ تیرے سر میں باقی ہے ، وہاں پانی نہ پہنچا، ایک کو صبح سے دوپَہَر ہوگئی، آخِر تھک کر باہَر آیا اور دل میں شک رہا کہ غُسل اُترا یا نہیں ؟ پھر اس نے دوسرے سے کہا کہ اب تُواُترمیں گِنوں گا۔ اُس نے ڈُبکیاں لگائیں اور یہ(پہلا) کہتا جاتا ہے کہ ابھی سارے سر کو پانی نہ پہنچا، یہاں تک کہ دوپَہَر سے شام ہوگئی، مجبوراً وہ (دوسرا) بھی دریا سے نکل آیا اور دل میں شُبہے کا شُبہ ہی رہا۔ دن بھر کی نَمازیں کھوئیں ، اور غُسل اُترنے پر یقین نہ ہونا تھا اور نہ ہوا۔ وَالْعِیَاذُ بِاللہ تَعَالٰی( یعنی : ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں )یہ وسوسہ ماننے کا نتیجہ تھا۔ (حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ ج۲ ص۶۹۱)
مجھے وسوسوں سے بچا یا الہٰی
پئے غوث و احمد رضا یاالہٰی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
وَلہَان نامی شیطان ، وُضو کے بارے میں مختلف وسوسے دِلاتا ہے ، مَثَلاً دورانِوُضو شک ڈالتا ہے کہ فُلاں عُضْوْ دھُلنے سے رہ گیا، فُلاں عُضْوْ تین کے بجائے دو بار دھُلا ہے ، اِسی طرح باوُضو شخص کو بھی وَسوَسہ ڈالتا ہے کہ تیرا وُضو ٹوٹ گیا، وُضو کیے ہوئے اِتنا اِتنا وقت گزر چکا ہے اب وُضو کہاں رہا ہوگا! وغیرہ وغیرہ، ایسی صورت میں شیطان کے وسوسے کی طرف بالکل توجُّہ نہیں دینی چاہئے ۔وُضومیں وَسوسے ڈالنے والے شیطان کے بارے میں شَہَنْشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ باقرینہ ہے : وُضو کے لئے ایک شیطان ہے جس کانام ’’وَلْہَان‘‘ہے ، لہٰذاتم پانی کے وَسوَسوں سے بچو ۔ (سُنَنِ اِبن ماجہ ج۱ ص۲۵۲حدیث ۴۲۱)
اگر وُضُو کے بعد قطرے کا وہم پڑتا رہتا ہو تواِس وسوسۂ شیطانی سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وُضو کے بعد اپنے پاجامے یا شلوار کی رُومالی(یعنی شرمگاہ کے قریبی کپڑے ) پر پانی چھڑک لے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا : جب تُو وُضوکرے تو چھینٹا دے لے ۔ ( اِبن ماجہ ج۱ ص۲۷۰ حدیث ۴۶۳)پھر اگر قطرے کا وسوسہ ہو تو خیال کرلیجئے کہ پانی جوچِھڑکا تھایہ اُس کا اثر ہے ۔ہا ں جس کو واقِعی قطرہ آتا ہے تو اُس کی بات جُدا ہے ۔
وُضو میں وَسوسَہ آئے تو کیا کرے ؟
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 310پر صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’ اگر درمیانِ وُضو میں کِسی عُضْوْ کے دھونے میں شک واقِع ہواور یہ زندَگی کا پہلا واقِعہ ہے تو اس کو دھولے اور اگر اکثر شک پڑا کرتا ہے تو اس کی طرف اِلتِفات ( یعنی توجُّہ) نہ کرے ۔ یوہیں اگر بعدِ وُضو شک ہے کہ وُضُو ہے یا ٹوٹ گیا تو وُضو کرنے کی اسے ضَرورت نہیں ۔ ہاں کرلینا بہتر ہے ، جب کہ یہ شُبہ بطورِ وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ ہے تو اسے ہرگز نہ مانے ، اِس صورت میں احتیاط سمجھ کر وُضو کرنا احتیاط نہیں بلکہ شیطانِ لعین کی اِطاعت ہے ۔‘ ‘
تو وُضو کے وسوسوں سے یا خدا مجھ کو بچا
ساتھ ظاہر کے مِرا باطن بھی ہو جائے صَفا
نَمازمیں وُضو ٹوٹنے کے وَسْوَسے
نماز میں شیطان کبھی وَسوسہ ڈالتا ہے کہ وُضو ٹوٹ گیا، کبھی پیشاب کا قطرہ نکلنے تو کبھی ریح خارِج ہو نے کا دل میں شُبہ ڈالتا ہے ۔چُنانچِہ اس ضِمن میں میرے آقائے نعمت ، اعلیٰ حضرت ، مجدِّدِ دین وملّت، عاشقِ ماہِ نُبُوَّت ، پروانۂ شمعِ رسالت ، مولیٰنا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن چند احادیثِ مبارَکہ نَقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں : ان حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نَماز میں دھوکا دینے کے لئے کبھی انسان کی شَرمگاہ پر آگے سے تھوک دیتا ہے کہ اُسے قطرہ آنے کا گُمان ہوتاہے ، کبھی پیچھے پھونکتا ، یا بال کھینچتا ہے کہ رِیح خارِج ہونے کا خیال گزرتا ہے ۔اِس (طرح کے وسوسے آنے )پر حکم ہو ا کہ نَماز سے نہ پِھرو، جب تک تَری یا آواز یا بُو نہ پاؤ، جب تک وُقوعِ حدَث (یعنی وُضو ٹوٹنے ) پریقین نہ ہو لے ۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱ ص۷۷۴)
شیطان سے کہہ دیجئے : ’’ تُو جھوٹا ہے ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب تک وضو ٹوٹنے کا ایسا یقین نہ ہو کہ جس پر قسم کھائی جا سکے اُس وقت تک وُضو نہیں جاتا ، شیطان جب کہے : تیرا وُضو جاتا رہاتو دل میں جواب دیجئے کہ خبیث تُوجھوٹا ہے اور اپنی نَماز میں مشغول رہئے ، جیسا کہ حضرت سیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روا یت کرتے ہیں کہسرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر وسوسہ ڈالے کہ تیرا وُضُو جاتا رہا تو فوراً اسے دل میں جواب دے کہ تُو جھوٹا ہے ۔ یہاں تک کہ اپنے کانوں سے آواز نہ سن لے یااپنی ناک سے بُو نہ سونگھ لے ۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حِبّان ج۴ص۱۵۳حدیث۲۶۵۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع