30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ سیّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار، بِاِذْنِ پروَردَگاردوعالم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے لئے میری اُمَّت سے ان کے دِلی خَطْرات (یعنی وسوسوں ) میں در گُزر فرمادی، جب تک اس پر کام یا کلام نہ کریں ۔ (صَحیح بُخاری ج ۲ ص۱۵۳حدیث۲۵۲۸)
مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : بُرے خیالات پر پکڑ نہیں یہ اِس امّت کی خُصُوصیَّت ہے ، پچھلی اُمّتوں میں اِس پر(یعنی وسوسے دل میں جمانے یاقصداً لانے پر) بھی پکڑ تھی ۔ خیال رہے کہ بُرے خیالات او ر ہیں (اور) بُرا ارادہ کچھ اور، بُرے ارادے پر پکڑ ہے حتّٰی کہ اِرادۂ کفر’’کُفْر‘‘ ہے ۔(مراٰۃ ج اول ص ۸۱)
مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : جو بُرا خیال دل میں بے اختیارو اچانک آ جاتا ہے ، اُسے ہاجِس کہتے ہیں ، یہ آنی فانی ہوتا ہے ، آیا اور گیا۔ یہ پچھلی اُمَّتوں پر بھی مُعاف تھا اور ہم کو بھی مُعاف ہے ، لیکن جو دل میں باقی رہ جائے وہ ہم پر مُعاف ہے ، اُن(اُمّتوں ) پر مُعاف نہ تھا۔ اگر اِس کے ساتھ دل میں لَذَّت اور خُوشی پیدا ہواُسے ھَمَّکہتے ہیں ، اِس پر بھی پکڑ نہیں اور اگر ساتھ(ہی) کر گزرنے کا ارادہ بھی ہو تو وہعزم ہے ، اس کی پکڑ ہے ۔ (اَشِعَّۃُ اللَّمعات ج ۱ص۸۵ )
وَسوسے چاہے جتنے ہی آئیں اور کتنے ہی خطرناک ہوں اُن سے ایمان برباد نہیں ہوتا!ایمانیات کے تعلُّق سے وسوسے آنے پر دل پریشان ہونا اس بات کی علامت ہے کہ دِل ایمان پر مُطمئن ہے ۔ پارہ 14سورۃُ النَّحلآیت نمبر106میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ ( پ۱۴، النحل، ۱۰۶)
ترجَمۂ کنزالایمان : اور اس کا دل ایمان پر جَمَا ہوا ہو۔
وسوسوں کو بُرا سمجھنا عَین ایمان ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ایمان کے بارے میں وَسوَسے آنا تو کمالِ ایمان کی علامت ہے ، چور ڈاکو وَہیں جاتے ہیں جہاں دولت کی ریل پیل ہوتی ہے ، توجہاں ایمان جتنا زیادہ مضبوط ہو گا ، شیطان اُسی قَدَر زیادہ تنگ کرے گا۔کسی مسلمان کا وَسوسوں پر گھبرانا ، پریشان ہونا ، رَورَو کر شیطان مردود سیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ طلب کرنا درحقیقت قُوّتِ ایمانی کی نشانی ہے ۔ مُفَسِّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان فرماتے ہیں : ’’ وَسوسوں کو بُرا سمجھنا عین ایمان ہے ۔‘‘(مراٰۃالمناجیح ج۱ص۸۲)
استِقامت دیجئے اسلام پر کیجئے رَحمت اے نانائے حسین
دل سے دنیا کی ہَوَس سب دورہو کیجئے رَحمت اے نانائے حسین
نزع، قبر و حشر، میزاں ہر جگہ
کیجئے رَحمت اے نانائے حسین(وسائلِ بخشش ص۹۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایمانیات کی طرح’’ عِبادات ‘‘میں بھی شیطان وَسوسے ڈالتا ہے اور اِس مُعَامَلے میں وہ اکیلا نہیں ، اُس کے ہمراہ ایک مُنَظَّم جماعت ہے ۔ مُفَسِّرِشَہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانفرماتے ہیں : ذُرِّیَّتِ شیطان (یعنی اولادِ ابلیس ) کی مختلف جماعتیں ہیں ، اِن کے نام اور کام الگ الگ ہیں ، چُنانچِہ’’ وُضو‘‘ میں بہکانے والی جماعت کا نام وَلْہَان ہے اور ’’نَماز‘‘ میں وَرغَلانے والی جماعت کا نام خِنْزَب ہے ۔ ایسے ہی مسجِدوں میں ، بازاروں میں ، شراب خانوں میں اس کی الگ الگ فوجیں رہتی ہیں ۔ (مِراٰۃ ج ۱ ص ۸۵)
9شیطانوں کے نام و کام
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’فیضانِ سنَّت‘‘ صَفْحَہ40تا41پر ہے : امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا عمرِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ شیطان کی اولاد نو ہیں : (۱) زَلِیْتُون (۲) وثین (۳) لَقُوْس(۴) اَعْوَان(۵) ھَفَّاف(۶) مُرَّۃ (۷) مُسَوِّط (۸) دَاسِم اور (۹) ولھان {1}زَلِیْتُون : بازاروں میں مقرَّر ہے ، اور وہاں اپنا جھنڈا گاڑے رہتا ہے { 2 } وَ ثِیْن : اِس کی لوگوں کوناگہانی آفات میں مبتَلا کرنے کی ڈیوٹی ہے {3} لَقُوْس : آتَش پرستوں پرمُتَعَیّن(یعنی مقرَّر) ہے {4} اَعْوَان : حُکمرانوں کے ساتھ ہو تا ہے {5} ھَفَّاف : شرابیوں کے ہمراہ رہتا ہے {6} مُرَّۃ : گانے باجے ، بجانے والوں پر مقرَّر ہے {7}$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع