30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکھ دئے ہیں وُہی کرنا ہے ، ایسے ہی نیک کام کرنا ہے ۔ الجواب : ’’زید گمراہ بے دین ہے ، اُسے کوئی جُوتا مارے تو کیوں ناراض ہوتا ہے ؟ یہ بھی تو تقدیر میں تھا ۔ اس کا کوئی مال دبا ئے تو کیوں بگڑتا ہے ؟ یہ بھی تقدیر میں تھا، یہ شیطانی فِعلوں کا دھوکاہے کہ جیسا لکھدیا ایسا ہمیں کرنا پڑتا ہے (حالانکہ ہرگز ایسا نہیں ) بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے اُس(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ) نے اپنے علم سے جان کر وُہی لکھا ہے ۔‘‘
صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہبہارِ شریعت حصّہ اوّل صَفْحَہ 24 پرفرماتے ہیں : ’’بُرا کام کر کے تقدیر کی طرف نسبت کرنا اور مشیَّتِ (مَشِی۔یتِ)الہٰی کے حوالے کرنا بَہُت بُری بات ہے ، بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچّھا کا م کرے اسے مِنجانِبِ اللہ (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ) کہے اور جو بُرائی سر زَد ہو اُس کو شامَتِ نَفْس تصوُّر کرے ۔‘‘
تقدیر کے بارے میں وسوسے کاایک بہترین علاج
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 344 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’مِنہاجُ العابِدین‘‘ صَفْحَہ86تا87پر حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نے جو کچھ بیان فرمایا اس کا خلاصہ ہے : ابلیس بسا اوقات وسوسے ڈال کر یوں بھی گمراہ کرتا ہے کہ انسان کے نیک و بد ہونے کے مُتَعلِّق روزِ اَزَل میں فیصلہ ہو چکا ہے ، جو اُس روز بُروں میں ہو گیا وہ ’’بُرا ‘‘ہی رہے گا اور جو اچّھوں میں ہو گیا وہ’’ اچّھا‘‘ ہی رہے گا ۔ تمہارے اعمالِ نیک و بد سے فیصلۂ اَزَلی میں ہرگز فرق نہیں آ سکتا۔اگر اللہ تعالیٰ بندے کو اس وَسوسۂ شیطان سے بچا لے اور بندہ ابلیسِ لعین کویوں جواب دے کہ ’’ میں تو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور بندے کاکام ہے اپنے مولیٰ کے حکم کی تعمیل ، اور اللہ تعالیٰ چُونکہرَبُّ العٰلَمین ہے اس لیے جو چاہے حکم دے اور جو چاہے کرے اور پھر عبادت و طاعت کسی طرح بھی مُضِر(یعنی نقصان دِہ) نہیں ، کیونکہ اگر میں علمِ الہٰی میں سعید (یعنی سعادت مند)ہوں تو پھر بھی اور زیادہ ثواب کا محتاج ہوں اور اگر معاذَاللہ علمِ الہٰی میں میرا نام بد بختوں میں لکھا ہو تو بھی نیک اعمال کرنے سے اپنے اوپر یہ ملامت تو نہیں کروں گا کہ مجھے اللہ تعالیٰ طاعت و عبادت نہ کرنے پر سزا دے گا اور کم ازکم یہ تو ہے کہ نافرمان بن کر جہنَّم میں جانے کی نسبت مطیع (یعنی فرماں بردار)بن کر جانا بہتر ہے ۔ لیکن یہ تو سب مَحض اِحتِمالات (یعنی شُبُہات) ہیں ، ورنہ اُس کا وعدہ حق ہے اور اس کا کلام قَطعاً سچّا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جا بجا طاعات و عبادات کی بجا آوَری پر ثوابِ جمیل کے وعدے فرمائے ہیں ۔ تو جو شخص ایمان و طاعت(یعنی عبادت) کے ساتھ رب تعالیٰ کے دربار میں حاضِر ہو گا ، وہ ہرگز دوزخ میں نہ جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اعمالِ صالحہ (یعنی نیکیوں )کی وجہ سے جنَّتُ الفِردوس میں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّجگہ پائیگا۔ لیکن حقیقت میں یہ دُخول (یعنی داخِلہ) بھی وعدہ ٔخداوندی کی وجہ سے ہو گا ۔ اِسی صدقِ وعدہ (یعنی سچّے وعدے ) کا اظہار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قراٰنِ مجید(پارہ24سورۃُ الزُّمَرکی آیت نمبر74) میں سعید(یعنی سعادتمند) لوگوں کے اس مَقُولے (یعنی قول) کو نقل فرمایا ہے :
وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ (پ۲۴، اَلزُّمَر : ۷۴)
ترجَمۂ کنزالایمان : اور وہ کہیں گے : سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچّا کیا ۔
اللہ کی رَحمت سے تو جنّت ہی ملیگی
اے کاش! مَحَلَّے میں جگہ اُن کے ملی ہو(وسائلِ بخشش ص ۱۰۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِیمانیات کے بارے میں وَسْوَسے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بسااوقات شیطان ایسے ایسے وَسوسے ڈالتا ہے کہ جن کو زَبان سے بیان کرنے کی ہمّت ہی نہیں ہوتی۔ چُونکہ صَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضوان اللہ و رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِطاعت میں ہر دَم مشغول رہتے تھے ، اِس لیے شیطان انہیں وَسوسوں کے ذَرِیعے (ذ۔ری۔عے ) خوب پریشان کیا کرتا تھا۔ چُنانچِہ مُسلم شریف میں ہے کہ کچھ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوان مدینے کے تاجدار ، بے کَسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربارِ گوہر بار میں حاضِر ہوکر عَرض گزار ہوئے : ہم اپنے دِلوں میں ایسے خیالات (وَسوسے ) محسوس کرتے ہیں کہ اِنہیں بیان کرنا بَہُت بُرا معلوم ہوتا ہے ۔ ہادیٔ راہِ نَجات، سر ورِ کائنا ت، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا : کیا تم نے یہ بات پائی ہے ؟ عَرض کیا : جی ہاں ۔ فرمایا : ـ’’ یہ کھُلا ہوا ایمان ہے ۔‘‘ (صَحیح مُسلِم ص۸۰ حدیث۱۳۲)
بحرو بر کے بادشاہ ، دو عالم کے شَہَنْشاہ ، اُمّت کے خیر خواہ، بی بی آمِنہ کے مہر و ماہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ اَقدس میں حاضِر ہو کر ایک شخص نے عَرض کی : میں اپنے دل میں ایسے خیالات محسوس کرتا ہوں کہ وہ بولنے سے جل کر کوئلہ ہوجانا زِیادہ پسند ہے ۔ فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ جس نے اِن خَیالات کو وَسوَسہ بنادیا۔(السُّنّۃ لابی عاصم ص ۷ ۱۵حدیث۶۷۰) مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : یعنی ربّعَزَّ وَجَلَّ نے ایسے خَیالات کو وَسوسے میں داخِل فرمایا، جن پر کوئی پکڑ نہ رکھی ، وہ کریم عَزَّ وَجَلَّ بندے کی مجبوری و معذوری جانتا ہے ۔ (مراٰۃ ج۱ص۸۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع