دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Waswasay aur in ka Ilaj | وسوسے اور ان کا علاج

book_icon
وسوسے اور ان کا علاج

ترجَمۂ کنزالایمان :  اور اے سُننے والے ! اگر شیطان تجھے کوئی کُونچہ (وَسوَسہ) دے تو اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ ) کی پناہ مانگ ، بے شک وُہی سُنتا جانتا ہے ۔

مجھ کو دیدے پناہ شیطاں سے

اِس سے ایماں مرا بچا یارب

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 امام رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاورشیطان

            دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ502 صَفحات پر مشتمل کتاب ’’ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت (مُخَرَّجہ)‘‘ صَفْحَہ 493 تا494پر ہے : ( حضرتِ سیِّدُنا)امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے نَزع کا وقت جب قریب آیا، شیطان آیا، اُس وَقت شیطان پوری جان توڑ کوشِش کرتا ہے کہ کسی طرح اِس (بندے ) کا ایمان سَلْب ہوجائے ۔(یعنی چھین لیا جائے کہ) اگر اس وَقت (وہ بندہ ایمان سے ) پِھر گیا تو پھر کبھی نہ لوٹے گا ۔ (چُنانچِہ)اُس(یعنی شیطان) نے ان سے پوچھا کہ تم نے تمام عُمْر مُنَاظَروں ، مُباحَثَوں میں گزاری، خدا ( عَزَّ وَجَلَّ )کو بھی پہچانا؟آپ ( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے فرمایا : ’’بے شک خُدا  ( عَزَّ وَجَلَّ ) ایک ہے ۔‘‘اُس (یعنی شیطان )نے کہا : اِس پر کیا دلیل ؟ آپ(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے ایک دلیل قائم فرمائی۔ وہ (یعنی شیطان) خبیثمُعَلِّمُ الْمَلَکُوت(یعنی فِرِشتوں کو تعلیم دینے والا ۔استاد)رہ چکا ہے ، اُس نے وہ دلیل توڑ دی۔ انہوں نے دوسری دلیل قائم کی، اُس نے وہ بھی توڑ دی ۔ یہاں تک کہ تین سو ساٹھ دلیلیں حضرتِ (سیِّدُناامام فخر الدّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی )نے قائم کیں اوراُس نے سب توڑ دیں ۔ اب یہ (یعنی امام صاحِب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)سخت پریشانی میں اور نہایت مایوس۔ آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ )کے پیرحضرتِ( سیِّدُنا شیخ )نجم ُ الدّین کُبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کہیں دُور دراز مقام پر وُضو فرما رہے تھے ، وہاں سے آپ( یعنی پِیرومرشد)نے (امام رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی کو )آواز دی : ’’ کہہ کیوں نہیں دیتا کہ میں نے خدا  ( عَزَّ وَجَلَّ )  کو بے دلیل ایک مانا۔‘‘

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے شیطان کس کس اَنداز پر وار کرتا ہے ! اگر اس کی بات پر دھیان دے دیا جائے تو پھر یہ پیچھے ہی پڑجاتا ہے ۔ اس کو NO LIFT کرنا ، اس کے ’’وسوسوں ‘‘ کی طرف توجُّہ نہ کرنا بھی وسوسوں کا علاج ہے نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سے ہر دم شیطان کی شرارَتوں سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کامل پِیر کا مُرید بن جانا چاہیے کہ مرشِد کی توجُّہ بھی وَسوسۂ شیطانی کو دَفع کرتی ہے ۔

ہے عطارؔ کو سَلبِ ایماں کا دھڑکا

                    بچا اِس کا ایماں بچا غوثِ اعظم(وسائلِ بخش ص۲۹۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 تقدیر کے بارے میں وَسوسے

             شیطان تقدیر کے مُعاملات میں بھی دل میں وَسوسے ڈالتا رہتا ہے ، مَثَلاً جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے ہم اُس کے پابند ہیں ، تقدیر کے آگے مجبورِ محض ہیں ، ہم تو وُہی کررہے ہیں جو تقدیر میں لکھا ہے ، پھر قبرو جہنَّم کی سزائیں کیوں ؟وغیرہ وغیرہ۔یقینا یہ بھی شیطان کا دھوکا ہے ، اِس مُعامَلے میں سوچیں بھی نہیں ، ورنہ شیطان گمراہ کردے گا، بس ’’اَعُوْذُ بِاللہ  مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْم ط‘‘ پڑھ کر اس مردود کو بھگا دیجئے ۔

جو جیسا کرنے والا تھا ویسا لِکھ دیا گیا

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یادرکھئے !جو جیسا کرنے والا تھا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  نے اُسے اپنے علم سے جانا اور اُس کیلئے وَیسا لکھا ، اُس عَزَّ وَجَلَّ  کے جاننے اور لکھنے نے کسی کو مجبور نہیں کیا۔ اِس بات کو اِس عام فَہم مِثال سے سمجھنے کی کوشِش فرمایئے جیسا کہ آ ج کل قانون کے مطابِق غِذاؤں اور دواؤں  وغیرہ کے پیکٹوں پر انتہائی تاریخ ( EXP.DATE) لکھی جاتی ہے ، بچّہ بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ کمپنی والوں کوچُونکہ تجرِبہ ہوتا ہے کہ یہ چیز فُلاں تاریخ تک خراب ہو جائیگی، اِس لئے لکھ دیتے ہیں ، یقینا کمپنی کے (EXP.DATE )لکھنے نے اُس چیز کو خراب ہونے پرمجبور نہیں کیا، اگر وہ نہ لکھتے تب بھی اُس چیز کو اپنی مُدّت پر خراب ہونا ہی تھا۔

تقدیر کے بارے میں ایک اَہَم فتوٰی

            اِس ضِمن میں دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  692 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ کفریہ کلمات کے بارے میں سُوال جواب ‘‘ صَفْحَہ 583 تا 585پرلکھا ہے :  فتاوٰی رضویہ جلد 29صَفْحَہ284تا285سے ایک سُوال جواب پیش کیا جاتا ہے ۔سُوال : ’’زید ‘‘کہتا ہے جو ہُوا اور ہو گا سب خدا کے حکم سے ہی ہوا اور ہو گا پھر بندے کی کیوں گرِفت ہے اور اس کو کیوں سزا کامُرتکب(مُر۔تَ۔کِب) ٹھہرایا گیا؟ اس نے کو ن سا کام ایسا کیا جو مُستِحق عذاب کا ہوا؟ جو کچھ اُس(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ) نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وُہی ہوتا ہے ، کیونکہ قراٰنِ پاک سے ثابِت ہو رہا ہے کہ بِلا حکم اُس کے ایک ذَرّہ نہیں ہلتا پھر بندے نے کون سا اپنے اِختیار سے وہ کام کیا جو دوزخی ہوا یا کافِر یا فاسِق۔ جو بُرے کام تقدیر میں لکھے ہوں گے تو بُرے کام کرے گا اور بھلے لکھے ہونگے تو بھلے ۔بَہَر حال تقدیر کا تابِع ہے پھر کیوں ا ِس کو مجرِم بنایا جاتا ہے ؟ چوری کرنا، زِنا کرنا، قتل کرناوغیرہ وغیرہ جو بندے کی تقدیر میں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن