30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۱۶)ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآىٕلِهِمْؕ-وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ(۱۷)
ترجَمۂ کنزالایمان : (شیطان) بولا : تو قَسَم اس کی کہ تُو نے مجھے گمراہ کیا میں ضَرور تیرے سیدھے راستے پر اِن کی تاک میں بیٹھوں گا، پھر ضَرور میں ان کے پاس آؤں گا اِن کے آگے اور پیچھے اور داہنے اور بائیں سے ۔ اور تُو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔
محبوبِ خدا سر پہ اَجل آ کے کھڑی ہے
شیطان سے عطارؔ کا ایمان بچا لو (وسائلِ بخشش ص ۸۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیطان تو اُن کی دشمنی سے بھی باز نہیں آتا جوکہ اِس کے ساتھ عداوت نہیں رکھتے اوراس کی مخالَفَت بھی نہیں کرتے بلکہ اِس کے پکّے دوست ہیں اور اِس مَردودکی اِطاعت کرتے ہیں ، جیسا کہ کُفّار، گُمراہ اور فاسق و فاجِر لوگ، تو جب یہ اپنے ’’ دوستوں ‘‘ کو بھی نہیں چھوڑتا اور انہیں بھی برابروسوسے ڈالے جاتا اور تباہی و ہلاکت میں ڈھیٹ سے ڈھیٹ تر بنائے چلا جاتا ہے ، تو پھر اُن عُلَمائے دین اور سنّتوں کے مُبَلِّغین کَثَّرَ ھُمُ اللہ الْمُبِین( یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسوں کی کثرت کرے )کے ساتھ اُس کی عداوت کا کیا حال ہوگا جوکہ ہر وقت اُس کی مخالَفَت کرتے ، مسلمانوں کو اِس کے داؤ پَیچسے باخبررکھتے اوریوں اس کو غَضَب ناک کرنے (یعنی غصّہ دلانے ) اور اس کے گمراہ کُن مَنصوبوں کو خاک میں ملانے میں مصروف رہتے ہیں ۔ بس اس کے وَسوَسوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے کیونکہ یہ مردودشیطان بَہُت زیادہ مکَّار و چالاک ہے ہر ایک کو اس کی نفسیات کے مطابق وَسوَسوں کا شکار بناتا ہے جیسا کہ مُفَسِّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رَحمَۃُ الْحَنّان فرماتے ہیں : خیال رہے کہ شیطان عالِموں کے دل میں عالِمَانہ وَسوَسے اورصُوفیوں کے دل میں عاشِقَانہ وَسوَسے ، عوام کے دِل میں عامِیانہ وَسوسے ڈالتا ہے ۔(یعنی )’’ جیسا شکار ویسا جال!‘‘ بَہُت دَفعَہ(گناہوں کو ایسا سجا کر پیش کرتا ہے کہ) اِنسان گناہ کو عبادت سمجھ لیتا ہے ! (مراٰۃ ج ۱ ص ۸۷ ) بعض اَوقات شیطان اپنے آپ کو ’’خُدا‘‘ کہہ کر بھی سامنے آجاتا ہے اور گمراہ کرنے کی کوشِش کرتا ہے ، جیسا کہ ہمارے پیرومُرشِد شَہَنْشاہِ بغداد حُضُور غوثِ اعظم سیِّدُناشیخ عبد القادِر جِیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانِیکے پاس آیا تھا۔
سُن لو شیطاں نے ہر طرف ہر سُو
خوب پھیلا کے جال رکھا ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں وَسْوَسے
ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حفاظت نشان ہے : تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے تو اُس سے کہتا ہے کہ فُلاں چیز کس نے پیدا کی؟ فُلاں کس نے ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے کہ تمہارے رب عَزَّ وَجَلَّ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب اِس حد تک پہنچے تو ’’اَعُوْذُ بِاللہ ‘‘پڑھ لو اور اِس سے باز رہو۔( بُخاری ج ۲ ص۳۹۹حدیث۳۲۷۶)
ہر سُوال کا جواب نہیں دیا جاتا
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی اِس کا جواب سوچنے کی کوشِش بھی مت کرو، ورنہ شیطان سُوال در سُوال کرے گا۔ اَعُوْذُ بِاللہ پڑھ کر اسے بھگادو، ہر سوال کا جواب نہیں دیا جاتا۔ رب(عَزَّ وَجَلَّ ) نے شیطان کے سجدہ نہ کرنے پر اس کے دلائل کا جواب نہ دیا ۔ بلکہ فرمایا : فَاخْرُ جْ مِنْهَا (یعنی تو جنّتسے نکل جا۔(پ۱۴، الحَجَر۳۴ )) خیال رہے کہ اَعُوْذُ بِاللہ (مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیم پڑھنا) دفعِ شیطان کے لئے اِکسیر ہے ۔ (مراۃ ج اول ص ۸۲)
نفس و شیطاں کی شرارت دُور ہو
یہ کرم یا مصطَفٰے فرمایئے (وسائلِ بخشش ص ۸۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا جب بھی وَسوسہ آئے ’ ’ اَعُوْذُ بِاللہِ ‘‘ پڑھ کر اُس کو دَفع کرنا چاہئے ۔ وَسوسے آنے کی صورت میں قراٰنِ پاک میں بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے چُنانچِہ پارہ 9 سورۃُ الْاَعرافآیت نمبر 200 میں ارشاد ہوتا ہے :
وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ-اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۰۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع