30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مِرقَاۃ اور اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات میں ہے کہ جُوں ہی کسی انسان کا بچّہ پیدا ہوتا ہے ، اُسی وقت اِبلیس کے یہاں بھی بچّہ پیدا ہوتا ہے جسے فارسی میں ہَمزاداور عَرَبی میں وَسْواس کہتے ہیں ۔ (اشعۃ اللمعات ج۱ص۸۷، مرقاۃ ج۱ص۲۴۴، مراٰۃ ج۱ص۸۳)
حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا کہ تم میں ایسا کوئی نہیں جس پر ایک ساتھی جِنّ (شیطان) اور ایک ساتھی فِرِشتہ مقرّر نہ ہو۔لوگوں نے دریافت کیا : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیا آپ پر بھی ؟ارشاد فرمایا : مجھ پر بھی، لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اس پر مدد دی جس سے وہ شیطان مسلمان ہوگیا، اب وہ مجھے بھلائی کا ہی مشورہ دیتا ہے ۔ (صَحیح مُسلِم ص۱۵۱۲ حدیث۲۸۱۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ ذِہن میں رہے کہ صِرف سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہمزاد ہی مسلمان ہوا، باقی سبھی کے ’’ہمزاد‘‘ پکّے کافر ہیں ۔ بَہَرحال ہم پر ایک ایسا شیطان مُسَلَّط ہے جو کہ کٹّر کافر ہے اورہمیں وَسوَسے دِلاتا اور ہر وقت ہماری مُخالَفَت و عداوت میں لگا رہتا ہے ۔
مجھے نفسِ ظالم پہ کر دیجے غالِب
ہو ناکام ہمزاد یا غوثِ اعظم(وسائلِ بخشش ص ۲۹۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِداریمکتبۃُ المدینہکی مطبوعہ 344 صَفحات پر مشتمل کتاب (مترجم) مِنْہَاجُ العابِدِینصَفْحَہ77پرحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن مُعَاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کا یہ قول نَقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ شیطان فارِغ ہے اور تُو مشَغول ، وہ تجھے دیکھتا ہے مگر تُو اسے نہیں دیکھتا، تُو نے اُسے بھلایا ہوا ہے مگر اِس نے تجھے نہیں بھُلایا اور تیرے اندر بھی شیطان کے کئی یارومددگار(مثَلاً نفس اور خواہِشات وغیرہ موجود ) ہیں ، ا ِس لیے اُس سے مُحَارَبَہ (یعنی لڑائی ) کرکے اس کو مَغلُوب کرنا ضَروری ہے ، ورنہ تُو اِس کی شرارَتوں اورہَلاکتوں سے محفوظ نہیں رَہ سکتا۔‘‘ (مِنْھاجُ الْعابِدِین (عربی)ص۴۷ )
کلیجہ شیاطیں کا تھرّا اٹھے گا
پکارو سبھی مل کے یا غوثِ اعظم(وسائلِ بخشش ص ۲۹۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شیطان بدن میں خون کی طرح گردش کرتا ہے
شیطان ہم سے اِس قَدر قریب ہے کہ غیب دان آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عالی شان ہے : ’’بے شکشیطان اِنسان (کے بدن) میں خون کی طرح گردِش کرتا ہے ۔‘‘ ( بُخاری ج ۱ ص۶۶۹حدیث۲۰۳۸) صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : پس اس کے راستوں کو بھوک کے ذریعے تنگ کرو۔(کشف الخفاء ج۱ص۱۹۸)
زیادہ کھانے کے 6 تشویشناک نقصانات
جو ڈٹ کر کھاتے ہیں وہ غور فرما لیں کہ شیطان سے کس طرح پیچھا چھوٹے گا ! حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں : منقول ہے ، زیادہ کھانے میں چھ برائیاں ہیں : {۱}دل سے خوفِ خدا چلا جاتا ہے {۲} مخلوقِ خدا پر رحمت کا جذبہ یعنی ہمدردی دل سے نکل جاتی ہے کیوں کہ ایسا شخص یہ سمجھتا ہے کہ میری طرح سبھی کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں {۳}عبادت بھاری پڑ جاتی ہے {۴} وعظ و نصیحت ( سنَّتوں بھرا بیان) سن کر دل میں نرمی پیدا نہیں ہوتی {۵}اگر خود مبلّغ ہے اور بیان اور حکمت کی بات کرتا ہے تو لوگوں کے دلوں پر اس کا اثر نہیں پڑتا {۶} طرح طرح کی بیماریاں جَنَم لیتی ہیں ۔ (مُلَخَّص از اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۴۰)
یا الہٰی بھوک کی دولت سے مالا مال کر
دو جہاں میں اپنی رحمت سے مجھے خوشحال کر
( بھوک کے فوائد اور زیادہ کھانے کے نقصانات کی تفصیلی معلومات کیلئے فیضانِ سنّت جلد اوّل کے باب’’پیٹ کا قفلِ مدینہ‘‘ کا مطالَعَہ فرمایئے )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب شیطان کو مَردُود قرار دیا تو اُس نے انسان سے دشمنی کا اِعلان کر دیا ! اُس کا قول قرآنِ مجید پارہ8 سورۃُ الاَعراف آیت نمبر16 اور17میں اِس طرح نَقل کیا گیا ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع