30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر وَسْوَسے کسی صُورت نہ جائیں تو …
اگر وَظائف و اعمال سے شیطان کے وَسوسوں سے چھٹکارا نہ ہو تو گھبرانے کی ضَرورت نہیں ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ مِنہاجُ العابِدین میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نے جو کچھ فرمایااس کاخُلاصہ ہے : اگرآپ یہ محسوس کریں کہ شیطان ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے پناہ مانگنے کے باوُجُودپیچھا نہیں چھوڑرہا اور غالب آنے کی کوشش میں ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کوآپ کے مُجاہَدے ، قُوَّت اور صبر کا اِمتحان مَطُلوب ہے ، یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ آزمارہا ہے کہ آپ شیطان سے مقابَلہ اور مُحارَبہ(یعنی جنگ) کرتے ہیں یا اس سے مَغلوب ہو(یعنی ہار)جاتے ہیں ۔ دیکھئے نا! اُس نے ہم پرکُفّار وغیرہ کو بھی تومُسلّط کرہی رکھا ہے حالانکہ وہ اس پریقینا قادِر ہے کہ ہمارے جِہاد وغیرہ کے بِغیر ہی اُن کی شرارتوں اور فتِنوں کو کُچل دے ، لیکن وہ ایسا نہیں کرتا بلکہ بندوں کو ان سے جِہاد کا حُکم فرماتا ہے ، تاکہ آزمائے کہ کس کے دل میں جذبۂ جِہاد اور شہادت کی تڑپ ہے اور کون پورے خُلوص اور صَبْر سے اِن کا مقابلہ کرتا ہے ۔ آگے چل کر سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی مزید فرماتے ہیں : تو اِسی طرح شیطان کے مقابلے میں بھی ہمیں چُستی اور پوری کوشش کاحکم دیا گیا ہے ۔ پھر ہمارے عُلَمائے کرام(رَحِمَہُمُ اللہ السّلام) نے فرمایا ہے کہ شیطان سے مقابلہ کرنے اور اِس پر قابو پانے کیلئے تین چیزیں ضَروری ہیں {۱} تم اس کے حیلے اور چالاکیاں معلوم کرو اور پہچانو، جب اِس کا عِلم ہو جائے گا تو پھر وہ تم کو نقصان نہیں پہنچاسکے گا ، جیساکہ چور کو جب پتا چل جائے کہ صاحِبِ مکان کو میرا عِلم ہو گیا ہے تو وہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے {۲} تم شیطان کی گمراہ کُن اور گناہوں بھری دعوت ہرگز منظور نہ کرو، تمہارا دل قَطعاً اس کی دعوت کا اثر نہ لے نیز تم اس کے مقابلے کی طرف توجُّہ بھی نہ دو، کیونکہ ابلیس ایک بَھونکنے والے کُتّے کی مانند ہے ، اگر تم اس کو چھیڑو گے تو زیادہ شور مچائے گا اور اگر اعراض کرو گے (یعنی اس کے وسوسوں کی طرف توجُّہ نہ دو گے ) تو وہ بھی خاموش ہو جائیگا {۳} ذِکرِ الہٰی کی کثرت کرو۔ ( مِنہاجُ العابِدین(عربی) ص۴۶)
ذکر سے شیطان کی تکلیف کی کیفیت
منقول ہے : شیطٰن کیلئے ذِکرُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اتنا تکلیف دِہ ہے جیسے کہ انسان کے پہلو میں آکِلَہ ۔ (مِنْھاجُ الْعابِدِین ص۴۶) مَرَضِ آکِلہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے گوشت پوست کو مُتَأَثِّر کرتی ہے اور جسم سے گوشت خود بخود جُدا ہونا شروع ہوجاتاہے ۔
اِمتحاں کے کہاں قابل ہوں میں پیار ے اللہ
بے سبب بخش دے مولیٰ تِرا کیا جاتا ہے (وسائلِ بخشش ص۷۲ )
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
وسوسہ : بارہا ذِکرُ اللہ کرنے کے باوُجُود شیطان کے وَسوسے نہیں جاتے ۔ مَثَلاً نماز سب سے بڑا ذِکر ہے لیکن نماز میں تو بَہُت زیادہ وسوسے آتے ہیں ، یہاں تک کہ بُھولی باتیں بھی شیطان یاد دلادیتا ہے !
وسوسے کا علاج : بے شک ذکر سے شیطان بھاگتا ہے اور یقینا اللہ عَزَّ وَجَلَّ دعا قبول فرماتا ہے جیسا کہ قراٰن پاک سُورۂ مُؤمِن آیت نمبر 60میں ارشاد ہوتا ہے : اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- ترجَمۂ کنزالایمان : ’’مجھ سے دعا کرو میں قَبول کروں گا۔‘‘اِس کے باوُجُود بارہا دُعا کی قَبولیَّت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے ، تو معلوم ہوا کہ ذکر کے ذَرِیعے شیطان کو بھگانے اور دُعائیں قَبول ہونے میں کچھ شرائط بھی ہیں ، جیسا کہ دواؤں کا مُعامَلہ ہے کہ پرہیزی نہ کرے تو دو ا کام نہیں دکھاتی مَثَلاً کسی کو ’’ شُوگر‘‘ کا مَرَض ہو جائے ، پھر بھی مٹھائیاں کھائے چلا جائے تو دوا کیا کرے گی! لہٰذا ذِکرسے وسوسوں سے نَجات پانے اور شیطان کو بھگانے کیلئے گُناہوں سے پرہیزی ضَروری ہے اگر تقویٰ نہ اپنایا جائے تو ذِکرنُما دوا کا وسوسوں کے مَرَض پر کارآمد ہونا دشوار ہے !حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں : شیطان بھوکے کتّے کی مِثل ہے جو تمہارے قریب آتا ہے اگر تمہارے اور اس کے درمیان روٹی یا گوشت نہ ہو تو دھتکارنے سے ہی چلا جاتا ہے یعنی محض آواز ہی سے اسے بھگایا جاسکتا ہے اور اگر تمہارے سامنے گوشت ہو اور وہ بھوکا بھی ہو تو وہ گوشت پر جھپٹتا ہے اورمَحض زَبانی دُھتکار سے دُور نہیں ہوتا ۔ توجو دل شیطان کی غذا سے خالی ہو اُس دل سے ذِکر کے ذَریعے شیطان دُور ہو جاتا ہے ، جب دل پرشَہوت غالِب ہوتو دل کا اندونی حصّہ شیطان کے قابو میں ہو گا اور وہ اُس وقت کئے جانے والے ذِکرُ اللہ کو دل کے ارد گرد پھیلادے گا۔ لیکن جہاں تک مُتَّقی لوگوں کے دل کا تعلُّق ہے جو نفسانی خواہِشات اور بُری صِفات سے خالی ہوتے ہیں ان پر شیطان ، شہوتوں کی وجہ سے نہیں آتا بلکہ غفلت کی وجہ سے ذکر سے خالی ہونے کے باعِث آجاتا ہے جب وہ ذِکر کی طرف لوٹتے ہیں تو وہ دُور ہو جاتا ہے ۔(مُلَخَّص از اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۴۵) بَہَرحال جو رات دن گناہوں میں پڑا رہے ایسا شخص تو گویاشیطان کا دوست ہے اور شیطان اپنے دوستوں کے پاس سے اتنی آسانی سے بھاگے ایسا کہاں ہے ! پارہ 17سورۂ حج آیت نمبر 4میں ارشاد ہو تا ہے :
كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ(۴)
ترجَمۂ کنزالایمان : جس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضَرور اُسے گمراہ کردے گا اور اسے عذابِ دوزخ کی راہ بتائے گا ۔
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں : حقیقتِ ذکر دل میں اُسی وقت جاگزیں ہوتی ہے جب دل کو تقوے کے ذَرِیعے آباد کیا جائے نیز اس کو بُری صِفات سے پا ک کر دیا جائے ورنہ ذِکرمَحض آنے جانے والی بات ہو گی دل پر اس(یعنی ذِکر) کی سلطنت اور قبضہ نہیں ہو سکتا لہٰذا وہ شیطان کی حُکومت کو دُور نہیں کر سکتا۔مزید فرماتے ہیں : اگر تم شیطان سے بچنا چاہتے ہو تو پہلے تقوے کے ذَرِیعے پرہیزگاری اختیار کرو پھر ذِکر کی دوا استِعمال کرو یوں شیطان تم سے بھاگ جائے گا۔ ( اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۴۵، ۴۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع