دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Waswasay aur in ka Ilaj | وسوسے اور ان کا علاج

book_icon
وسوسے اور ان کا علاج

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے !یہ علمِ دین کی بَرَکت ہے ، اُن بُزرگ کو مسئلہ معلوم ہے کہ راستے کی کیچڑ اُس وَقت تک نَجِس قرار نہیں دی جاسکتی جب تک اُس کا ناپاک ہوناقَطْعی(یعنی یقینی) طور پر معلوم نہ ہو لہٰذا اُنہوں نے وَسوسے کا خوب علاج فرما لیا !دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ،  ’’ کپڑے پاک کرنے کا طریقہ‘‘میں ہے : راستے کی کیچڑ (چاہے بارش کی ہو یا کوئی اور ) پاک ہے جب تک اس کا نَجِسہونا معلوم نہ ہو، تو اگر پاؤں یا کپڑے میں لگی اور بے دھوئے نَماز پڑھ لی ہو گئی مگر دھو لینا بہتر ہے ۔ (بہارِ شریعت جلد اول ص ۳۹۴)

 چادر کا کون سا کونانا پاک تھا یہ یاد نہ ہوتو؟

            کبھی لباس پر نَجاست لگ جائے اور پتا نہ چلے کہ کہاں لگی تھی تو بھی آدمی وسوسوں کاشِکار ہوجاتا ہے ، ایسی صورت میں بھی شریعتِ مُطَہَّرہ نے ہمیں بَہُت آسانی دی ہے ۔ چُنانچِہ فتاوٰی رضویہ شریف میں ہے کہ چادر کا ایک گوشہ (یعنی کونا)یقیناً ناپاک تھا اور تَعْیِین یاد نہ رہے ( یعنی یہ یاد نہ ہو کہ کون ساکونا ناپاک تھا)   تو کوئی سا کونا دھوئے ، پاکی کا حکم دیں گے ۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج۴ص ۵۱۱

بچّہ پانی میں ہاتھ ڈال دے تو؟

            بعض اوقات بچّہ پانی میں ہاتھ ڈال دیتا ہے ، تو آدمی شک میں پڑ جاتا ہے کہ پانی پاک رہا یا ناپاک ہو گیا! اس مُعامَلے میں بھی شک میں پڑنے کی ضَرورت نہیں کیونکہ فُقَہائے کرام (رَحِمَہُمُ اللہ  السّلام )حُکم دیتے ہیں  : ’’ جس پانی میں بچّہ ہاتھ یاپاؤں ڈال دے ، پاک ہے جب تک نَجاست کی تحقیق نہ ہو۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج۴ ص۴۸۶

طہارت کے بارے میں شیطان اکثر

دلاتا ہے شک، ہو کرم یا الہٰی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 طَلَاق کے بارے میں وسوسے

          بعض اوقات انسان کو شیطان وَسوسہ ڈالتا ہے کہ یاد کر تیرے منہ سے اپنی بیوی کے لئے طَلَاق کے الفاظ نکل گئے تھے ! ایسی صورت میں جب کہ دل مطمئن ہے کہ طَلَاق نہیں دی، صِرف وَسوسہ ہے تو شیطان کو کہہ دیجئے تو جُھوٹا ہے میں نے طلاق نہیں دی ۔ اِس ضِمن میں میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنایک حکایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : امام ابو حازِم  اَجِلَّہ اَئِمّۂ تابِعین سے ہیں اُن کے پاس ایک شخص آ کر شاکی ہوا(یعنی شکایت کی) کہ شیطان مجھے وسوسے میں ڈالتا ہے اور سب سے زیادہ سخت مجھ پر یہ گزرتا ہے کہ آکر کہتا ہے تُو نے اپنی عورت کوطَلاَق دے دی۔ امام نے فوراً فرمایا  : کیا تو نے میرے پاس آکر میرے سامنے اپنی عورت کو طلاق نہ دی ؟وہ گھبرا کر بولا :  خدا کی قسم! میں نے کبھی آپ کے پاس اُسے طلاق نہ دی ۔فرمایا  :  جس طرح میرے آگے قسم کھائی، شیطان سے کیوں نہیں قسم کھا کر کہتا کہ وہ تیرا پیچھا چھوڑے ۔(یعنی جب اتنا اعتماد ہے کہ میرے سامنے قسم کھا سکتا ہے تواِسی اعتماد کے  ساتھ شیطان کو بھی قسم کھا کر کہدے کہ َاو مردود! دَفع ہو، خدا کی قسم! میں نے اپنی عورت کوطَلَاق نہیں دی)(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج اص ۷۸۵

پریشانیاں وسوسوں کی خدایا

تو کر دور بہرِ رضا یا الٰہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 کوئی کھِلائے تو تحقیق  مت کیجئے

            بعض اوقات کھانے کی دعوت کے موقع پر بھی انسان وَسوسے میں پڑ جاتا ہے کہ نہ جانے اِس کا کھانا حلال مال کا ہے یا حرام کا؟ اِس بارے میں حدیثِ پاک میں محبوبِ ربُّ العِباد   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کاارشادِ گرامی ہے :  جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے یہاں جائے اور وہ اسے اپنے کھانے میں سے کِھلائے تو کھالے اور اس کے بارے میں سُوال نہ کرے اور اگر وہ اپنے مشروب (پینے کی چیز)سے پلائے تو پی لے اوراُس کے بارے میں کچھ نہ پوچھے ۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۵ ص۶۷ حدیث۵۸۰۱)

کھانے کے بارے میں تحقیق سے گناہوں کا دروازہ کھل سکتا ہے

          سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ کتنی آسانی ہے ۔ کاش! ہمیں دینی معلومات ہوتیں کہ عِلم دین بھی ’’وسوسوں ‘‘کی جَڑ کاٹنے کا ذریعہ (ذَری ۔عَہ)ہے ۔ افسوس !ہم دین سے ناواقِفِیَّت کی بِنا پر بھی اکثر شیطان کے وسوسوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاوٰی رضویہ جلد 4 صَفْحَہ 528تا529پرفرماتے ہیں  : حُجَّۃُ الْاِسلام ، حکیمُ الْاُمّہ، کاشِفُ الْغُمَّہ امام ابو حامد محمدبن محمدبن محمد غزالی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِحیاء العلوم شریف میں فرمایا :  میں کہتا ہوں ( جس کو دعوت دی گئی) اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس ( داعی) سے سُوال کرے بلکہ وہ تقویٰ اختیار کرنا چاہتا ہے تو نرمی کے ساتھ چھوڑ دے اور اگر (دعوت  میں ) جانا ضَروری ہے تو پوچھے بِغیر کھائے کیونکہ سُوال کرنے میں اِیذا رسانی ، پردہ دری اور وحشت پیدا کرنا ہے اور یہ بلا شُبہ حرام ہے ۔( امام غزالی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں  : )اورکتنے ہی جاہل زاہد ہیں جو تفتیش کے ذَرِیعے دلوں میں وحشت پیدا کرتے ہیں اور نہایت سخت اور ایذا رساں کلام استعمال کرتے ہیں درحقیقت شیطان ان کی نظروں میں اسے اچّھا قرار دیتا ہے تا کہ وہ حلال خور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن