30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میرا چہرہ دیکھ کر میری حالت سمجھ گئے ۔ فرمایا، اے ابو ہریرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) ! میں نے عرض کی ، لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )فرمایا ، میرے ساتھ آجاؤ ۔ میں پیچھے پیچھے چل دیا، جب شَہَنشاہِ بَحْرو بَر ، مدینے کے تاجور ، ساقیٔ حوضِ کوثر ، حبیبِ داوَرعَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے مبارک گھر پر جلوہ گر ہوئے تو اجازت لیکر میں بھی اندر داخِل ہو گیا ۔ سرورِ کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک پیالے میں دودھ دیکھا تو فرمایا، ’’یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ اَہْلِ خانہ نے عرض کی ، فُلاں صَحابی یا صَحابیہ نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیلئے ہَدِیَّۃً بھیجا ہے ۔ فرمایا، ابو ہریرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )! میں نے عرض کی ، لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) فرمایا، جاکر اَہْلِ صُفّہ کو بُلا لاؤ ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، کہ اہلِ صُفّہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اسلام کے مِہمان ہیں ، نہ اُن کو گھر بار سے رغبت ہے نہ مال و دولت سے اور نہ وہ کسی شخص کا سہارا لیتے ہیں ۔ جب مَحبوبِ ربِّ ذُوالْجَلالعَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس صَدَقہ کا مال آتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کی طرف بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہیں لیتے تھے ۔ اور جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس کوئی ھَدِیَّہ آتا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے پاس بھیجتے اس میں سے خود بھی استعمال کرتے اور ان کو بھی شریک فرماتے ۔ مجھے یہ بات گِراں سی گزری اور دل میں خیال آیا، اَہْلِ صُفّہ (علیہم الرضوان) کا اِس دُودھ سے کیا بنے گا، میں اس کا زیادہ مستحق تھا کہ اس دودھ سے چند گھونٹ پیتا اور کچھ قوّت حاصل کرتا ۔ جب اصحابِ صُفّہ (علیہم الرضوان) آجائیں گے تو سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مجھے ہی ارشاد فرمائیں گے ، کہ ان کو دودھ پیش کرو ۔ اِس صورت میں بَہُت مشکِل ہے کہ دودھ کے چند گُھونٹ مجھے میسَّر ہوں ۔ لیکن اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِطاعت کے بغیر چارہ نہ تھا ۔ میں اصحابِ صُفّہ (علیھم الرضوان) کے پاس گیا اور اُن کو بُلایا ۔ وہ آئے ، انہوں نے شہنشاہِ عرب ، محبوب رب عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اجازت طلب کی ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اجازت عطا فرمائی اور وہ گھر میں حاضر ہو کر بیٹھ گئے ۔ میٹھے میٹھے آقا ، مدینے والے مصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’ابو ہریرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )!‘‘ میں نے عرض کی ، لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّو صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) فرمایا، ’’ پیالہ پکڑو اور ان کو دودھ پِلاؤ ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں میں نے پیالہ پکڑا ۔ میں وہ پیالہ ایک شخص کو دیتا وہ سَیر ہو کر دودھ پیتا اور پھر پیالہ مجھے لوٹا دیتا ۔ حتّٰی کہ میں پلاتا پلاتا آقائے مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک پہنچا اور تمام لوگ سَیر ہو چکے تھے ۔ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پیالہ لے کر اپنے دستِ اقدس پر رکھا ۔ پھر میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا، اور فرمایا ، ’’ابو ہریرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )! میں نے عرض کی ، لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) فرمایا، اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں ۔ ‘‘ عرض کی، یا رسول اللہعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سچ فرمایا، فرمایا، ’’بیٹھو اور پیو‘‘ میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے لگا ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’پیو‘‘میں نے پیا ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسلسل فرماتے رہے ، ’’پیو!‘‘ حتّٰی کہ میں نے عرض کی ، نہیں ، قسم اُس ذات کی جس نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، اب مزید گنجائش نہیں ۔ فرمایا، ’’مجھے دکھاؤ ۔ ‘‘ میں نے پیالہ پیش کر دیا ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللّٰہ تعالیٰ کی حمد بیان کی، بسم اللّٰہ پڑھی اور باقی دودھ نوش فرمالیا ۔ ‘‘(فیضانِ سنّت صفحہ نمبر ۶۹۰ )
الحمد للّٰہعَزَّوَجَلَّ یہ سرکارِ مکّۂ مکرّمہ ، تاجدارِ مدینۂ منّورہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا عظیم مُعجِزہ ہے کہ تمام یعنی 70 اَہْلِ صُفّہ (علیہم الرضوان) مل کر بھی دودھ کا ایک پیالہ پورا نہ پی سکے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی اِیمان افروز واقِعہ کی جانِب اِشارہ کرتے ہوئے عرض گُزار ہیں ؎
کیوں جنابِ بُو ہُریرہ! تھا وہ کیسا جامِ شِیر
جس سے ستَّر صاحِبوں کا دُودھ سے مُنہ پِھر گیا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم(حدائقِ بخشش)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بھوک سے بے ہوشی
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، میں نے (بھوک کے سبب)اپنی یہ حالت بھی دیکھی کہ مدینے کے تاجور ، محبوبِ ربِّ اکبرعَزَّوَجَلوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مِنبرِ مُنَّور اور اُمُّ الْمُؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حجرۂ مُطہَّرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گر پڑتا ۔ کوئی آدَمی آتا اور میری گردن پر پاؤں رکھ دیتا ۔ وہ سمجھتا کہ مجھ پر جُنُون کی کیفیّت طاری ہے حالانکہ مجھے جُنُون وغیرہ کچھ نہ ہوتا یہ حالت بھوک کی وجہ سے ہوتی تھی ۔ ‘‘(فیضانِ سنّت صفحہ نمبر ۶۹۵ )
بخش دے میری ہر خطا یا ربّ!(جَلَّ جَلَالُہٗ) فاقہ مستوں کا واسطہ یا ربّ!(جَلَّ جَلَالُہٗ)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا عِلمی ذوق تھا کہ سب کچھ چھوڑ کر سرورِ کونین ، رَحْمتِ دارَیْن، راحتِ قلب بے چین، نانائے حَسَنَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما کے قدمَینِ شریفَین میں پڑے رہتے تھے ۔ فاقوں پر فاقے سہتے اور علم حاصل کرتے تھے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی کو یہ اعزاز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع