30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتے ، جب کہیں سرایا [1] ؎ بھیجنے کی ضرورت ہوتی یہ بے تامّل(تَ ۔ اَم ۔ مُل)یعنی بے چُون و چرا بِلا تاخیرحاضر ہو جاتے اور جب فارِغ ہوتے تو قرآنِ پاک حِفظ کرتے اور سُنّتِ نبوی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سیکھتے ۔ اِن کے پاس گھر تھا نہ دُنیوی سازو سامان اور نہ ہی کوئی کاروبار، اِن حضرات نے شادی کی اور نہ ہی اُن کا وہاں کوئی کُنبہ و قبیلہ تھا، غربت کاعالم یہ تھا کہ اِن میں سے 70 کے پاس سِتْر پو شی کے لیے پورا کپڑا بھی نہ تھا ۔ اِن کی تعداد میں موت، سفر یا تزوُج(تَ ۔ زَو ۔ وُج)یعنی شادی کے سبب کمی بیشی ہوتی رہتی تھی ۔ مدینہ منورہ میں آنے والے کا شہر میں کوئی جان پہچان والا نہ ہوتا تو وہ بھی اہلِ صُفّہ میں شامل ہو جایا کرتا ۔ (تفسیر نعیمی ج۳ص۱۳۷)
مشہوراصحابِ صُفّہ
مشاہیر(مَ ۔ شَا ۔ ہِیر)یعنیمشہوراصحابِ صُفّہ میں حضراتِ ابو ہُریرہ، بِلالِ حبشی، ابو ذر غِفاری، عمّار بن یاسِر، سلمان فارسی، صُہیب رومی، خباب بن الارت، حُذیفہ بن الیمان، ابُو سعید خُدری، بشیر بن الخصاصیہ، ابُو مویہہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م جیسے جلیل القدر صحابہ شامِل ہیں ۔ (سیرتِ رسولِ عربی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ص۹۷ ملخصاََ)
اصحابِ صُفّہ پرآقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نظرِ عنایت
اہلِ صُفّہ پر مدینے کے تاجور، شاہِ بحرو بَر، رسولِ انور، محبوبِ ربِّ اکبر عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بڑی نظرِ عنایت تھی ۔ ایک دفْعہ مالِ غنیمت میں کنیزیں آئیں تو خاتونِ جنّت سَیِّدَۃُ النِّساء ، فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور مولا مشکل کُشا، عَلِّیُ الْمُرْتَضٰیکرم اللہ تعالٰی وجہہُ الکریم خدمتِ اقدس میں حاضِر ہوئے اور ایک خادِمہ کے لیے درخواست کی ۔ ارشاد فرمایا : ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!یہ نہیں ہو سکتا کہ تُم کو خادِمہ دوں اور اہلِ صُفّہ بھوکے مریں ، اِن کے خرچ کے لئے میرے پاس کچھ نہیں میں اِن اسیرانِ جنگ (جنگی قیدیوں )کو بیچ کر اہلِ صُفّہ پر خرچ کروں گا ۔ ‘‘(سیرتِ رسولِ عربی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ص۹۸ملخصاََ)
اِن تارِکُ الدُّنیا، اصحابِ صُفّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م سے مکی آقا، مدنی داتا، ہاشمی مولا، غریبوں کے ملجاء و ماوٰی، سب کے حاجت روا و مشکل کُشاء، میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمایا کرتے : ’’میں بھی تُم میں سے ہوں اور آخرت میں تم میرے ساتھ ہو گے ۔ ‘‘(مراۃ شرح مشکوٰۃ ج ۷ ص ۳۵)
ایک بار مکّی سردار، مدنی تاجدار، محبوبِ ربِّ غفّار عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اصحابِ صُفّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م کے پاس تشریف لائے ، سخت فقیری اور بھوک کی شِدّت مُلاحِظہ فرما کر ارشاد فرمایا : ’’اے اصحابِ صُفّہ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م) جو تمہاری طرح صابِر ، شاکِر اور پرہیز گا ر ہو گا وہ بروزِ قِیامت میرا رفیق ہو گا ۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’اے لوگو!عنقریب وہ وقت آئے گا جب تمہارے سامنے دستر خوان پر غِذاؤں کے پیالوں کے پیالے رکھے جائیں گے ‘‘عرض کی یا حبیب اللہ عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُس دن ہم بڑی خیر میں ہوں گے ۔ فرمایا : ’’نہیں بلکہ آج بڑی خیر میں ہو ۔ ‘‘ (تفسیرِ نعیمی ج۳ ص۱۳۷)
سب سے زیادہ احادیثِ مبارکہ روایت کرنے والے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مَشاہِیر اصحابِ صُفّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وہ صحابی ہیں کہ جن کا اصْل نام عَبْدُ الرَّحْمٰن سخردوسی تمیمیتھا، بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ابو ہریرہ یعنی مُنّی سی بِلی والے کی کُنیت عطا ہوئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے زمانے کے سب سے بڑے حافظُ الحدیث تھے ۔ محدِّثین رحمہم اللّٰہُ المبین کا مُتَّفِقہ فیصلہ ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سب سے زیادہ احادیثِ مبارکہ(5364) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی مروی ہیں ۔ (تفہیم البخاری ج اوّل، ص ۸۸)
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کِن دُشوار گزار اورکٹھن حالات کا مُقابلہ کیا ، مُلاحظہ فرمائیے :
دودھ کا ایک پیالہ اور70 صحابہ
سیدی و مرشدی، عاشقِ رسولِ عربی ، محبِّ ہر سید و صحابی و ولی، مُبلغِ سُنّتِ مصطفوی ، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایۂ ناز تصنیف’’فیضانِ سُنّت‘‘صَفْحہ 690پر لکھتے ہیں ،
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، ’’اُس خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم جس کے سِوا کوئی معبود نہیں ، میں بھوک کی وجہ سے اپنا پیٹ زمین پر رکھتا اور بھوک کے سبب پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا ۔ ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے لوگ باہر جاتے تھے ۔ جانِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے پاس سے گزرے تو مجھے دیکھ کر مسکرائے اور
[1] ’’سرایا‘‘ جمع ہے ’’سریہ‘‘ کی،وہ جنگی لشکر جس میں حُضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بنفسِ نفیس شامل ہوئے اُسے’’ غزوہ‘‘اور جس میں لشکر روانہ فرمایامگر خود شامل نہ ہوئے،اُسے’’ سریہ‘‘ کہتے ہیں۔غَزَوات کی تعداد27اور سرایا 47ہیں۔(سیرتِ رسول عربی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،ضیاء القرآن کراچی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع