30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ لوگ جب ان اموال سے کفایت کیے جائیں جو (امت ِمسلمہ کے )مصالح (مُ ۔ صا ۔ لِح) یعنی بھلائیوں کے لئے مقرر ہے یا اوقاف کے مال سے فُقراء و علماء کو دیا جائے تو ان کے لئے مال کمانے میں مشغولیت کی نسبت یہ اُمُور افضل ہیں ، اسی لئے سرکار علیہ الصلوۃ و السلام کی طرف وحی بھیجی گئی کہ آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )اپنے ربّعزوجل کی حمْد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں اور آپ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی طرف یہ وحی نہیں بھیجی گئی کہ آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )تاجروں میں سے ہوجائیں ، کیونکہ آپ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) میں یہ چاروں باتیں جمع تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اُمُورکہ جو بیا ن سے باہر ہیں ، اسی لئے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) تجارت چھوڑ دیں ، جب آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )مسلمانوں کے اُمُور کے ولی بنے تھے کیونکہ یہ عمل اُمّت کے مسائل کے راستے میں رکاوٹ بنتا تھا اور آپ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) بیت المال سے ضرورت کے مطابق لیتے تھے اور آپ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) نے اسی کو بہتر سمجھا پھر جب آپ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کے وصال کا وقت قریب ہوا تو آپ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) نے یہ مال بیت المال کی طرف لوٹا نے کی وصیت فرمائی لیکن ابتداء میں اسے لینا بہتر سمجھا ۔ (احیاء العلوم جلد ۲ص۱۵۷ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دورِ حاضر میں دینِ اسلام کا نظام یعنی مسجد، مدرسہ، جامعہ اور نیکی کی دعوت وغیرہ کے حالات انتہائی نا گُفتہ بہ(نا قابلِ بیان) ہیں ۔ یقینا یہ نہیں ہو سکتا کہ ملّتِ اسلامیہ کا ہر فرد اپنا گھر بار چھوڑ کر دینِ اسلام کی تعلیمات و احکامات سیکھے اور اس کی نشرو اِشاعت کے لئے سفر کرے ، کیونکہ اِس طرح توتِجارت، زراعت اور صَنعت وغیرہ میں خلل واقِع ہو جائے گا، لیکن لا ریب (بِلاشُبہ)یہ تو ممکن ہے کہ ہر عَلاقہ و شہر سے کچھ نہ کچھ افراد حُصُولِ عِلمِ دین اوراِس کی ترویج کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں چنانچہ
پ ۱۱سُوْرَۃُ التَّوْبَۃ آیت۱۲۲ میں ارشاد ہوتا ہے :
وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةًؕ-فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠(۱۲۲)
ترجمۂ کنزُالایمان : اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ اِن کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سُنائیں اِس اُمید پر کہ وہ بچیں ۔
حضرتِ صدر الافاضل مولانا مُفتی سید حافظ محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللّٰہ الھادی اس آیت کے تحت’’ تفسیرِخزائنُ العرفان‘‘میں لکھتے ہیں ، حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے مروی ہے کہ قبائلِ عرب میں سے ہر ہر قبیلے سے جماعتیں سیدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حضور حاضر ہوتیں اور وہ(لوگ) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دِین کے مسائل سیکھتے اور تفقہ(تَ ۔ فَقْ ۔ قُہْ)یعنی علمِ دین حاصل کرتے اوراپنے لئے احکام دریافت کرتے اور اپنی قوم کے لیے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری کا حکم دیتے اور نماز، زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم کے لئے انہیں ان کی قوم پرمامور فرماتے ۔ جب وہ لوگ اپنی قوم پر پہنچتے تو اعلان کر دیتے کہ جو اسلام لائے وہ ہم میں سے ہے اور لوگوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف دِلاتے اور دین کی مخالفت سے ڈراتے یہاں تک کہ لوگ اپنے والدین کو چھوڑ دیتے اور رسول ِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہیں دین کے تمام ضروری عُلوم تعلیم فرما دیتے (خازن)یہ رسول ِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا معجزۂ عظیمہ ہے کہ بِالکل بے پڑھے لوگوں کو بہت تھوڑی دیر میں دِین کے احکام کا عالِم اور قوم کا ہادی بنا دیتے تھے ۔
اس آیت سے چند مسائل معلوم ہوئے مسئلہ علمِ دین حاصل کرنا فرض ہے ۔ جو چیزیں بندے پر فرض و واجب ہیں اور جو اُس کے لیے ممنوع و حرام ہیں اس کا سیکھنا فرضِ عین ہے ۔ اور اس سے زائد علم حاصل کرنافرضِ کفایہ ۔ حدیث شریف میں ہے علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ ‘‘
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آئیے !اُن خوش نصیب و سعادت مند صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے حالاتِ زندگی کی اِک جھلک مُلاحظہ فرمائیے کہ جنہوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رِضا و خوشنودی کے لئے اپنے شب و روز خِدمتِ دینِ اسلام کے لئے وقف کئے ہوئے تھے ۔
مَسْجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّرِیف عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں ایک صُفّہ(چبوترا) تھا، جہاں 400، 500 فُقرائِ مُہاجِرِین بیٹھا کرتے تھے ، اِس لیے ا نہیں اَصحابِ صُفّہ کہتے ہیں ۔ یہ حضراتِ قُدسِیّہ عالمِ مَاکان وَمَایَکُون(جو کُچھ ہوچُکا اور جو کُچھ ہونے والاہے اُسے جاننے والے )صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ ِ عالی میں حاضر رہتے ، جس کام کے لئے حکم ملتا اُس کی تعمیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع