دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Waqf e Madina | وقفِ مدینہ

book_icon
وقفِ مدینہ

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا دینِ اسلام کی اِشاعت و بقاء کے لئے کچھ نہ کچھ لوگوں کا دُنیوی مشاغل سے فارغ ہونا ضروری ہے ۔ اگر سب ہی تِجارت وغیرہ میں لگ جائیں تو دینِ اسلام کی خِدمت کا فریضہ کون ادا کرے گا؟

امامت و دینی خِدمت پر اُجرت جائز ہے

            پہلے کے دور میں بادشاہ و اُمراء ، عُلما، مُبلغین، صالحین، مُصنفین وغیرہ دین کی خدمت کرنے والوں کی معقول خِدمتیں کیا کرتے تھے تا کہ یہ حضراتِ حمیدہ صِفّات فکرِ مَعاش سے آزاد ہو کر صبح و شام مُدام ‘دینِ اسلام کی خدمت سر انجام دے سکیں  ۔ جب دور بدلا تو یہ خدمتیں بند ہوئیں اوریہ حضرات اپنے اہل و عِیال کے نان و نفقہ کی ادائیگی کے لئے طلبِ معاش میں مصروف ہوئے تو دینی مُعاملات میں حرج واقع ہونے لگالہٰذا عُلمائِ متاخّرین(مُ ۔ تَ ۔ اَخْ ۔ خِ ۔ رِین)یعنی بعد کے علماء نے اِمامت و دینی خِدمت پر اُجرت کو جائز قرار دیا ۔

        وسوسہ : علماء ، طلباء ، ومشائخ عِظام کو چاہئے کہ اما مِ اعظم ابوحنیفہ اور حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہما کی طرح خود کمائیں اور مُفْت دینی خدمت کریں ، نذر نذرانہ ، صدقہ ، خیرات کو ذریعہ مُعاش بنانے کے بجائے خود کسْب کریں جیساکہ ہمارے ان بزرگوں کی سیرتِ طیبہ سے ثابت ہے ۔

          علاج ِوسوسہ :   اِس وسوسہ کا جواب دیتے ہوئے مُفسرِشہیر حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان نعیمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں  : ’’ حضور غوث ِپاک وامام ِاعظم رضی اللہ عنہما کے سوا اور کتنے علما ء و مشائخ ایسے گز رے جنہوں نے کسب ِمعاش بھی کیا ہو اور تبلیغِ دین بھی، کوئی نہیں  ۔ امام ابویوسف رحمۃ اللّٰہ تعالٰی عیلہ نے ہارون الرشید بادشاہ سے قضا کی تنخواہ لی ، امام محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد نے مسلمانوں سے نذرانے قبول فرمائے ، سوا حضرت عثما ن غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے تما م خلفائے راشدین (حضرتِ ابو بکر و عمر و علی) علیہم الرضواننے خِلافت پر تنخواہ لی ، افسوس ہے کہ دنیوی بادشاہو ں کے معمولی نوکر شاہی خزانہ سے تنخوا ہیں لیں ، مگر شہنشاہ ِکونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے خُدّام ، علماء جو دین کو سنبھالے بیٹھے ہیں وہ ایک پائی کے مستحق نہ ہوں ، اسلا می بادشاہوں نے علماء کی بڑی خدمتیں کیں  ۔ علامہ نیشاپوری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی جو مدرسہ نِظامیہ بغداد کے مدرسِ اوّل تھے ، نظام الملک نے ان کی تنخواہ ایک لاکھ درہم ماہواری مقرر کی تھی  ۔ اس مدرسہ کے طالب ِعلم حضور غوثِ پاک ، امام غزالی ، شیخ سعدی شیرازی رضی اللہ تعالٰی عنہمہیں ۔ دیکھو مناقب ِغو ثِ اعظم(علیہ رحمۃ اللّٰہ الاکرم) اس مدرسہ کا نام مدرسہ نظامیہ اور اس کے مقرر کردہ درس کا نام درس نظامی ہے جو آج تک پڑھایا جاتا ہے  ۔ حضرت اورنگ زیب عالمگیر علیہ رحمۃ اللّٰہ القدیرنے جن علماء سے فتاوٰی عالمگیری لکھوایا انہیں 2لاکھ روپے اور 200 قرش سونا نذرانہ میں دیا ، ربّ تعالیٰ تو فرماتا ہے ایسے لوگوں کو دواور مسلمان کہتے ہیں کہ مت دو ، کس کی مانیں ربّ  عَزَّوَجَلَّ کی یا انکی؟ (تفسیر نعیمی ، ج۳ص۱۴۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ                        صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرتِ سَیِّدُناصِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یومیہ وظیفہ

            حضرت سَیِّدُناابنِ سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  حضرت سَیِّدُناعطا بن سائب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بیعتِ خِلافت کے دوسرے روز کچھ چادریں لے کر بازارجا رہے تھے ، حضرت سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دریافت کیا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کہاں تشریف لے جا رہے ہیں ، فرمایا بغرضِ تجارت بازار جا رہا ہوں  ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا کہ اب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  یہ کام چھوڑ دیجئے ، اب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لوگوں کے خلیفہ(امیر )ہو گئے ہیں  ۔ یہ سُن کر آپ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ) نے فرمایا کہ اگر میں یہ کام چھوڑ دُوں تو پھر میرے اہل و عِیال کہاں سے کھائیں گے ۔ حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا کہ آپ واپس چلئے ، اب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے واسطے یہ کام (حضرت سَیِّدُنا) ابوعُبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کریں گے ۔ پھر یہ دونوں حضرات( حضرت سَیِّدُنا) ابوعُبیدہ(بن الجراح)رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے پاس تشریف لائے اور ان سے حضرت سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ آپ حضرت سَیِّدُنا ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اوران کے اہل و عِیال کے واسطے ایک اوسط دَرَجے کے مُہاجِر کی خُوراک کا اندازہ کر کے روزانہ کی خُوراک اورموسمِ گرما و سرما کا لِباس مہیّا کیجئے لیکن اس طرح کہ جب پھٹ جائے تو واپس لے کر نیا اس کے عِوض دے دیا جائے ۔

            اُن حضرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُن کے لئے آدھی بکری کا گوشت، لِباس اور روٹی مقرر کر دی ۔  (تاریخ الخلفاء ص۲۱۴)

اللّٰہ عزوجلکی اُن پہ رحمت ہو اور اُن کے صدقہ ہماری مغفرت ہو ۔

ترکِ کسْب کس کیلئے افضل ہے ؟

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا امام محمد بن محمد غزالی  علیہ رحمۃ اللہ الوالی اِحیاء العلوم میں نقل فرماتے ہیں  ۔ ’’ترکِ کسْب 4 قسم کے آدمیوں کے لئے افضل ہے (۱)جو عبادتِ بَدَنیہ میں مصروف رہتا ہے (۲)وہ شخص جو اَحوال و مکاشفات کے علوم میں باطنی سیر اور قلبی عمل میں مشغول ہوتا ہے (۳)وہ عالم جو علم ِظاہر کی تربیت کرتا ہے ، جس کے ذریعے لوگوں کو اِن کے دین کے بارے میں نفع حاصل ہوتا ہے ، جیسے مفتی ، مفسر ، محدث وغیرہ (۴)وہ شخص جو مسلمانوں کے معاملات میں مصروف ہوتا ہے اور اس نے ان کے کاموں کی ذمہ داری اٹھائی ہے ، جیسے بادشاہ ، قاضی ، اور گواہ  ۔ ‘‘

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن