دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Waqf e Madina | وقفِ مدینہ

book_icon
وقفِ مدینہ

            حضرتِ سَیِّدَتُنَا حُنّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا لا وَلَد(بے اولاد) تھیں یہاں تک کہ انہیں بُڑھاپا آ گیا اور وہ اولاد سے مایوس ہو گئیں  ۔ ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچّے کو دانہ کِھلا رہی ہے  ۔ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دِل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اوردُعا کی، یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایہ چڑیا بچّے سے اپنا دِل بہلا رہی ہے ، تُومجھے بھی ایک فرزند عطا فرما جو میرے دِل بہلانے کا ذریعہ بنے ۔

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی یہ دُعابارگاہِ مولیٰ تعالیٰ میں مُسْتَجاب(مُسْ ۔ تَ ۔ جابْ) یعنی قبول ہوئی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حامِلہ ہو گئیں  ۔ حمل ٹھہرتے ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بارگاہِ ربُّ العزت جل جلالہٗ میں عرض کی، یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں مَنّت مان چکی ہوں کہ جو کُچھ میرے شِکم میں ہے وہ بیتُ المقدس کی خدمت کے لئے وقفہے ، میں اُس سے نہ خدمت لوں گی نہ گھر کا کام کاج ۔

          اُس زمانے میں اِس وقف کا رواج تھا ۔ لوگ اپنی اولاد کو بیتُ المقدس کے لئے وقف کر دیتے اور وہ بچّے وہِیں رہتے سہتے اور خدمت کرتے تھے ۔

        حضرتِ سَیِّدَتُنَا حُنّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا طلبِ اولاد کی دُعا کی قبولیت اور اپنی مَنّت پر بے حد خوش تھیں اور ربّ عَزَّوَجَلَّ سے بیٹے کی طلبگار و اُمید وار تھیں مگر خِلافِ اُمیدحضرتِ سیدنا عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(والدِ مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما) کی وفات کے بعد جب اِن کے ہاں بیٹی پیداہوئی تو اُنہیں افسوس ہو ا کہ اب میں اپنی مَنّت کِس طرح پوری کروں گی کہ لڑکیوں کو بیتُ المقدس کی خِدمت کی اجازت نہیں اورلڑکی اپنی کمزور طبیعت کی وجہ سے خِدمت کے بہت سے کام سَر اَنجام نہیں دے سکتی  ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا، تُم نے جِس لڑکے کے حُصُول کی دُعا کی تھی وہ اس مرتبے کا نہیں جِس پائے کی میری عطا کی ہوئی لڑکی ہے ۔

مریم کا مطلب

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتِ سَیِّدَتُنَا حُنّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ہاں پیدا ہونے والی بچی حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ روح اللہ علیٰ  نبینا وعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی والدۂ ماجدہ حضرتِ سَیِّدَتُنَامریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا تھیں ، مریم کا مطلب ’’عابدہ ‘‘ہے ۔ حضرتِ سَیِّدَتُنَا حُنّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے یہ نام اِس لئے رکھا کہ یہ بیتُ المقدس میں رہ کر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عِبادت کریں اور یوں اُن کی مَنّت پوری ہو ۔  

حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی کفالت

            حضرتِ سَیِّدَتُنَا حُنّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا چونکہ اپنی اولاد کے لئے خدمتِ بیتُ المقدس کی نیّت کر چُکی تھیں اِس لئے اُنہوں نے حضرتِ سَیِّدَتُنَا مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کوپیدا ہوتے ہی ایک کپڑے میں لپیٹا اور بیتُ المقدس لے گئیں  ۔ جہاں 4000خدّام رہتے تھے اور اُن کے سردار 70یا27تھے ، جن کے امیر اللّٰہ  تبارک وتعالیٰ کے نبی حضرتِ سَیِّدُنا زَکَرِیّا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰو ۃُ وَالسَّلاَم تھے  ۔ بیتُ المقدس کا ہر سرداریہی چاہتا تھا کہ اُسے حضرتِ سَیِّدَتُنَامریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو حاصل کرنے اوراِن کی خدمت کا شَرف حاصل ہو جائے ۔  حضرتِ سَیِّدُنا زَکَرِیّا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَم نے فرمایا : میں ان کا زیادہ مستحق ہوں کیونکہ ان کی خالہ میرے نکاح میں ہیں  ۔ بہر حال بذریعہ قُرعہ اندازی آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَم حضرتِ سَیِّدَتُنَامریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے کفیل مقرر ہوئے ۔  (تفسیرِ نعیمی ج۳ ص۴۰۰ملخصاََ)قُراٰنِ مجید ، فُرقانِ حمید میں اِس واقعے کا ذِکر پ۳ سُورۃُ اٰلِ عِمْران آیت۳۵، ۳۶میں ہے :

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْۚ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۵) فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْؕ-وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰىۚ-وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(۳۶)

(پ : ۳، آل عمران :  ۳۵، ۳۶)

ترجمۂ کنز الایمان : جب عمران کی بی بی نے عرض کی اے ربّ میرے میں تیرے لئے مَنّت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالِص تیری ہی خدمت میں رہے تَو تُو مجھ سے قبول کرلے بے شک تُو ہی ہے سُنتا جانتا ۔ پھر جب اُسے جنا بولی اے ربّ میرے یہ تو میں نے لڑکی جنی اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جَنی اور وہ لڑکا جو اِس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں اور میں نے اس کانام مریم رکھا اور میں اُسے اور اس کی اولادکو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے ۔   

کچھ لوگوں کا دین کے لئے وقف ہونا ضروری ہے

            مُفسرِ شہیر، حکیمُ الامّت حضرتِ علّامہ مولانا مُفتی احمد یا رخان علیہ رحمۃ المنّان ’’تفسیرِ نعیمی‘‘ میں ان آیات کے تحت فرماتے ہیں ، ’’کُچھ لوگوں کا ا پنے آپ کو دِین کے لئے وقف کر دینا ضروری ہے اگر سبھی لوگ دُنیا میں مشغول ہو جائیں تو دین کیسے قائم رہے گا؟کاش!مسلمان اس سے عِبرت پکڑیں اور اپنی بعض اولاد کو خدمتِ دین کے لئے بچپن ہی سے ان کی دینی تربیّت کر کے وقف کر دیں  ۔ یاد رکھئے !ہماری عِزّت دین سے ہے ۔ اگر ہم اپنی بقاء چاہتے ہیں تو ایسے لوگ زیادہ بنائیں ۔ (تفسیرِ نعیمی ج۳ ص ۳۹۳)

دینِ اسلام کی خِدمت کا فریضہ کون ادا کرے گا؟

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن