30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نگاہ ڈالتے ہوئے مکۂ مکرمہ سے مدینۂ منورہ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے ہجرت فرمائی ۔
مدینۂ منورہ پہنچنے پر بھی سکون سے نہ بیٹھنے دیا اور کفارِ بد اطوار کا غیظ و غضب اِس قدر بڑھا کہ یہ لوگ آقائے مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ساتھ اہلِ مدینہ کی جان کے بھی دشمن ہو گئے اِن کی طرف سے جنگیں مسلط کر دی گئیں اور یوں 27غَزَوات اور 47سرایا کا سلسلہ ہوا ۔
وہ دینِ حق کے واسِطے طائف میں زخم کھائیں
افسوس ہم پھنسے رہیں بس کاروبار میں
سرکار سنّتوں کا مُبلِّغ بنائیے
کرتا رہوں بیان سَدا اَشْکبار میں
تبلیغِ دین کیلئے دَردَر پھروں اے کاش!
طالِب ہوں ایسے وَلْوَلے کاکِردِگار میں
(مغیلانِ مدینہ ازامیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی قربانیاں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی محبوبِ ربُّ الانام عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مدنی پیغام سارے عالم میں پہنچانے کے لئے تن، من، دھَن قربان کئے چنانچہ
10سِنِ ہجری حجۃُ الوداع کے موقع پر کم و بیش 1 لاکھ 24ہزار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میدانِ عرفات میں جمْع تھے ، محسنِ انسانیت ، تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نبوت، محبوب ِ ربُّ العزت عزوجل وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جوجامِع اورجلیلُ القدْر خُطبہ اِرشاد فرمایا، اُس میں مختلف قسم کے حُقُوق اور فرائض کا تذکرہ فرمایااور بار بار اِس بات کی تائید لی کہ کیا میں نے تم کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے احکامات پہنچا دئیے ہیں ، پھراِرشاد فرمایا جو حاضر ہیں اِن پر لازم ہے کہ جو یہاں موجود نہیں اُن تک میرے یہ پیغامات پہنچا دیں ، یہ بھی فرمایا اللّٰہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم فرمائے ، جس نے میری بات کو سُنا اور دوسروں تک پہنچایا، بسا اوقات وہ آدمی جو فِقہ کے کسی مسئلے کا جاننے والا ہے وہ خود فَقیہ نہیں ہوتا اور بسا اوقات حاملِ فِقہ کسی ایسے شخص کو بات پہنچاتا ہے جو اِس سے زیادہ فَقیہ ہوتا ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حجۃُ الوداع کے موقع پر کم و بیش 1لاکھ 24ہزار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تھے اور اِس وقت مدینۂ منورہ زادھا اللّٰہ شرفاً و تعظیماً کے مشہور قبرِستان جنّت البقیع میں ایک رِوایت کے مطابق تقریباًصرف10ہزار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آرام فرما ہیں ۔ ہر صحابی کو مدینۂ منورہ زادھا اللّٰہ شرفاً و تعظیماً سے پیار تھا مگر مدینے والے کا مدنی پیغام ساری دُنیا میں عام کرنے کے لئے یہ حضراتِ قُدسیہ ساری دُنیا میں پھیل گئے ۔
مدینے کا کچھ کام کرنا ہے سَیِّدؔ
مدینے سے اس لئے جا رہا ہوں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اولیاء رحمھم اللّٰہ تعالٰی کی قربانیاں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام کی رُشد و ہدایت سے معمور روشن تعلیمات سے سارے عالم کو منور کرنے کے لئے اولیائے عظام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی خوب خوب قربانیاں دیں ۔ اللّٰہ اکبر!ولیوں کے سردار، ہمارے غوثِ اعظم دستگیر، روشن ضمیر، پیرانِ پیر شیخ ابو محمد سید عبد القادر جیلانی الحسنی والحسینی ، شہبازِ لا مکانی، قندیلِ نورانی غوثِ صمدانی قُدِّسَ سِرّہ الرَّبَّانِی نے صرف17سال کی عمر میں اپنی ضعیفہ و بیوہ ماں سے اجازت لے کر جیلان شریف سے بغدادِمُعلّٰی کا سفر اختیار فرمایا ۔ دورِ طالبِ علمی میں بھوک، فاقے اور گوشہ نشینی کی آزمائشوں پر صبر و اِستقامت کے ساتھ قائم رہ کر عظیم مقام پایا اور ساری زندگی دینِ اسلام کی اِشاعت اور نیکی کی دعوت کے لئے وقف فرمائی ۔ [1] ؎
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
[1] سرکارِ غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی راہِ خدا عزوجل میں رِیاضات و مُجاہدات کے بارے میں مفید معلومات حاصل کرنے کیلئے شیخِ طریقت ،امیرِ اہلِسنت دامت برکاتہم العالیہ کا رسالہ ’’سانپ نُما جِن ‘‘ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ہدیۃً حاصل کر کے مطالعہ فرمائیے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع