30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَنْہُ )میری قبر کی زیارت کرنے آئیں گے ۔ ‘‘(مراٰۃ شرح مشکوٰۃج۷ ص۵۵ ملخّصاََ )
اور کوئی غیب کیا تُم سے نِہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
(حدائقِ بخشش)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سَیِّدُنا معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے وہ کتنی جاں سوز گھڑیاں ہو ں گی کہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سُلطانِ زمن، نانائے حُسین وحَسن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما کے حکم پر راہِ خدا عَزَّوَجَلَّمیں مُلکِ یمن کا سفر کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ اِس سعادت کو پانے کے لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کتنی بڑی قربانی دی کہ اپنا گھر بار تو چھوڑا ہی ساتھ ہی ساتھ دیارِ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یعنی مدینہ اور کائنات کی سب سے اچھی صحبت یعنی صحبتِ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بھی قُربانی دی اور روتے ہوئے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے مُسافر بنے ۔
پئے نیکی کی دعوت تو جہاں رکھے مگر اے کاش!
میں خوابوں میں پہنچتا ہی رہوں اکثر مدینے میں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کی قربانیاں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انبیائِ کرام و صحابہ و اولیاء عظام عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام و رضی اللہ عنہم نے دینِ اسلام کی خاطر فقط اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کی رِضا و خوشنودی کیلئے دشوار گزار سفر کئے ، تکلیفیں جھیلیں ، باطِل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، ہجرتیں کیں ، زِندگیاں وقف کیں اور اپنی مقدس جانوں کا نذرانہ پیش کیا چنانچہ :
حضرتِ سیدنا ابو عُبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !قیامت کے دن کن لوگوں کو سب سے زیادہ عذاب ہو گا؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، جس نے نبی کو قتل کیا یا نیکی کا حکم دینے والے اور بُرائی سے روکنے والے کو قتل کیا پھر رسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی : پ۳ سورۃ اٰل عمران آیت ۲۱
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّۙ-وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان : وہ جو اللّٰہ کی آیتوں سے منکِر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درد ناک عذاب کی ۔
پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا اے ابو عُبیدہ! (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )
بنی اسرائیل نے صبح کے اوّل وقت میں ۴۳ نبیوں کوشہید کر دیا، بنی اسرائیل کے ۱۱۲ عبادت گزار علماء کھڑے ہوئے انہوں نے ان کو نیکی کا حکم دیا اور بُرائی سے روکا تو بنی اسرائیل نے اس دن کے آخری حصہ میں ان سب کو بھی شہید کر دیا ۔ (جامع البیان ج ۳ ص ۱۴۵ )
ہجرت سنتِ انبیاء (عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام ) ہے
اللّٰہ ربُّ السمٰوات والارض اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے پ ۵ ، سورۃ النسآء۱۰۰ :
وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةًؕ-وَ مَنْ یَّخْرُ جْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠(۱۰۰) ع
ترجمۂ کنز الایمان :’’اور جو اللّٰہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر نکلے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور گنجائش پائے گا اور جو اپنے گھر سے نکلا اللّٰہ و رسول کی طرف ہجرت کرتا پھر اُسے موت نے آلیا تو اس کا ثواب اللّٰہ کے ذمہ پر ہوگیا اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے ‘‘ ۔
مفسرِ قرآن ، خلیفۂ اعلیٰ حضرت صدر الافاضل مفتی حافظ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی اس آیتِ کریمہ کا شانِ نزول تفسیر ’’خزائن العرفان‘‘ میں یوں فرماتے ہیں : اِس سے پہلی آیت جب نازل ہوئی توحضرتِ سیدنا جندع بن ضمیرہ لیسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کو سُنا یہ بہت بوڑھے شخص تھے ، کہنے لگے کہ میں مستثنیٰ لوگوں میں تو ہوں نہیں کیونکہ میرے پاس اتنا مال ہے کہ جس سے میں مدینہ طیبہ ہجرت کر کے پہنچ سکتا ہوں ، خدا (عزوجل)کی قسم مکہ مکرمہ میں اب ایک رات نہ ٹھہروں گا مجھے لے چلو چنانچہ اِن کو چارپائی پر لے کے چلے ’’مقام تَنْعِیم‘‘ میں آکراِن کا اِنتقال ہو گیا آخر وقت انہوں نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا یاربّ(عزوجل) یہ تیرا اور یہ تیرے رسول(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کا میں اِس پر بیعت کرتا ہوں جس پر تیرے رسول (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) نے بیعت کی یہ خبر پاکر صحابہ کرام(علیہم الرضوان)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع