30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بناتااور آخرِ کار کسی طرح بھی گھر جا نے میں کامیا ب ہو جاتا لیکن میرے مرشد ، شیخِ طریقت امیراہلسنت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خواہش تھی ’’میں چاہتا ہوں کہ ہر مد نی اسلامی بھائی(دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ سے جو اسلامی بھائی درسِ نظامی کا کورس مکمل کرلے اُسے ’’مدنی ‘‘کہا جاتاہے ) یکمشت 12 ماہ کاسفر ضروراختیار کرے ‘‘ اِتفاق سے جب دَرَجہ سادِسہ میں پہنچاتو قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی ۔ ہوا یوں کہ امیرِ اہلسنت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں دَرَجہ سادِسہ کی حاضری ہو ئی ، امیرِ اہلسنت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ترغیب پر ہاتھوں ہاتھ کئی اسلامی بھائیوں نے اپنے آپ کو 12 ماہ کے مدنی قافلے کیلئے پیش کردیا الحمدللّٰہ عزوجلمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل تھا ۔
اَوَّلاً باب الاسلام (سندھ) کے شہر’’ نواب شاہ‘‘ میں مدنی قافلہ کورس کرنے کی سعادت حاصل ہوئی پھر مختلف شہروں میں مدنی قافلوں میں سفر کا سلسلہ جاری رہا اِسی دوران ’’معلم مدنی قافلہ کورس‘‘ کرنے اور اس کے بعد مدنی قافلہ کورس اور تربیتی کورس کروانے کی بھی سعادت پانے میں بھی کامیابی نصیب ہوئی ۔ میں نے سُن رکھا تھا کہ مدنی قافلے میں سفر کے دوران اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں کی جانے والی دعائیں بہت جلد قبول ہوتی ہیں ۔ چونکہ میرے والد صاحب تقریباً11 سال سے ایک عارضے میں مبتلا تھے ، کئی بارطبیعت اتنی بگڑجاتی کہ سب گھر والے والد صاحب کی زندگی سے مایوس ہوجاتے ، مدنی قافلے کے دوران میں نے اللّٰہ ربُّ العزت عَزَّوَجَلّ کی رحمت پر قوی اُمید رکھتے ہوئے مدنی قافلے کی برکتوں سے والد صاحب کیلئے بکثرت دعا کرنا شروع کی ۔
ایک دن گھر فون کرکے والد صاحب کی طبیعت کے بارے میں اِستِفْسار کیا تو پتہ چلا کہ طبیعت پہلے سے بہتر ہورہی ہے ، سفر جاری تھا ، میرے والد صاحب جو کہ طبیعت کی خرابی کے باعث بعض اوقات بول وبراز بھی بستر ہی پر کردیا کرتے تھے ، طویل علالت نیز80 سال کے بڑھاپے کے باوجود مدنی قافلے میں مانگی جانے والی دعاؤں کے طفیل نہ صرف صحت یاب ہوگئے بلکہ خود کھیتوں میں جاکر کام بھی کرنے لگے ۔
مجھے خود بھی خارِش کا ایسا عارِضہ تھا کہ نہاتا ، پسینہ آتا یا کوئی ہلکی سی چَپَت لگاتا تو ایسی بے چینی ہوتی کہ بعض اوقات گھنٹوں بے چین رہتا، 6 سال تک علاج کرایا مگر اِفاقہ نہ ہوا ، الحمد للہ عَزَّوَجَلّ مدنی قافلہ میں مانگی گئی دعاؤں کے طفیل میرایہ عارِضہ بھی جاتارہا ۔ اب میرا یہ مدنی ذہن ہے کہ جب تک زندہ رہوں مدنی قافلوں میں سفر کرتا رہوں ، ’’ چل مدینہ‘‘ کی سعادت پاؤں اور بِالآخر زیرِ گنبدِ خضرٰی جلوۂ محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں موت اور جنّت البقیع میں مدفن پاؤں ۔
باپ بیمار ہو، سخت بیزار ہو پائے گا صحتیں قافلے میں چلو
اولیاء کا کرم، خوب لوٹیں گے ہم آؤ مل کر چلیں قافلے میں چلو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت معاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یمن روانگی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دینِ اِسلام کے مدنی پیغام کو ساری دنیا میں پھیلانے کیلئے ہمارے اکابرین نے کیا کیا قربانیاں دیں اسکی اِک حسین جھلک ملاحظہ فرمائیے :
چنانچہ حضرت سَیِّدُنامَعَاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جب محبوبِ ربّ، شاہِ عرب عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِنہیں یمن کی طرف بھیجا تو بنفسِ نفیس رُخصت کرنے کے لئے خود تشریف لائے اور اِس شان کے ساتھ نصیحت فرمانے لگے کہ میں (معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )سوار اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پیدل چل رہے تھے ‘‘ ۔ جب نصیحتیں کر کے فارغ ہوئے فرمایا : ’’اے مَعَاذ!(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )ممکن ہے کہ تم اِ س سال کے بعد مجھ سے نہ ملو ۔ شاید تم میری مسجد اور میری قبر پر گزرو ۔
حضرت سَیِّدُنامَعَاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہ سُن کر مدینے کے تاجور، شاہِ بحرو بر، رسولِ انور، محبوبِ ربِّ اکبر عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہِجر کی خبر سُن کر بہت روئے پھر رسولوں کے افسر، نبیوں کے سرور، محبوبِ داور عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ واپس ہوئے اور اپنا چہرۂ مبارک مدینۂ منوّرہ کی طرف کر کے فرمایا : ’’لوگوں میں مجھ سے قریب تر لوگ پرہیزگا ر ہیں چاہے وہ کہیں بھی ہوں ۔ ‘‘(مشکوٰۃالمصابیح کتاب الرقاق الفصل الثالث ص۴۴۵)
5غیبی خبریں
مُفَسّرِ شہیر، حکیمُ الامّت حضرتِ عَلّامہ مولانا مُفتی احمد یا رخان علیہ رحمۃ المنّان ’’مِراٰۃ شرحِ مشکوٰۃ‘‘میں اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’حضرت سَیِّدُنا مَعَاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یَمَن کا حاکِم بنا کربھیجا تو مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حسبِ معمول ’’ثنیۃ الوداع‘‘کے مقام تک تشریف لے گئے ۔ ‘‘فرماتے ہیں کہ : ’’حضرتِ سَیِّدُنا مَعَاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بحکمِ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سوار تھے ۔ سُنّت یہی ہے کہ جس کو وداع کرو اُس کو کچھ دُور پہنچانے کے لئے ساتھ پیدل جاؤ ۔ ‘‘فرماتے ہیں اِس فرمانِ عالیشان کہ : ’’تم میری قبر پر آؤ گے جو اِسی مسجد میں ہو گی‘‘ میں 5غیبی خبریں ہیں (1)عنقریب ہم وفات پا جائیں گے (2)ہماری وفات مدینۂ منوّرہ میں ہو گی(3)ہماری قبرِ انور مسجدِ نبوی شریف (علٰی صاحِبِھَا الصلوٰۃ والسلام)میں ہو گی(4)(حضرت سَیِّدُنا) معاذ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )میری زندگی میں نہیں بعد میں وفات پائیں گے (5)(حضرت سَیِّدُنا) معاذ (رَضِیَ اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع