30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حقوق تو مسلمان پر ہر مسلمان رکھتا ہے اور کسی مسلمان کو تہمت لگانی حرام قطعی خصوصاً معاذ اللہ اگر تہمت ِزنا ہو ، جس پر’’ قرآن عظیم‘‘ نے فرمایا :
{ یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ(۱۷)}([1])
اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اب ایسا نہ کی جیو (اب ایسا نہ کرنا) اگر ایمان رکھتے ہو ۔
تہمت ِزنا لگانے والے کو اَسّی کوڑے لگتے ہیں اور ہمیشہ کو اس کی گواہی مردود ہوتی ہے ([2]) اللہ تعالٰی نے اس کا نام فاسق رکھا ، یہ سب احکام ہر مسلمان کے معاملے میں ہیں اگرچہ اس سے کوئی رشتہ علاقہ اصلاً نہ ہو([3]) اور سوتیلی ماں تو ایک عظیم وخاص عَلاقہ([4]) اس کے باپ سے رکھتی ہے جس کے باعث اس کی تعظیم وحرمت اس پر بِلا شبہ لازم، اسی حرمت کے باعث رب العزت جل وعلا نے اسے حقیقی ماں کی مثل حرام ابدی کیا([5]) ۔ رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
((إِنَّ أَبَرَّ البِرِّ صِلَۃُ الْوَلَدِ أَھْلَ وُدِّ أَبِیْہِ))، رواہ مسلم عن ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا([6]) ۔
بیشک سب نکوکاریوں سے بڑھ کر نکو کاری یہ ہے کہ فرزند اپنے باپ کے دوستوں سے اچھا سلوک کرے (مسلم نے ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسے روایت کیا ۔ ت)
دوسری حدیث میں ہے ، رسو ل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ماں باپ کے ساتھ نکوکاری کے طریقوں میں یہ بھی شمار فرمایا :
((وَإِکْرَامُ صَدِیْقِھِمَا))، رواہ أبو داود وابن ماجہ وابن حبان في ’’صحاحھم‘‘ عن مالک بن ربیعۃ الساعدي رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([7]) ۔
ان کے دوست کی عزت کرنا(ابو داؤد، ابن ما جہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی ’’صحاح‘‘ میں مالک بن ربیعہ ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ۔ ت)
جب باپ کے دوستوں کی نسبت یہ احکام، تو اسکی منکوحہ، اس کی ناموس کی تعظیم وتکریم کیوں نہ احقّ وآکد ہوگی([8])خصوصاً جبکہ اس کی ناراضی میں باپ کی ناراضی ہو کہ باپ کی ناراضی اللہ تعالٰی کی ناراضی ہے ، واللہ تعالٰی أعلم ۔
اولاد پر حقِ پدر زیادہ ہے یا حقِ مادر؟([9]) بَیِّنُوْا تُؤْجَرُوْا (بیان فرماؤ، اجر پاؤ ۔ ت)
اولاد پر باپ کا حق نہایت عظیم ہے اور ماں کاحق اس سے اعظم([10]) ۔
قال اللہ تعالٰی : { وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًاؕ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًاؕ-وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًاؕ-}
اور ہم نے تاکید کی آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کی، اسے پیٹ میں رکھے رہی اس کی ماں تکلیف سے ، اور اسے جنا تکلیف سے ، اوراس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چُھٹنا تیس مہینے میں ہے ۔ ([11])
[1] پ۱۸، النور : ۱۷ ۔
[2] ناقابلِ قبول ہو جاتی ہے ۔
[3] کسی طرح کوئی رشتہ وتعلق نہ ہو ۔
[4] خاص تعلّق ۔
[5] سگی ماں کی طرح سوتیلی ماں کو بھی سوتیلے بیٹے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام کیا ۔
[6] ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب البرّ والصلۃ، باب فضل صلۃ أصدقاء الأب والأمّ ونحوھما، الحدیث : ۲۵۵۲، ص۱۳۸۲ ۔
[7] ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الأدب، باب في برّ الوالدین، الحدیث : ۵۱۴۲، ج۴، ص۴۳۴ ۔
[8] جب باپ کے دوستوں کے بارے میں یہ حکم ہے تو جو عورت اس کے باپ کے نکاح میں ہو اُس کی عزت وآبرو کی تعظیم وتکریم کیونکر بہُت ضروری اور لازمی نہ ہوگی! ۔
[9] باپ کا حق زیادہ ہے یا ماں کا حق؟ ۔
[10] عظیم تر ۔
[11] پ۲۶، الأحقاف : ۱۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع