30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پانچویں حدیث میں ہے رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ((ثَلاَثَۃٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ : اَلْعَاقُّ لِوَالِدَیْہِ وَالدَّیُّوْثُ وَالرَّجُلَۃُ مِنَ النِّسَاء))، رواہ النسائي والبزار بإسناد جیّد والحاکم عن ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا([1]) ۔
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے : ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور دیّوث([2]) اور وہ عورت کہ مردانی وضع بنائے ۔ (نسائی اور بزار نے اسناد جید کے ساتھ اور حاکم نے ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسے روایت کیا ۔ ت)
چھٹی حدیث میں ہے رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ((ثَلَاثَۃٌ لاَ یَقْبَلُ اللہ -عَزَّ وَجَلَّ- مِنْھُمْ صَرْفاً وَلاَ عَدْلاً : عَاقٌّ وَمَنَّانٌ وَمُکَذِّبٌ بِقَدَرٍ))، رواہ ابن أبي عاصم في ’’السنّۃ‘‘ بسند حسن عن أبي أمامۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([3]) ۔
تین شخصوں کا کوئی فرض ونفل اللہ تعالٰی قبول نہیں فرماتا : عاق اور صدقہ دے کر احسان جتانے والا اور ہر نیکی وبدی کو تقدیرِ الٰہی سے نہ ماننے والا، (ابن ابی عاصم نے ’’السنّہ‘‘ میں سند ِحسن کے ساتھ ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ۔ ت)
ساتویں حدیث میں رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ((کُلُّ الذُّنُوْبِ یُؤَخِّرُ اللہ مِنْھَا مَا شَاءَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ عُقُوْقَ الْوَالِدَیْنِ فَإِنَّ اللہ یُعَجِّلَہُ لِصَاحِبِہِ فِي الْحَیَاۃِ قَبْلَ الْمَمَاتِ)) رواہ الحاکم والأصبھاني والطبراني عن أبي بکرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([4]) ۔
سب گناہوں کی سزا اللہ تعالٰی چاہے تو قیامت کے لئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کہ اس کی سزا جیتے جی پہنچاتا ہے ۔ (حاکم واصبہانی اور طبرانی نے ابو بکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اسے روایت کیا ۔ ت)
آٹھویں حدیث میں ہے : ایک جوان نزع میں تھا اسے کلمہ تلقین کرتے تھے ([5]) نہ کہا جاتا تھا یہاں تک کہ حضور اقدس سیّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تشریف لے گئے اور فرمایا : کہہ : لاَ إِلہَ إِلاَّ اللہُ، عرض کی : نہیں کہا جاتا، معلوم ہوا کہ ماں ناراض ہے ، اسے راضی کیا تو کلمہ زبان سے نکلا ۔ رواہ الإمام أحمد والطبراني عن عبد اللہ بن أبي أوفی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([6])
(امام احمد اور طبرانی نے عبد اللہ بن ابی اوفی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اسے روایت کیا ۔ ت)
مگر ان امور سے وہ عاصی اور اُس کا فعل مخالف ِحکمِ خدا ہوا، اس کا منکر حکمِ خدا ہونا لازم نہیں آتا([7]) جب تک یہ نہ کہے کہ باپ کی اطاعت شرعاً ضروری نہیں یا معاذ اللہ باپ کی توہین وتذلیل جائز ہے جو مطلقاً بلا تاویل ایسا اعتقاد رکھتا ہو وہ بے شک منکرِ حکمِ الٰہی ہوگا اور اس پر صریح الزامِ کفر([8])، وَالْعِیَاذُ بِاللہِ تَعَالٰی، وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ وَعِلْمُہُ جَلَّ مَجْدُہُ أَتَمُّ وَأَحْکَمُ ۔
سوتی مادر([9])پر تہمت بد طرح طرح کی لگادی اس کے واسطے کیا حکم ہے ؟ اور سوتیلی مادر کا کچھ حق پسرِ علاَّتی پر ہے یا نہیں؟([10])
[1] ’’المستدرک‘‘، کتاب الإیمان، ثلاثۃ لا یدخلون الجنّۃ، الحدیث : ۲۵۲، ج۱، ص۲۵۲ ۔
[2] وہ نادان شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ اس کی بیوی کس کس غیر مرد سے ملتی ہے ۔
[3] ’’السنۃ‘‘ لابن أبي عاصم، باب : ما ذکر عن النبي علیہ السلام في المکذبین بقدر اللّٰہ ۔ ۔ ۔ إلخ، الحدیث : ۳۳۲، ص۷۳ ۔
[4] ’’المستدرک‘‘، کتاب البرّ والصلۃ، باب کلّ الذنوب یؤخّر اللّٰہ ماشاء منہا إلاّ عقوق الوالدین، الحدیث : ۷۳۴۵، ج۵، ص۲۱۷ ۔
[5] یعنی اسے کلمہ طیبہ یاد دلاتے تھے ۔
[6] ’’المسند‘‘، الحدیث : ۱۹۴۲۸، ج۷، ص۱۰۵، بتغیر، ’’الترغیب والترہیب‘‘، الحدیث : ۱۶، ج۳، ص۲۲۶، (بحوالہ’’طبرانی‘‘) ۔ ’’مجمع الزوائد‘‘، الحدیث : ۱۳۴۳۳، ج۸، ص۲۷۰، (بحوالہ’’طبرانی‘‘) ۔
[7] مگر ان کاموں (ماں باپ کی نافرمانی اور ان کو ناراض کرنے وغیرہ) سے گنہگار اور اس کا یہ کام اللہ ربّ العزت کے پاک ارشاد کے خلاف ہوا لیکن اس سے خدا تعالیٰ کے حکم کا انکار لازم نہیں آتا ۔
[8] جو یقینی طور پر بغیر کسی تاویل کے ایسا عقیدہ رکھتا ہو، وہ بے شک اللہ رب العزت کے حکم کا انکارکرنے والا ہوگا اور واضح طور پر کفر لازم آئے گا ۔
[9]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع