30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقال میں پڑگئے ، میں تمہارے پاس یہ واضح اور پاکیزہ شریعت لا یاہوں کہ اس میں نہ توشک و شبہے کی گنجائش ہے اور نہ کسی اور چیز کی ضرورت، اگر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام دنیا میں ہوتے توانہیں بھی میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا ۔ ‘‘
وخود یہود واحادیث آنہاچہ لائق التفات باشد اگرموسٰی ہم بدنیا بودے اورانیز جزپیروی من گنجایش نداشتہ صلی اﷲ تعالٰی علیک وسلم
تو خود یہود اور انکی باتیں کیسے لائقِ التفات ہوسکتی ہیں ۔
ومعلوم ست کہ احادیثے کہ ہمچو عمررا خوش آید رضی اﷲ تعالٰی عنہ زنہار مخالف ملت ومنافی شریعت نباشد با ایں ہمہ نہی نمودند وامت رابراستغنا بشرع مطہر ازہمہ اغیارش دلالت فرمودند فکیف کہ دامن کفار یونان گیرند وبحر صافی را پس پشت انداختہ در تیہ ضلالت بتلخی میرند لا یأتي ذلک إلاّ ممن سفہ نفسہ ۔
ظاہر ہے کہ جو باتیں عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجیسی شخصیت کو پسند آئی ہوں وہ ہر گز شریعت کے مخالف نہ ہوں گی اس کے باوجود حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے منع فرمایا اور بتادیا کہ شریعت ِمطہرہ کے ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ، تو یہ کس طرح جائز ہوگا کہ صاف و شفاف دریا (شریعتِ مقدسہ) کو پسِ پشت ڈال کر یونان کے کافروں کا دامن تھاما جائے اور گمراہی کے جنگل میں مصیبت کی موت مول لی جائے یہ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو حقیر وذلیل بنا دیا ہو ۔
بالجملہ ضرر فلسفہ وضلال متفلسفہ از شمس ازھر واز امس اظہر پس در تحریمش
الحاصل یہ فلسفے کا نقصان اور فلسفے کے دعویدار وں کی گمراہی سورج سے زیادہ روشن اورگزشتہ دن سے زیادہ ارتیاب نکند مگرمریض القلب ضعیف الایمان والعیاذ باللہ وعلیہ التکلان
ظاہر ہے لہٰذا اس کی حرمت میں صرف وہی شخص شک کرے گا جس کا دل بیمار اور ایمان کمزور ہو، اور اللہ کی پناہ اور اسی پر بھروسہ ہے ۔
بیا تا عنان بمطلب گردانیم متفلسف مذکور ایں حرام علم راذریعۂ تفاخر ووسیلۂ تفضیل وباعث تقدیم درمناجات رب جلیل دانست پیداست کہ کدام تحسین بالاتر ازیں باشد وایں معنی العیاذ باﷲپہلو بکفرزند چنانکہ علماء درفروع کثیرہ تنصیص کردہ اند وامام عبدالرشید بخاری تلمیذ امام اجل ظہیری وامام فقیہ النفس قاضی خان رحمہم اﷲ تعالٰی در’’خلاصہ‘‘ فرماید : من قال : أحسنت لما ھو قبیح شرعاً أو جودت کفر([1]) ۔
آئیے تاکہ اصل مطلب کی طرف توجہ دیں کہ مذکور ہ بالا شخص، فلسفے کا دعویدار اُس چیز پر فخر کرتا ہے کہ بناء بریں اپنے آپ کو فضیلت والا اور امامت کے زیادہ لائق سمجھتا ہے جسے علماء نے حرام کہا ہے واضح ہے کہ اس سے بڑھ کر اس فعل حرام کی تعریف وتحسین کیا ہو سکتی ہے ! (اللہ کی پناہ) اس میں تو ایک پہلو کفر کا بھی نکلتا ہے چنانچہ علماء نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے ، امام اجل ظہیری اور امام فقیہ النفس قاضی خان کے شاگرد امام عبد الرشید بخاری رَحِمَہُمُ اللہ تعالٰی ’’خلاصہ‘‘ میں فرماتے ہیں : (جس شخص نے شرعی قبیح کے مرتکب کو کہا کہ تونے اچھا کیا تو وہ کافر ہوگیا)
یارب مگرمتفلسفان برخویشتن نمی بخشایند کہ برفعل محرم بس ناکردہ زبان بتکبروتفاخر مے کشایند{كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴)}(پ۳۰، المطففین : ۱۴)، وَنَسْأَلُ اللہ الْعَافِیَۃَ ۔
اے رب! شاید یہ فلسفے کے دعویدار اپنے اوپر رحم نہیں کرتے کہ حرام فعل کی بناء پر فخر اور تکبر کرتے ہیں : کوئی نہیں بلکہ انکے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے ۔ (ترجمۂ’’کنز الایمان‘‘) اور ہم اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
بستم : آنکہ فضل تفلسف رابرفضل تفقہ ترجیح دادن کہ ادعائے اولویت بامامت رامنشا ومنزع ہموں تواند بودمتضمن تحقیر علم دین ست کما لایخفی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع