30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے ! اگر تم پر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ظاہر ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرتے توبے شک تم راہِ راست سے بھٹک جاتے اور بے شک اگر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام دنیا میں ہوتے اور میری نبوت کے ظہور کے زمانے کو پاتے تو میری پیروی کرتے ۔ ‘‘
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمود بخدائے کہ جان محمد بقبضۂ قدرت اوست اگرظاہر شود بہر شماموسٰی عَلَیْہِ السَّلَام وشما اتباع اوکنید ومرا بگزارید ہرآئینہ راہ راست گم کردہ باشید واگرموسٰی بدنیا بودے وزمانہ ظہورنبوتم دریافتی بدرستی کہ مرا پیروی کردے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
حالاچشم انصاف کشادنی ست توریت کہ کلام الٰہی ست وقرآن بہ تصدیقش نازل محض بوجوہ اختلاط تحریفات کارش بجائے رسیدکہ قرأتش چنداں موجب غضب سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شد ایں فلسفہ ملعونہ بکفر و ضلال مشحونہ کہ جہلی
اب انصاف کی آنکھ کھولنی چاہئے ’’تورات‘‘ کہ کلامِ الٰہی ہے اور ’’قرآن مجید‘‘ نے اس کی تصدیق کی ہے لیکن صرف اس بناء پر کہ اس میں تحریف ہو چکی ہے اس کا پڑھنا کس قدرسرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ناراضگی کا سبب بنا، یہ مردود فلسفہ جو کہ کفر و ضلالت سے بھرا ہوا اور جہالتوں کا مجموعہ ہے اور جسچنداست برہم نشستہ وراہ دین برخدامش بستہ ورِبقۂ یقین ازگلوئے شان گسستہ العزۃ ﷲ چہ جائے آں دارد کہ او را اجرعظیم پندارند وعمرہا نظربروے گمارند وتخم ودادش بدلہا کارند با ایں ہمہ سلامت روند غضب اشد رامستحق نشوندلا واللہ لا یکون ولوکرہ المبطلون
نے دین کے خادموں کے لئے دین کا راستہ بند کیا ہوا ہے اور فلسفیوں نے دین کی زنجیر اپنے گلے سے اتار پھینکی ہے ( عزت تو اللہ ہی کے لیے ہے ) وہ کب اس لائق ہے کہ اس کا بہت بڑا ثواب گمان کیا جائے اور عمریں اس پر صرف کردی جائیں اور اس کی محبت کو دل میں جگہ دی جائے اس کے باوجود محفوظ رہیں اور شدید غضب کے مستحق بھی نہ ہوں بخدا! اس طرح نہیں ہو سکتا اگرچہ جھوٹے اسے پسند نہ کریں ۔
باز احمد در’’مسند‘‘ وبیہقی در’’شعب الایمان‘‘ ازجابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ چناں آوردہ اند کہ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہباقدس بارگاہ عالم پناہ سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حاضر آمد وبعرض قدس رسانید کہ : إِنَّا نَسْمَعُ أَحَادِیثَ مِنْ یَہُوْدَ تُعْجِبُنَا، أَ فَتَرَی أَنْ نَکْتُبَ بَعْضَہَا؟ ما از یہود
نیزامام احمد نے ’’مسند‘‘ میں اور بیہقی نے ’’شعب الایمان‘‘ میں حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسرورِ دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ :
ہم یہودیوں سے کئی ایسی باتیں سُنتے ہیں جوہمیں اچھی لگتی ہیں کیا
حدیثہا می شنویم کہ مارا خوش می آید آیا بروانگی باشد کہ چیزے ازانہا بنویسیم سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلمفرمود : أَ مُتَہَوِّکُوْنَ أَنْتُمْ کَمَا تَہَوَّکَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی آیا متحیرید دردین اسلام وکمال وتمام واغنائے تام او کہ دراحادیث دیگراں طمع دارید چنانکہ یہود ونصارٰی دردین خود متحیر شدند وبرعلم الٰہی قناعت ناکردہ درایں وآں فتادند ودرقیل قال زدند لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَائَ نَقِیَّۃً، من این ملت وشریعت راسپید وروشن وصاف وپاکیزہ آوردہ ام کہ نہ ہیچ شبہہ را درو دخلی نہ باوے سوئے چیزے دگرحاجتی وَلَوْ کَانَ مُوسَی حَیّاً مَا وَسِعَہُ إِلاَّ اِتِّبَاعِيْ)) ([1])
ہمیں اجازت ہے کہ ہم ان میں سے کچھ باتیں لکھ لیا کریں ؟
نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’کیا تم دینِ اسلام کے مکمل اور کافی ہونے میں حیران وپریشان ہو کہ دوسروں کی باتوں کی طرف توجہ دیتے ہو جیسے کہ یہودی اور عیسائی اپنے مذہب میں متحیر ہو گئے اور اللہ عز وجل کے دیئے ہوئے پر اکتفاء نہ کر کے اِدھراُدھر مصروف ہو گئے ، اور قیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع