30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کف شرھم وقولہ ومعتقد لعقائدھم، ([1]) اھ ملتقطاً وفیہ طول کثیر ۔
وہ کلام کہ ’’ان کے شر کے دروازے کو بند کردے ‘‘ اور ’’وہ فلاسفہ کے عقائدکے قائل ہیں ‘‘ اس پردلالت کر رہا ہے اھ ملتقطاً، اور اس میں طویل بحث ہے ۔
فقیرمیگویم واللہ سبحانہ یغفر لي از اول دلیل برتحریم تفلسف وتقبیح حالش حدیثی ست کہ امام عبد الرحمان دارمی در’’سنن‘‘ خودش ازسیّدنا جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما روایت کردہ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ أَتَی رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنُسْخَۃٍ مِّنَ التَّوْرَاۃِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ! ہَذِہِ نُسْخَۃٌ مِّنَ التَّوْرَاۃِ فَسَکَتَ فَجَعَلَ یَقْرَأُ وَوَجْہُ رَسُولِ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَغَیَّرُ، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ ثَکِلَتْکَ الثَّوَاکِلُ مَا تَرَی مَا بِوَجْہِ رَسُوْلِ اللہِ
فقیر کہتا ہے (اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ میری مغفرت فرمائے ) : کہ فلسفے کے حرام ہونے اور اس کی برائی کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام ابو عبد الرحمان دارمی نے ’’سنن‘‘ میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کی ہے کہ : ’’یعنی حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لائے اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم یہ تورات کانسخہ ہے ۔ سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا، عمر فاروقصَلَّی اللہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَی وَجْہِ رَسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ غَضَبِ اللہ وَغَضَبِ رَسُولِہِ صَلَّی اللہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمََ رَضِیْنَا بِاللہِ رَبّاً وَّبِالْإِسْلَامِ دِیناً وَّبِمُحَمَّدٍ نَبِیّاً، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَوْ بَدَا لَکُمْ مُوْسَی فَاتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرَکْتُمُوْنِيْ لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَائِ السَّبِیْلِ وَلَوْ کَانَ حَیّاً وَأَدْرَکَ نُبُوَّتِيْ لَاتَّبَعَنِيْ)) ([2])
یعنی عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ پیش سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نسخہ ازتوریت آورد وعرضداشت کہ یارسول اﷲ ایں نسخہ ایست ازتوریت سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پاسخ نداد وسکوت فرمود عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ خواندن
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پڑھنا شروع کردیا، سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ مبارک شدتِ غضب کی و جہ سے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدل رہا تھا، اورحضرت عمر فاروق کو اس کی خبر نہ تھی کہ حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : اے عمر! تجھے رونے والی عورتیں روئیں تم نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ انور کی حالت نہیں دیکھ رہے ، تب حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضور کے چہرۂ انور کو دیکھا اور فوراً کہا : اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کے غضب سے خدا کی پناہ ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دینہونے پر اور محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کینبی ہونے پر راضی ہوئے (اس بات سے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور)گرفت وچہرہ مبارک سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ازحالی بحالی گردید بجہت شدت غضب وعمر ہنوز ازیں معنی آگاہی نداشت تا آنکہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ گفت اے عمر ترابگریند زنان گریہ کناں نمی بینی حالتیکہ در روئے مبارک سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پیداست آنگاہ عمرنظر بالاکرد وجانب چہرۂ اقدس دیدفوراً گفت بخداپناہ میبرم ازغضب خدا و رسول خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پسندیدیم خدائے راپروردگار واسلام رادین ومحمدرانبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وازیں کلمہا غضب سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرومی نشست پس سیدعالم
نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مجھے اس ذات کیقَسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کی جان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع