30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
أَکَلَ بِالْعِلْمِ طَمَسَ اللہ عَلَی وَجْھِہِ وَرَدَّہُ عَلَی عَقِبَیْہِ وَکَانَتِ النَّارُ أَوْلَی بِہِ)) ([1]) یعنی ہرکہ علم را ذریعۂ
ہیجدہم : یہ کہ یہ شخص چاہتا ہے کہ اپنے علم کو دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے ۔
فرمان مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں وارد ہے کہ : ’’یعنی جو شخص علم کو دنیا کمانے کا ذریعہ بناتا ہے اللہ تعالٰی اس کے چہرے کو بگاڑ دے گا اور اسے اسکی ایڑیوں پر واپس لوٹائے جلب مال نمایدحق عزوجل روئے اورامسخ فرماید واُو را برہردو پاشنہ اش، بازگرداند وآتش دوزخ باوسزاوارتر باشد أخرجہ الشیرازي في ’’الألقاب‘‘ عن أبي ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔
گااور دوزخ کی آگ اس کی زیادہ حقدارہے ۔ ‘‘(شیرازی نے ’’القاب‘‘ میں ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کی) ۔
ودر حدیث دیگر است کہ فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : ((مَنِ ازْدَادَ عِلْماً وَلَمْ یَزْدَدْ فِي الدُّنْیَا زُھْداً لَمْ یَزْدَدْ مِنَ اللہ إِلاَّ بُعْداً)) ([2]) ہرکہ در علم افزود ودر دنیا بے رغبتی نیفزود ازخدا نیفزود مگردوری أخرجہ الدیلمي عن علي رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ واحادیث دریں باب بسیارست ۔
اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’جس شخص نے علم زیادہ حاصل کیا لیکن دُنیاسے بے رغبتی زیادہ نہ ہوئی اسے اللہ تعالٰی سے دُوری کے سوا کچھ نہ ملا ۔ ‘‘(اسے دیلمی نے حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا) اور اس بارے میں بے شمار حدیثیں وارد ہیں ۔
نوزدھم : آنکہ حرفے چند از فلسفہ مزخرفہ آموختن واندک فضلہ ازکفار سفسطہ بگدیہ اندوختن پیش او گرامی
نوزدہم : وہ شخص جس کے نزدیک بناوٹی باتوں والا فلسفہ سیکھنا اور کافروں کی بیہودگی کے باقیما ندہ حصے کو بھیک مانگ کر جمع کرناکاریست بدیع و منیع وباعث فخر وشرف رفیع کہ بربنایش خود را ازاں سید فقیہ افضل واولٰی تربامامت می انگارد حالانکہ ایں علوم فلاسفہ اعنی طبیعیات والٰہیات آنہا کہ مملو ومشحون است ازضلالاتِ شنیعہ وبطالات قطیعہ تا آنکہ دروے انبارہا ست ازکفر وشرک وانکار ضروریات دین وخروارہا از مضادّت قرآن ومحادّت فرمان انبیاء ومرسلین صلوات اللہ وسلامہ علیہم أجمعین، وقد فصّلنا بعضھا عن قریب في رسالۃ لنا سمّیناھا : ’’مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید‘‘ أقمنا فیھا الطامۃ الکبری علی المتھورین من متفلسفي الزمان وباللہ التوفیق وعلیہ التکلان قطعاً ازعلوم محرمہ است ۔
بہت بڑا کام ہے اور فخر وناز کا باعث ہے جس کی بنا پر اپنے آپ کو اس سید فقیہ سے امامت کے زیادہ لائق سمجھتا ہے حالانکہ فلسفیوں کے یہ علوم یعنی طبیعیات اور الٰہیات جو بدترین گمراہیوں سے پُر ہیں حتی کہ ان میں کفر وشرک اورضروریاتِ دین کے انکار کے ڈھیرلگے ہوئے ہیں اور بہت سی باتیں ’’قرآن مجید‘‘ اور انبیاء و مرسلین کے ارشادات کے مخالف ہیں جیسا کہ ہم نے بعض باتوں کی تفصیل اپنے رسالے ’’مقامع الحدید علی خدّ المنطق الجدید‘‘ میں کی ہے ہم نے اس میں اس زمانے کے فلسفے کے دعویداروں پر قیامت قائم کردی ہے ، اور اللہ ہی کی توفیق اور اسی پر پختہ بھروسہ ہے ، ان علوم کا (بغیر تردید کے ) پڑھنا قطعاً حرام ہے ۔
في ’’الدر المختار‘‘ : اعلم أنّ تعلّم العلم یکون فرض عین [إلی أن قال] وحراماً وھو علم الفلسفۃ والشعبدۃ والتنجیم والرمل وعلوم الطباعین والسحر([3]) ۔
’’در مختار‘‘ میں ہے : بیشک علم کا پڑھنا فرض عین ہے ، (یہاں تک کہ انھوں نے فرمایا : ) اور کبھی علم کا پڑھنا حرام ہوتا ہے جیسے کہ علمِ فلسفہ، شعبدہ، نجوم، رمل، حکمتِ طبعیہ اور جادو ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع