30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لِلْمُؤْمِنِیْنَ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ)) ([1])، یعنی ازما نیست ہرکہ برخورد سالان شفقت نیارد ومرسال خوردان راحق نشناسد ونہ آنکہ مؤمناں راخیانت کند ومسلمان مسلمان نمی شود تا آنکہ ہمہ مومنین راہماں خواہدکہ ازبہرجان خود میخواہد أخرجہ الطبراني في ’’الکبیر‘‘ عن ضمیرۃ رضي اﷲ تعالی عنہ بإسناد حسن ۔
اور فرمایاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے : یعنی وہ ہم میں سے نہیں جو بچّوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا حق نہیں پہچانتا، اوروہ شخص جو مؤمنوں کے ساتھ خیانت کرتا ہے ، اور آدمی اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک دوسروں کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ اسے طبرانی نے ’’معجم کبیر‘‘ میں ضمیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ۔
وفرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : ((إِنَّ مِنْ إِجْلاَلِ اﷲِ تَعَالَی إِکْرَامَ ذِي الشَّیْبَۃِ الْمُسْلِمِ)) ([2])الحدیث، ازتعظیم خداست بزرگ داشتن مسلمان سپید موی أخرجہ أبوداود عن أبي موسی رضي اﷲ تعالی عنہ ۔
اورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اللہ تعالٰی کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ سفید بالوں والے مسلمان کی عزت کی جائے ۔ ‘‘ اسے ابو داؤد نے ابو موسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ۔
پانزدھم : آنکہ آں پیربالتخصیص علم دینی دارد وباعلما بد بودن ولوندی نمودن نچنداں بدست کہ بگفتن آید ۔
پانزدہم : یہ کہ وہ معمر بالخصوص علمِ دین سے بہرہ ور ہے ، اور علماء کے ساتھ بُرا ہونا اور اُنکے ساتھ بُرائی کرنا اتنا بُرا ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
سرورعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماید : ((لَیْسَ مِنْ أُمَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَا وَیَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّہُ)) ([3]) از امت من نیست آنکہ تعظیم نکند بزرگ ما را وشفقت ننماید خورد ما را وحق نشناسد عالم ما را ۔
سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ’’وہ شخص میری اُمت میں سے نہیں جو ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا، اورہمارے بچے پر مہربانی نہیں کرتا اور ہمارے عالم کا حق نہیں پہچانتا ۔ ‘‘
أخرجہ أحمد في ’’المسند‘‘ والحاکم في ’’المستدرک‘‘ والطبراني في ’’الکبیر‘‘ عن عبادۃ بن الصامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبسند حسن ۔
اسے امام احمد نے ’’مسند‘‘، حاکم نے ’’مستدرک‘‘ اورطبرانی نے ’’کبیر‘‘ میں عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا ۔
وفرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : ((ثَلاَثَۃٌ لَا یَسْتَخِفُّ بِحَقِّھِمْ إِلَّا مُنَافِقٌ : ذُو الشَّیْبَۃِ فِي الْإِسْلاَمِ وَذُوالْعِلْمِ وَإِمَامٌ مُقْسِطٌ)) ([4]) سہ کسانند کہ سبک نگیرد حق ایشاں را مگرمنافق یکے آنکہ دراسلام مویش سپیدشد، دوم عالم، سوم پادشاہ عادل ۔ أخرجہ الطبراني عن أبي أمامۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بطریق حسّنھا الترمذي لغیر ھذا المتن([5]) ۔
اور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’تین شخص ہیں جن کے حق کو صرف منافق ہی ہلکا جانتاہے (۱) وہ مسلمان جس کے بال سفید ہو چکے ہیں (۲) عالم(۳) عادل بادشاہ ۔ ‘‘
طبرانی نے اسے ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا جسکی تحسین امام ترمذی نے اس حدیث کے متن کے علاوہ سے کی ہے ۔
شانزدھم : آنکہ آں ذی علم بالخصوص سیدست وتعظیم ایں نسل طاہر ونسب فاخر از
[1] ’’المعجم الکبیر‘‘، الحدیث : ۸۱۵۴، ج۸، ص۳۰۸ ۔
[2] ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الأدب، الحدیث : ۴۸۴۳، ج۴، ص۳۴۴ ۔
[3] ’’المسند‘‘ ، الحدیث : ۲۲۸۱۹، ج۸، ص۴۱۲، و’’المستدرک‘‘، کتاب العلم، الحدیث : ۴۲۹، ج۱، ص۳۲۷ ۔
[4] ’’المعجم الکبیر‘‘، عبید اللّٰہ بن زحر ۔ ۔ ۔ إلخ، الحدیث : ۷۸۱۹، ج۸، ص۲۰۲ ۔
[5] انظر السند في ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الزہد، الحدیث : ۲۴۱۴، ج۴، ص۱۸۲، و’’الترغیب والترہیب‘‘، کتاب العلم، الحدیث : ۱۱، ج۱، ص۶۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع