30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وفرمودہ است صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : ((إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ أَوْ قَالَ : اَلْعُشْبَ)) ([1])دور باشید ازحسد کہ حسد می خورد حسنات راچنانکہ میخورد آتش ہیزم رایا فرمود گیاہ را ۔ أخرجہ أبوداود والبیہقي عن أبي ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، وابن ماجۃ وغیرہ عن أنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ولفظہ : ((اَلْحَسَدُ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ))([2]) ، الحدیث ۔
اورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’حسد سے دور رہو؛ کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑی کو، یا فرمایا : گھاس کو کھا جاتی ہے ۔ ‘‘
اسے ابو داؤد اوربیہقی نے ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اورابن ما جہ وغیرہ نے انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ۔ اور ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں : ((الحسد یأکل الحسنات ۔ ۔ ۔ إلخ))
’’حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسا کہ آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے ۔ ‘‘ الحدیث ۔
ودر’’مسند الفردوس‘‘ ازمعاویہ بن حیدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مرویست کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود : ((اَلْحَسَدُ یُفْسِدُ الْإِیْمَانَ کَمَا یُفْسِدُ الصَّبِرُ الْعَسْلَ))([3])حسدتباہ می کند ایمان راچنانکہ تباہ میکند صَبِر شہد را، وصَبِر بفتح صاد وکسر باء عصارہ درختے ست بہ تلخی معروف بازحسد نیست جزآنکہ از کسے زوال نعمتی خواہند کما عرفہ بذلک العلماء، پس بخودی خودقیام بازالۂ آں نمودن پیداست کہ وبال ونکالش تابکجا رسید نیست ۔
اور’’مسند الفردوس‘‘ میں معاویہ بن حیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سیّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’حسد ایمان کو اسی طرح تباہ کردیتا ہے جس طرح صَبِر(یعنی ایلوا) شہد کو ۔ ‘‘
صَبِرصاد پر فتحہ اور باء کے نیچے کسرہ ایک درخت کا انتہائی کڑوا نچوڑ ہے پھر حسد اسے کہتے ہیں کہ کسی کی نعمت کے چھن جانے کی آرزو کی جائے جیسے کہ علماء نے حسد کی تعریف کی ہے ، پھر کسی کی نعمت کو ختم کرکے خود اس کی جگہ پہنچنے کی خواہش کا وبال کہاں تک ہوگا!
سیزدہم : آنکہ شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بکمال رحمت وعنایتے کہ برحال مسلمانان دارد
سیزدھم : یہ کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو مسلمانوں کے ساتھ بیحد شفقت ہے اس کے باوجود آپروا نداشتہ است کہ خِطبہ برخِطبہ مسلمانے کنند یاسوم برسوم وے نمایند أخرج الأئمۃ أحمد والشیخان عن أبي ھریرۃ رضي اﷲ تعالی عنہ أنّ النبي صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال : ((لَا یَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ وَلَا یَسُوْمُ عَلَی سَوْمِہِ)) ([4])
وفي الباب عن عقبۃ بن عامر وعن ابن عمر رضي اﷲ تعالی عنھم ۔ یعنی یکے می خرد وبائع ومشتری برچیزے تراضی کردہ اند دیگرے آیدوبہا افزاید وخودببردیایکے مردزنے را خواستگاری کردہ است ورائے برتزویج قرار بگرفتہ دیگرے برخیزد وسببے انگیزد ومخطوبۂ اورابحبالۂ خود کشد ایں ھمہ ممنوع
نے اس بات کو جائز نہ رکھا کہ ایک مسلمان نے کسی عورت کو نکاح کا بیغام دے رکھا ہو تو دوسرا بھی دے دے یا ایک آدمی سودا کر رہا ہو دوسرا بھی اسی کاسودا کرنے لگ جائے ، اسے امام احمد، بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’کوئی شخص اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام نہ دے اور نہ ہی اس کی بولی پر بولی لگائے ‘‘اس سلسلہ میں عقبہ بن عامر اور ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
[1] ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الأدب، باب في الحسد، الحدیث : ۴۹۰۳، ج۴، ص۳۶۱، ’’شعب الإیمان‘‘، باب في الحثّ علی ترک الغلّ والحسد، الحدیث : ۶۶۰۸، ج۵، ص۲۶۶ ۔
[2] ’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب الزہد، باب الحسد، الحدیث : ۴۲۱۰، ج۴، ص۴۷۳ ۔
[3] ’’کنز العمال‘‘، کتاب الأخلاق، الحدیث : ۷۴۳۷، ج۲، ص۱۸۶، و’’کشف الخفاء‘‘، حرف الحاء المھملۃ، الحدیث : ۱۱۲۹، ج۱، ص۳۱۷ ۔
[4] ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب البیوع، باب لا یبیع... إلخ، الحدیث : ۲۱۴۰، ج۲، ص۲۹، ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب النکاح، الحدیث : ۱۴۰۸، ص۷۳۲ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع