30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یتقدم علیہ في مشیہ ۔ ([1])
’’درّ مختار‘‘ کے حاشیے ’’ردّ المحتار‘‘ میں ’’منح الغفار‘‘ سے انہوں نے ’’فتاوی بزازیہ‘‘ سے انہوں نے امام زندویستی سے نقل کیاکہ : عالم کا حق جاہل پر اور استاذ کا حق شاگرد پر برابر ہے وہ یہ ہے کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اوراس کی جگہ پرنہ بیٹھے اگرچہ وہ موجود نہ ہو اور اس کی بات کو رَد نہ کرے اور چلنے میں اس سے آگے نہ ہو ۔
پس چگونہ روا باشد کہ اوستاد را بزور ازمنصبش افگنند وخودبجایش برآمدہ لافہا زنند حالانکہ ازمجلس تا معاش واز منصب تافراش فرقے کہ ہست پیداست ۔
لہٰذا کس طرح جائز ہوگا کہ استاذ کو طاقت کے ذریعے اس کے مرتبے سے گرا کر خود اس کی جگہ بیٹھا جائے اور ڈینگیں ماری جائیں حالانکہ بیٹھنے کی جگہ اور معاش میں اسی طرح بستر اور مرتبے میں واضح فرق ہے (یعنی جب استاذ کی جگہ اور اس کے بستر پر بیٹھنا نہیں چاہئے تو اس کے ذریعۂ معاش اور مرتبے کو چھیننا کس طرح درست ہوگا؟)
نھم : ہمچنیں فرمودہ اندکہ تلمیذ را در رفتن وسخن گفتن براوستاد تقدم وسبقت نمی رسد کما سمعت آنفاً پس چساں گوارا آید کہ اورا بالجبر پسترنمایند وخودپیش وبیش گرفتہ برمنصۂ امامت برآیند ۔
نہم : اسی طرح علماء نے یہ بھی فرمایاہے کہ شاگرد کو بات کرنے اور چلنے میں استاذ سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے جیسے کہ ابھی گزرا، پھر یہ کس طرح درست ہوگا کہ استاذ کو مجبور کرکے پیچھے ہٹادیا جائے اور خود منصبِ امامت سنبھال لیا جائے ؟
دھم : آنکہ سیدموصوف گو اوستاد ایں کس مباش اما آخر مسلمانیست وایں کار کہ فلاں خواست بالبداہت موجب ایذائے اوست وایذائے مسلم بے وجہ شرعی حرام قطعی قال اللہ تعالٰی : {وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸)}([2]) آنانکہ آزار دہند مردان مومن وزنان مومنہ رابے
دہم : یہ کہ سید موصوف اگرچہ اس شخص کے استاذ نہ ہوں آخر مسلمان تو ہیں اور یہ کام جو اس شخص نے اختیار کیا ہے واضح ہے اس میں سید صاحب کی تکلیف ہے اور مسلمان کو بغیر کسی شرعی و جہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے اللہ تعالٰی نے فرمایا : ’’اور وہ لوگ جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں بے شک انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا‘‘ ۔
جرم پس بہ تحقیق کہ بہتان وگناہ آشکارا برخود برداشتند، سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماید : ((مَنْ آذَی مُسْلِمًا فَقَدْ آذَانِيْ وَمَنْ آذَانِیْ فَقَدْ آذَی اللہَ)) ([3]) ہرکہ مسلمانے را آزار داد مرا اذیت رسانید وہرکہ مرااذیت رسانید حق تعالٰی را ایذا کرد، اے وہرکہ سبحانہ را ایذا کرد پس سرانجام ست کہ بگیرد او را
أخرجہ الطبراني في ’’الأوسط‘‘ عن أنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بسند حسن ۔
سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
’’جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالٰی کو تکلیف دی ۔ ‘‘
یعنی جس نے اللہ تعالٰی کو تکلیف دی با لآخر اللہ تعالٰی اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا ۔
اسے طبرانی نے ’’اوسط‘‘ میں حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے بسندِ حسن روایت کیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع