30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بن عبد اللہ البجلي رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([1]) وناپذیراشدن نمازش دراحادیث کثیرہ واردست کحدیث ’’مسلم‘‘ عنہ([2]) وحدیث
اور واضح ہے کہ آقا سے بھاگ جانا بہت بڑا گناہ ہے حتی کہ سیّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بھاگنے والے غلام کو کافر فرمایا ہے جیسے کہ امام مسلم نے جریر بن عبد اللہ بَجلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیاہے اور بھاگنے والے غلام کی نمازوں کا نامقبول ہونا بہت سی حدیثوں میں وارد ہے جیسے کہ امام مسلم نے جریر بن عبد اللہ سے ، ’’الترمذي’’ عن أبي أمامۃ وحدیث ’’الطبراني‘‘ و’’ابنَي خزیمۃ‘‘ و’’حبان‘‘ عن جابر وحدیث ’’الحاکم‘‘ و’’المعجمَین الأوسط والصغیر‘‘ عن ابن عمر رضي اللہ تعالی عنھم کلّھم عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم والسرد یطول ۔
امام ترمذی نے ابو اما مہ سے ، طبرانی، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے حضرت جابر سے ، حاکم، ’’معجم اوسط‘‘ اور’’ معجم صغیر‘‘ نے ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے ذریعے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا، تمام روایات کے نقل کرنے سے طوالت پیدا ہوگی ۔
ھفتم : خود رابراوستاد فضل می نہد وایں خلاف مامورست، أخرج الطبراني في ’’الأوسط‘‘ وابن عدی في ’’الکامل‘‘ عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : ((تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَتَعَلَّمُوْا لِلْعِلْمِ السَّکِیْنَۃَ وَالْوَقَارَ وَتَوَاضَعُوْا لِمَنْ تَعَلَّمُوْنَ مِنْہُ)) ([3]) علم آموزید وبہر علم سکون ومہابت آموزید وپیش اوستاد کہ شما را تعلیم کردہ است تواضع وفروتنی ورزید بخردان سعادتمند
ہفتم : یہ کہ اپنے آپ کو استاذ سے افضل قراردیتا ہے اور یہ خلافِ مامور ہے طبرانی نے ’’اوسط‘‘ میں اور ابن عدی نے ’’کامل‘‘ میں ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیاکہ : ’’علم سیکھو اور علم کے لئے ادب واحترام سیکھو، جس استاد نے تجھے علم سکھایا ہے اس کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیار کرو ۔ ‘‘ عقلمند اور سعادت مند اگر استاذ سے بڑھ بھی جائیں تو اسے استاذ کا فیض اگربر اوستاد چرباندہم ازبرکت وفیض اوستاد دانند وبیشتر ازپیشتر برروئے برخاک پایش مالند،
اور اس کی برکت سمجھتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ استاذ کے پاؤں کی مٹی چہرے پر ملتے ہیں ۔
ع کاخر ای بادصبا ایں ہمہ آوردۂ تست
ع آخر اے بادِ صبا! یہ سب تیرا ہی احسان ہے
وبیخرداں شریر ولوند چوں سرپنجۂ توانائی یابند برپدر پیر بسرہنگی شتابند وسراز خط فرمانش تابند زود بینی کہ چوں بہ پیری رسند کیفرکفران ازدست خود چشند کما تدین تدان، وَلَعَـذَابُ الآخـِرَۃِ أَشَـدُّ وَأَبْقَی
بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت وتوانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظر آجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جزا چکھیں گے ، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے اور آخرت کا عذاب سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے ۔
ھشتم : آنکہ علما فرمودہ اند ازحق اوستاد برشاگرد آنست کہ برفراش او نہ نشینداگرچہ اوستاد حاضرنہ باشد،
ہشتم : یہ کہ علماء فرماتے ہیں کہ استاذ کا شاگرد پر یہ بھی حق ہے کہ استاذ کے بستر پر نہ بیٹھے اگرچہ استاذ موجود نہ ہو ۔
في ’’ردّ المحتار حاشیۃ للدرّ المختار‘‘ عن ’’منح الغفار‘‘ عن ’’الفتاوی البزازیۃ‘‘ عن الإمام الزندویستي قال : حق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السواء وھو أن لا یفتح الکلام قبلہ ولا یجلس مکانہ وإن غاب ولا یرد علیہ کلامہ ولا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع