30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علماء فرمودہ اند مردے صالح پسرش رامعلمی بمعلومے معین کرد ہمیں کہ فرزند سورۂ فاتحہ آموخت پدر چارہزار دینار بشکر فرستاد معلم گفت ہنوز چہ دیدہ اند کہ اینہا بخشیدہ اند پدرگفت زیں باز پسرم را معلم نباشی کہ عظمت قرآن در دل نداری، والعیاذ باللہ سبحانہ وتعالی ۔
علماء فرماتے ہیں ایک نیک آدمی نے اپنے لڑکے کو ایک استاد کے سپرد کیا ابھی لڑکے نے سورۂ فاتحہ ہی پڑھی تھی کہ باپ نے چار ہزار دینار شکریے کے طور پر بھیجے ، استاد نے کہا : ابھی آپ نے کیا دیکھا ہے کہ اتنی مہربانی فرمائی، باپ نے کہا : اس کے بعد میرے لڑکے کو ہر گز نہ پڑھانا کہ تمھارے دل میں ’’قرآن مجید‘‘ کی عزت ہی نہیں ہے ۔ اللہ کی پناہ جو پاک وبلند وبالا ہے ۔
پنجم : آنکہ باستاد بمقابلہ برآمدواینہم زائد ناسپاسی ست زیرا کہ اوترک شکرست وایں اتیان خلاف ’’ألا تری أنّ من لم یذکر النعمۃ فقد کفرھا کما أثبتنا
پنجم : یہ کہ استاذ کا مقابلہ کرنا یہ بھی ناشکری سے زائد ہے ؛کیونکہ ناشکری تو یہ ہے کہ شکر نہ کیا جائے اور مقابلے کی صورت میں بجائے شکر کے اس کی مخالفت بھی ہے دیکھئے جو شخص
بالأحادیث ومن قابلھا بإساء ۃ فقد زاد‘‘ وایں در رنگ عقوق باپدرست چراکہ اوستاد را در وزانِ پدر نہادہ اند لہٰذا مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمود((إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ بِمَنْزِلَۃِ الْوَالِدِ أُعَلِّمُکُمْ))([1])ہمیں ست کہ من شما را بجائے پدرم علم می آموزم شما را
أخرجہ أحمد والدارمي وأبوداود والنسائي وابن ماجۃ وابن حبان عن أبي ھریرۃ رضي اﷲ تعالی عنہ ۔
احسان کو پیش نظر نہیں رکھتا اس نے احسان کی ناشکری کی ہے جیسے کہ ہم نے احادیث سے ثابت کیا اور جس نے احسان کے بدلے برائی کی اس نے تو ناشکری سے بھی بڑا گناہ کیا اور یہ اسی طرح ہے کہ جیسے باپ کی نافرمانی کی جائے ؛ کیونکہ استاذ کو باپ کے برابر شمار کیا گیا ہے ، اسی لئے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’میں تمہارے لئے باپ کی حیثیت رکھتاہوں میں تمہیں علم سکھاتا ہوں ۔ ‘‘
اسے احمد، دارمی، ابو داؤد، نسائی، ابن ما جہ اور ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ۔
بلکہ علماء گفتہ اند حق اوستاد را بر حق والدین مقدم دارد کہ ازایشاں حیات ابدان ست وایں سبب حیات روح ست ۔
بلکہ علماء فرماتے ہیں کہ استاذ کے حق کو والدین کے حق پر مقدم رکھنا چاہئے کیونکہ والدین کے ذریعے بدن کی زندگی ہے اور استاذ روح کی زندگی کا سبب ہے ۔
في ’’عین العلم‘‘ : یبر الوالدین فالعقوق من الکبائر یقدم حق المعلم علی حقھما فھو سبب حیاۃ الروح اھ ملخصاً ۔
’’عین العلم‘‘ میں ہے : والدین کے ساتھ نیکی کرنی چاہئے کیونکہ ان کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے اور استاذ کے حق کو والدین کے حق پر مقدم رکھناچاہئے کیونکہ وہ روح کی زندگی کا ذریعہ ہے ۔ (ملخّصاً)
علامہ مناوی رحمہ اﷲ تعالٰی در’’تیسیر شرح جامع صغیر‘‘می آرد : ؎
علامہ مناوی رحمہ اللہ تعالٰی ’’جامع صغیر‘‘ کی شرح ’’تیسیر‘‘ میں نقل فرماتے ہیں کہ ؎
مَنْ عَلَّمَ النَّاسَ ذَاکَ خَیْرُ أَبٍ
ذَاکَ أَبُو الرُّوْحِ لَا أَبُوالنُّطَفِ([2])
’’جو شخص لوگوں کو علم سکھائے وہ بہترین باپ ہے ؛ کیونکہ وہ بدن کا نہیں روح کا باپ ہے ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع