30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ودر ابتدایٔ امرقرآن وغیرہ آموختن را وقعی نہ نہاد وموجب حقوق اوستادی ندانست آیا ایں چنیں کس سزائے امامت است یانہ، واگرباشد پس اولٰی بامامت آں سید ست یا ایں کس وبہرحال آیا روا باشدکہ آں پیر فقیہ، شریف، متقی رابے قصورے از منصب امامت بر اندازند وایں کس رابجایش مقرر سازند ومعلوم ست کہ دریں اضلاع آنچنانکہ منصب امامت موجب اعزاز وکرامت ست ہمچناں درمعزولی ازاں تذلیل واہانت ست اگر کسے برغلانیدن متصدی ایں کارشد شرعاً خاطی وآثم بود یا نہ؟ بَیِّنُوْا تُؤْجَرُوْا ۔
زیادہ بہتر وہ سید صاحب ہیں یا یہ شخص؟ بہر حال کیا یہ جائز ہے کہ اس معمر شریف فقیہ اور متقی (سید) کو بلا و جہ امامت سے ہٹادیں اور اس کی جگہ اس شخص کو مقرر کردیں ، اور یہ واضح ہے کہ اس علاقے میں جس طرح کسی کو امامت کے لئے مقرر کرنے میں اس کی عزت ہے اسی طرح اسے اِمامت سے برطرف کرنے میں اس کی توہین اور بے عزتی ہے اگر کوئی شخص بہکانے پر اس کا م کے درپے ہوجائے تو شرعاً گنہگار اور مجرم ہوگا یا نہیں ؟بیان فرمائیں اور اللہ تعالٰی سے اجر پائیں ۔ (ت)
الجواب : اللھم ھدایۃ الحق والصواب ہرکرا درکوچۂ علمگزرے وبرفقہ وحدیث نظرے ست روشن تر از سپیدۂ صبح می داند کہ آنکس بایں حرکات خودش دادِ ناحفاظیہا داد وبوجوہ چنددرچند قدم از دائرۂ شرع بیرون نہاد ۔ ویکے ناسپاسی اوستاد کہ بلائیست ہائل ودائیست قاتل وبرکات علم رامزیل ومبطل العیاذ باﷲ سبحانہ وتعالی ۔
اے اللہ! ہمیں حق اوردرست راستے پر چلا، جسے کوچۂ علم میں گزر اور فقہ وحدیث پر نظر ہے وہ صبح کی سفیدی سے بھی زیادہ واضح طور پر جانتا ہے کہ اس شخص نے اپنی ان حرکتوں سے نالائقی کا حق ادا کردیا ہے اور کئی وجوہ کی بنا پر شریعت کے دائرے سے قدم باہر رکھ چکا ہے ، اوّل : استاذ کی ناشکری جو کہ خوفناک بلا اور تباہ کن بیماری ہے اور علم کی برکتوں کو ختم کرنیوالی (خدا کی پناہ) ۔
سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمودہ است : ((لَا یَشْکُرُ اللہ مَنْ لَا یَشْکُرُ النَّاسَ)) ([1]) خدائے را شکر نہ کند آنکہ مردماں راسپاس نیاردأخرجہ أبو داود والترمذي وصحّحہ عن أبي ھریرۃ رضي اﷲ تعالی عنہ ۔
دوجہان کے سردار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہے : ’’وہ آدمی اللہ تعالٰی کا شکر بجا نہیں لا تا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا ۔ ‘‘ اسے ابوداود وترمذی نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ۔
وفرمودہ است صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ((مَنْ لَمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللہَ)) ہرکہ مردماں را شکرنہ کرد خدائے عزوجل راسپاس نیاورد، أخرجہ أحمد في ’’المسند‘‘ والترمذي في ’’الجامع‘‘ والضیاء في ’’المختارۃ‘‘بسند حسن عن أبي سعید الخدري رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وعبد اللہ بن أحمد في ’’زوائد المسند‘‘ عن النعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([2]) ۔
اورحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہے کہ : ’’جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ عز وجل کا شکر ادا نہیں کیا ۔ ‘‘
اس حدیث کو امام احمد نے ’’مسند‘‘ میں ، امام ترمذی نے ’’جامع‘‘ میں ، ضیاء نے ’’المختارہ‘‘ میں سند حسن کے ساتھ ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اور عبد اللہ بن احمد نے ’’زوائد المسند‘‘ میں نعمان بن بشیر سے نقل کیا ہے ۔
حق عزوجل فرماید : { لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(۷) }([3]) ہرآئینہ اگرسپاس آرید بیشک بیفزایم وبیشتر بخشم شمارا واگر ناسپاسی ور زید پس بدرستیکہ عذاب من سخت ست ۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع