دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq | والدین،زوجین اور استاذہ کے حقوق

book_icon
والدین،زوجین اور استاذہ کے حقوق

اوراگر اس کا حکم مباحات میں  ہے تو حتی الوسع([1]) اس کی بجاآوری میں  اپنی سعادت جانے اور نافرمانی کا حکم معلوم ہوچکا اس نے اسلام کی گرہوں  سے ایک گرہ کھول دی ۔  علماء فرماتے ہیں  جس سے اس کے استاد کو کسی طرح کی ایذا پہنچے وہ علم کی برکت سے محروم رہے گا اور اگر اس کے احکام واجباتِ شرعیہ ہیں  جب تو ظاہر ہے کہ ان کا لزوم([2]) اور زیادہ ہو گیا ان میں  اس کی نافرمانی صریح راہِ جہنم([3])ہے ،  وَالْعِیَاذُ بِاللہِ، وَاللہُ تَعَالَی أَعْلَمُ ۔

مسئلہ :  چہ می فرمایند علمائے دین اندریں  مسئلہ کہ درضلع ہزارہ از اضلاع پنجاب دستور آں  چنانست کہ اہل علم وتقوٰی  را در مساجد بہرامامت معین می کنند کہ ہم بمسجد نشینند واذان گویند وامامت نمایند وہرکہ ازطلبۂ علم آید او را درس قرآن عظیم وعلوم دینیہ  دہند

مسئلہ :  کیا فرماتے ہیں  علماءِ دین اس مسئلے میں  کہ پنجاب کے ضلع ہزارہ میں  رواج ہے کہ اہلِ علم وتقوی کو امامت کیلئے مقرر کرتے ہیں  وہ مسجد میں  رہتے ہیں  اذان کہتے ہیں  امامت کراتے ہیں  اور جو طالب علم آئے اسے قرآن مجید اوردینی علوم پڑھاتے ہیں ، چونکہ وہ اپنی ضروریات پورا کرنے کی طرف توجہ نہیں  دے سکتے اس لئے  لوگ ان کی ضروریات وچوں  ایشاں  را از اشتغال بحوائج خود ہا باز می دارند  لاجرم تکفل معیشت آناں  می کنند وحسب مقدور ہدایا ونذور بخدمت ایشاں  می گزارند وہم بریں  معمول مردے شریف النسب کبیرالسن عالم دین  وورع متقی کہ از نسلِ پاک حضرات سادات ست بمسجدے از زمانہ دراز مقرر  وکارہائے مذکورہ بحسن انتظام انجام میدارد وطلبہ راقرآن وفقہ می آموخت مردے ازقوم گوجرکہ دریں  دیار از  اراذل  واجلاف معدود شوند پیشۂ آبائی ترک گرفتہ راہ تعلم پیش گرفت وبریں سیدقرآن  خواند و’’کنز‘‘ و’’قدوری‘‘ وغیرہما کتب دینیہ نیزباز

 پورا کرنے کا ذمّہ لے لیتے ہیں  اور حسب ِتوفیق ہدیے اور نذرانے ان کی خدمت میں  پیش کرتے ہیں  اسی طریقے پر ایک شخص شریف النسب، عمر رسیدہ، عالمِ دین، متقی، پرہیز گار جو سادات کی نسلِ پاک سے ہے مدّت سے ایک مسجد میں  مقرر تھا اور مذکورہ بالا کام اچھی طرح ادا کرتا تھا طلبہ کو ’’قرآن مجید‘‘ اور فقہ پڑھاتا تھا گوجر قوم کے ایک آدمی نے کہ جنہیں  یہاں  حقیر وکم ذات سمجھا جاتا ہے اپنا آبائی پیشہ ترک کر کے علم حاصل کرنا شروع کردیا اور انہی سید صاحب سے ’’قرآن مجید‘‘، ’’کنز‘‘ اور’’قدوری‘‘ وغیرہما دینی کتب پڑھیں  پھر اسے فلسفے کا جنون سوار ہوا تو کچھ لوگوں  سے طبعیات والٰہیات کا ایک حصہ پڑھا جیسے کہ ہندوستان کے مدارس کا طریقہ ہے  ہوائے فلسفہ درسرش جنبید وبربعضے مردمان چیزے ازطبعیات والٰہیات آناں  آنچناں  کہ مقرر درس ہندیان ست خواند وخود را عالم کبیر گرفت وباوستاد اول کہ معلم علم دین بود بسرکشی برآمد و ازطمع ادرار معلوم کہ نصیب ائمہ می شود بروے ثابت شود از منصب امامت برآوردن وخود بجائے اوقیام کردن خواست وبربنائے حرفے چند کہ از علوم فلسفیہ آموختہ است خود را برآں  فقیہ فضل نہاد و اولٰی تربامامت  او نمود  حالانکہ زنہار نہ درعلم دین ہمسنگ اوبود نہ در وَرع وتقوٰی ہمرنگ او حتی کہ از حق اوستادیش منکر شد

 اور اپنے آپ کو بہت بڑاعالم سمجھناشروع کردیا اور جس استاذ نے اسے علمِ دین پڑھایا تھا اس کا مقابلہ شروع کردیا تھا اور آمدنی کے لالچ میں جو کہ ائمۂ کرام کو دی جاتی ہے ،  استاذ کو برطرف کرواکر خود اس کی جگہ مقرر ہونے کی کوشش شروع کردی اور فلسفے کے چند مسائل پڑھ لینے کی و جہ سے اس فقیہ پر اپنی فضیلت بگھارنے لگا اور اپنے آپ کو امامت کا زیادہ حقدار دکھانے لگا حالانکہ نہ علمِ دین میں  اس کے برابر ہے نہ تقوی وپرہیز گاری میں  حتی کہ اس کے حقِ استاذی کا انکار کردیا اور ابتداء میں  ’’قرآن مجید‘‘ وغیرہ پڑھنے کو کچھ اہمیت نہ دی اور نہ ہی اس بناء پر اس کے حقِ استاذی کو تسلیم کیا، آیا ایسا شخص امامت کے لائق ہے یا نہیں ؟ اور اگر امامت کے لائق ہے تو امامت کے لئے

 



[1]     جہاں تک ممکن ہو سکے ۔

[2]     یعنی ان کا پختہ ہونا ۔

[3]     واضح طور پر جہنم کا راستہ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن