دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq | والدین،زوجین اور استاذہ کے حقوق

book_icon
والدین،زوجین اور استاذہ کے حقوق

شخص نے دوسرے کو کہا :  تم مجھے اپنا ہر حق معاف کردو، اس نے معاف کردیا، اگر صاحبِ حق کو علم ہے پھر تو معافی مانگنے والا قضاء ًودیانۃً(یعنی فیصلے کے اعتبار سے اور اللہ کے نزدیک بھی) بری ہو جائے گااور اگر اسے علم نہیں  توبالاتفاق یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ قضاء ً بری ہو گیا، رہا دیانۃً (اللہ تعالٰی کے نزدیک) تو امام محمد کے نزدیک دیانۃًبری نہیں  ہو گا اور امام ابویوسف کے نزدیک بری ہوجائے گا اسی پر فتویٰ ہے ، انتہی ۔ اس میں  اعتراض ہے کہ یہ فقیہ ابو اللیث کے مختار کے خلاف ہے ہو سکتا ہے ان کا قول تقویٰ پر مبنی ہو ۔  ’’منح الروض‘‘ کا کلام ختم ہوا ۔ ‘‘

أقول :  وفي مخالفتہ لما اختار الفقیہ نظر فإنّ الکلام ھاھنا في البراء ۃ من  الحقوق المجھولۃ لصاحبھا أصلاً وثمّہ فیما إذا ظنّ مقداراً وکان  الواقع أزید وبینھما بون بیّن  فإنّ من جعل في حلّ مطلقاً لم یرد خصوص  ما في علمہ أمّا من جعل في حلّ  من حقّ معلوم لہ فإنّما یذھب ذھنہ إلی قدر ما في علمہ، واللہ تعالٰی أعلم ۔

اقول (میں  کہتا ہوں ) کہ فقیہ ابواللیث کے مختار کے خلاف ہونے میں  کلام ہے کیونکہ ’’خلاصہ‘‘ میں  اس بارے میں  گفتگو ہے کہ ایک شخص کو حقوق کا بالکل علم نہیں  وہ انھیں  معاف کر دیتا ہے اور فقیہ ابو اللیث کا کلام اس میں  ہے کہ ایک شخص کے گمان میں  حقوق کی ایک مقدار ہے جبکہ وہ درحقیقت زیادہ تھے اور ان دونوں  صورتوں  میں  بہت بڑا فرق ہے کیونکہ جو شخص مطلقاً اپنے حقوق معاف کردیتا ہے اس کا ارادہ یہ نہیں  ہوتا کہ میں  صرف وہ حقوق معاف کر رہا ہوں  جو میرے علم میں  ہیں  اور جو شخص کسی معین حق کو معاف کرتا ہے تو اس کا ذہن اسی طرف جاتا ہے کہ جتنا مجھے علم ہے اسی قدر معاف کر رہا ہوں ۔  واللہ تعالٰی اعلم(ت)

          نیز’’منح الروض‘‘ میں  ہے :

ھل یکفیہ أن یقول :  اغتبتک فاجعلني في حلّ أم لا بدّ أن یبیّن مااغتاب؟ ففي ’’منسک ابن العجمي‘‘ :

کیا یہ کافی ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے کہ میں  نے تمھاری غیبت کی ہے مجھے معاف کردو، یا یہ ضروری ہے کہ یہ بھی بتائے  لا یعلمہ بہا إن علم أنّ إعلامہ یثیر فتنۃ، ویدلّ علیہ أنّ الإبراء عن الحقوق المجھولۃ جائز عندنا لکن سبق أنّہ ھل یکفیہ حکومۃ أودیانۃ؟ اھ، ما في ’’منح الروض([1]) ‘‘ ۔  

أقول :  وفي جریان الخلاف المذکور ھاھنا نظر فإنّ الغیبۃ لا تصیر من حقوق العبد ما لم تبلغہ وإذا بلغتہ لم تکن من الحقوق المجھولۃ وقد قال في ’’المنح‘‘ نفسہ :  ما نصّہ قال الفقیہ أبو اللیث :  قد تکلّم الناس في توبۃ المغتابین ھل تجوز من غیر أن یستحل من صاحبہ؟ قال بعضھم :  یجوز، وقال بعضھم :  لا یجوز، وھو عندنا علی  وجھین أحدھما

کہ میں  نے تمھاری یہ غیبت کی ہے ، ابن العجمی کے ’’منسک‘‘ میں  ہے کہ اگر یہ سمجھتا ہے کہ غیبت کے تفصیلاً بتانے سے فتنہ پیدا ہوگا تو اس کا اظہار نہ کرے ، ہمارے نزدیک نا معلوم حقوق کے معاف کرنے کا جواز اس پر دلالت کرتا ہے لیکن یہ بات گزرچکی ہے کہ آیا فیصلے کے اعتبار سے کافی ہے یا دیانت کے طورپراھ ۔ (اعلی حضرت قدس سرہٗ فرماتے ہیں )اقول (میں  کہتا ہوں کہ) یہاں  گزشتہ اختلاف کے جاری ہونے میں  کلام ہے ؛کیونکہ غیبت اس وقت تک بندے کا حق نہیں  بنتی جب تک اسے نہ پہنچ جائے ، جب پہنچ جائے تو نا معلوم حقوق میں  سے نہ رہے گی، خود ’’منح الروض‘‘ میں  ہے کہ فقیہ ابواللیث نے فرمایا کہ غیبت کرنے والا صاحب ِحق (جس کی غیبت کی گئی) سے معافی مانگے بغیر توبہ کرے تو اس میں  لوگوں  نے مختلف باتیں  کہی ہیں ، بعض إن کان ذلک القول قد بلغ  إلی الذي اغتابہ فتوبتہ أن یستحل منہ وإن لم یبلغ إلیہ فلیستغفر اللہ سبحانہ ویضمر أن لا یعود إلی مثلہ ۔  

وفي ’’روضۃ العلماء‘‘ :  سألت أبا محمد رحمہ اللہ تعالی فقلت لہ :  إذا تاب صاحب الغیبۃ قبل وصولہا إلی المغتاب عنہ ہل تنفعہ توبۃ؟ قال :  نعم! فإنّہ تاب قبل أن یصیر الذنب ذنباً أي :  ذنباً یتعلّق بہ حقّ العبد؛ لأنّھا إنّما تصیر ذنباً إذا بلغت إلیہ، قلت :  فإن بلغت إلیہ بعد توبتہ؟



[1]     ’’منح الروض الأزہر شرح الفقہ الأکبر‘‘، التوبۃ وشرائطہا، ص۱۶۰ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن