دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Walidain, Zaujain aur Asatza kay Huqooq | والدین،زوجین اور استاذہ کے حقوق

book_icon
والدین،زوجین اور استاذہ کے حقوق

الجواب

          عام حقوق کی معافی جو زید نے ہندہ اور ہندہ نے زید کو کی ان میں ہندہ کے حقوقِ مالیہ مثل مہر ودیگر دُیُون کی معافی تو اجازتِ وارثانِ ہندہ پر موقوف رہے گی ([1])  کما بیّناہ في الھبۃ من ’’فتاوانا‘‘([2]) (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتا ویٰ میں ہبہ کے باب میں بیان کیا ہے ۔ ت) ان کے سوا ہندہ کے حقوقِ غیر مالیہ اور زید کے حقوقِ مالیہ وغیرِ مالیہ جو کچھ معاف کنندہ ([3]) زید خواہ ہندہ کے علم میں تھا وہ سب معاف ہو گیا اور جو علم میں نہ تھا مگر معمولی حقوق سہل و آسان سے تھا کہ بالخصوص معلوم ہوتا تو معافی میں باک ([4])  نہ ہوتا وہ بھی معاف ہوگیا اور جو اتنا کثیر یا عظیم و شدید تھا کہ اگر تفصیلاًبتایا جائے تو صاحبِ حق معاف نہ کرے ایسے عام مجمل لفظ میں ان حقوق کی معافی ہوجانا علماء میں مختلف فیہ ہے ([5]) بعض بنظرِ ظاہرِ لفظ سب کی معافی مانتے ہیں اور بعض بالخصوص تفصیلاً ان کا بتا کر معافی مانگنا ضروری جانتے ہیں اوّل اَوسع ہے اور ثانی اَحوط([6]) ۔  

            ’’منح الروض الازہر‘‘ میں ہے :

ھل یکفیہ أن یقول لک عليّ دین فاجعلني في حلّ أم لا بدّ أن یعیّن مقدارہ؟ ففي ’’النوازل‘‘ :  رجل لہ علی آخر دین وھو لا یعلم بجمیع  ذلک فقال لہ المدیون :  أبرئني ممّا لک عليّ، فقال الدائن :  أبرأتک، قال نصیر :  لا یبرأ إلاّ عن  مقدار ما یتوھّم أي :  یظنّ أنّہ علیہ، وقال محمد بن سلمۃ :  یبرأ عن الکلّ، قال الفقیہ أبو اللیث :  حکم القضاء ما قالہ محمد بن سلمۃ، وحکم الآخرۃ ما قالہ نصیر، وفي ’’القنیۃ‘‘ :  من علیہ حقوق فاستحلّ صاحبھا ولم یفصّلھا فجعلہ في حلّ یعذر إن علم أنّہ لو فصّلہ یجعلہ في حلّ وإلاّ فلا، قال بعضھم :  إنّہ حسن وإن روي أنّہ یصیر فيحلّ مطلقاً، وفي ’’الخلاصۃ‘‘ :   ’’رجل قال لآخر :  حلّلني من کلّ حقّ ھو  لک عليّ، وأبرأہ إن کان صاحب الحقّ

’’کیا مقروض کے لئے یہ کافی ہے کہ قرضخواہ سے کہے کہ مجھ پر تمہارا قرض ہے مجھے معاف کردے یا ضروری ہے کہ قرض کی مقدار معین کرے ؟’’نوازل‘‘ میں  ہے کہ ایک آدمی کا دوسرے پر قرض ہے اور اسے تمام قرض کا علم نہیں  مقروض اسے کہتا ہے کہ تُو مجھے اپنا قرض معاف کردے ، اس نے کہا :  میں  نے تجھے معاف کردیا، نصیر کہتے ہیں  کہ اسی قدر معاف ہو گا جتنا کہ اس کے گمان میں  تھا، محمد بن سلمہ کہتے ہیں  کہ تمام معاف ہوجائے گا، فقیہ ابو اللیث نے فرمایا :  قاضی کا فیصلہ وہی ہے جو محمد بن سلمہ کا قول ہے اور آخرت کا حکم وہ ہے جو نصیر نے فرمایا ۔  ’’قنیہ‘‘ میں  ہے کہ جس شخص پر کسی کے کچھ حقوق ہوں  تو وہ صاحبِ حق سے کہے کہ مجھے معاف کردے اور حقوق کی تفصیل نہ کرے صاحبِ حق اسے معاف کردے تو اگر یہ معلوم ہو کہ صاحبِ حق حقوق کی تفصیل کو جان کربھی معاف کردے گا تو معاف ہوجائیں  گے ورنہ نہیں ۔

عالماً بہ بریٔ حکماً ودیانۃً، وإن لم یکن  عالماً بہ یبرأ حکماً بالإجماع، وأمّا دیانۃً فعند محمد رحمہ اللہ تعالٰی لا یبرأ دیانۃ، وعند أبي یوسف-رحمہ اللہ تعالٰی- یبرأ وعلیہ الفتوی‘‘([7])، انتھی ۔  وفیہ أنّہ خلاف ما اختار أبو اللیث ولعلّ قولہ مبنيّ علی التقوی([8]) اھـ. ما في ’’منح الروض‘‘ ۔

بعض علماء نے فرمایا :  یہ تفصیل عمدہ ہے اگرچہ یہ بھی روایت ہے کہ اسے بہرصورت حقوق معاف ہو جائیں  گے ۔  اور ’’خلاصہ‘‘ میں  ہے کہ ایک



[1]     مالی حقوق مثلاً مہر اور دوسرے قرضوں  کی معافی تو ہندہ کے وارثوں  کی اجازت پر ٹھہرے گی ۔

[2]     انظر ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، کتاب الہبۃ، ج۱۹، ص۲۸۵ و ۳۸۵ ۔

[3]     معاف کرنے والے ۔

[4]     اندیشہ ۔

[5]     مختصر الفاظ سے معافی ہونے یا نہ ہونے میں  علماء کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔

[6]     پہلی صورت (جس میں  مختصر الفاظ سے حقوق معاف کرائے گئے ) میں  اس بات کی گنجائش ہے کہ حقوق معاف ہو بھی سکتے ہیں  اور نہیں  بھی جبکہ دوسری صورت (جس میں  حقوق تفصیل سے بیان کر کے معافی طلب کی ہو ) میں  زیادہ احتیاط ہے کہ حقوق معاف ہو جائیں  گے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  ۔

[7]     ’’خلاصۃ الفتاوی‘‘، کتاب

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن