30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گدھے کی طرح کیں پھر قبر بند ہو گئی، ایک بڑھیا بیٹھی کات رہی تھی([1])، ایک عورت نے مجھ سے کہا : ان بڑی بی کو دیکھتے ہو؟ میں نے کہا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ کہا : یہ قبر والے کی ماں ہے وہ شراب پیتا تھا جب شام کو آتا ماں نصیحت کرتی کہ اے بیٹے ! خدا سے ڈر، کب تک اس ناپاک کو پئے گا؟ یہ جواب دیتا کہ تُو تو گدھے کی طرح چِلّاتی ہے ، یہ شخص عصر کے بعد مرا جب سے ہر روز بعدِ عصر اس کی قبر شق ہوتی ہے اور یُوں تین آوازیں گدھے کی کر کے پھر بند ہو جاتی ہے ۔ رواہ الأصبھاني وغیرہ([2]) (اصبہانی وغیرہ نے اسے روایت کیا ہے ۔ ت)
اسی طرح غصب و کذب و سرقہ کی حرمتیں([3]) ضروریاتِ دین سے ہیں([4])ایسے شخص کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے ، مکروہِ تحریمی قریب بحرام اور واجب الاعادہ ہے کہ نادانستہ([5]) پڑھ لی ہو تو پھیرنا واجب ہے ۔ ’’صغیری‘‘ میں ہے :
یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم([6]) ۔
فاسق کو امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے ۔ ۱۲ ’’صغیری‘‘ (ت)
’’غنیہ‘‘ میں ہے :
لو قدّموا فاسقاً یأثمون بناءً علی أنّ کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم([7]) ۔
فاسق کو امام بنانے والے گنہگار ہوں گے ؛ کیونکہ اسے امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے ۱۲’’غنیۃ‘‘ (ت)
’’درِّمختار‘‘ میں ہے :
کلّ صلاۃ أدّیت مع کراھۃ التحریم وجب إعادتھا([8]) ۔
ہر وہ نماز جو کراہت ِتحریمہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۱۲
ایسے اشد فاسق فاجر([9]) سے شرعاً بغض رکھنے ([10])کا حکم ہے اور جس بات میں اس کا اعزاز واکرام نکلے بے ضرورت ومجبوری ناجائز وممنوع ہے ۔ ’’تبیین الحقائق‘‘ و ’’مراقی الفلاح‘‘ و ’’فتح المعین‘‘ و ’’حاشیہ درِمختار‘‘ للعلامۃ الطحطاوی وغیرہا میں ہے :
الفاسق وجب علیھم إھانتہ شرعاً([11]) ۔ شرعی طور پر فاسق کی توہین واجب ہے ۱۲ ۔
اس کی دعوت کرنا، کرانا اس کے یہاں دعوت کھاناکچھ نہ چاہیے ’’ سنن ابی داؤد‘‘ و’’جامع ترمذی ‘‘میں عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہے ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ((لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ إِسْرَائِیْلَ فِي الْمَعَاصِيْ نَھَتْھُمْ عُلَمَاؤُھُمْ فَلَمْ یَنْتَھُوْا فَجَالَسُوْھُمْ فِيْ مَجَالِسِھِمْ وَآکَلُوْھُمْ وَشَارَبُوْھُمْ فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ فَلَعَنَھُمْ عَلَی لِسَانِ دَاوُدَ وَعِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ([12]) ۔
جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے ان کے علماء نے منع کیا وہ باز نہ آئے یہ علماء ان کے پاس ان کے جلسوں میں بیٹھے ان کے ساتھ کھانا کھایا، پانی پیا تو
[1] چرخے پر روئی سے دھا گہ بُن رہی تھی ۔
[2] ’’الترغیب والترھیب ‘‘، کتاب البر والصلۃ، الحدیث : ۱۷، ج۳، ص۲۲۶، (بحوالہ اصبہانی) و’’شرح الصدور‘‘ عن الأصبہاني، باب عذاب القبر، ص۱۷۲ ۔
[3] ناجائز قبضہ کرنے ، جھوٹ بولنے اور چوری کے حرام ہونے کے احکام ۔
[4] ضروریات دین سے مراد وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص وعام جانتے ہوں جیسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت، انبیاء کی نبوت، جنت ونار، حشرونشر وغیرہ، مثلاً یہ اعتقاد ہو کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم خاتم النبیین ہیں حضور کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا ۔ (’’بہارِ شریعت‘‘، ایمان وکفر کا بیان، ج۱، ص۱۷۲، ملتقطاً)
[5] بُھولے سے ۔
[6] ’’صغیري شرح منیۃ المصلّي‘‘، مباحث الإمامۃ، ص۲۶۴ ۔
[7] ’’غنیۃ المتملي‘‘، کتاب الصلاۃ، فصل في الإمامۃ، ص۵۱۳ ۔
[8] ’’الدر المختار‘‘، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۳۰، بتغیر قلیل ۔
[9] ایسے سخت گنہگاربدکار شخص ۔
[10] نفرت رکھنے ۔
[11] ’’مراقي الفلاح‘‘، ص۷۰، ’’حاشیۃ الطحطاوي علی الدرّ ‘‘، کتاب الصلاۃ، باب$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع